سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا بل منظور

15 اپریل 2018

سینٹ میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا بل منظور ، جے یو آئی (ف) اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کا اجلاس سے واک آﺅٹ، چیئرمین سینٹ کی سیاسی جماعتوں کو مبارکباد۔
اس فیصلے سے جہاں فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے میں مدد ملے گی وہاں یہ بل سے فاٹا کے صوبہ خیبر پی کے میں انضمام کی جانب عملی پیش رفت بھی ہے۔ خود فاٹا کے عوام اور سینیٹرز فاٹا کو صوبہ خیبر پی کے میں شامل کرنے کا مطالبہ زوروشور سے کررہے ہیں۔ خیبر پی کے اسمبلی اور تمام سیاسی جماعتیں بھی اسکی حمایت کر رہی ہیں مگر دو ایسی سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں جو اس عمل کی مخالفت کرکے اپنی جداگانہ سیاست چمکا رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی ذاتی مفادات اور وجوہات کی بنیاد پر فاٹا کے عوامی مطالبے کی مخالفت میں اپنا موقف منوانے کی ضد کررہے ہیں جس کو خود فاٹا کے عوام میں پذیرائی نہیں مل رہی۔ اب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ فاٹا تک بڑھانے سے انصاف کی فراہمی میں فاٹا کے عوام کو مدد اور سہولت ملے گی اور انکے قانونی مسائل کے حل میں تیزی آئےگی۔ امید ہے حکومت فاٹا کا خیبر پی کے میں انضمام کا معاملہ بھی عوامی خواہشات کے مطابق جلد حل کرکے نیک نامی کمائے گی۔ فاٹا کے عوام خود قومی دھارے میں آنا چاہتے ہیں تو حکومت خوش دلی سے ان کا یہ دیرینہ مطالبہ بھی جلد پورا کر دے۔جے یو آئی (ف) اور پختونخواہ ملی پارٹی بھی اپنی مخالفت سے رجوع کرتے ہوئے خوش دلی سے فاٹا کے عوام کا ساتھ دیں۔