نوحہ

15 اپریل 2018

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے کہ وہ ہی مہربان اور رحم والا ہے ۔ آج کافی عرصہ بعد قلم ہاتھ میں آیا ہے اسی مقصد کیلئے کہ کوئی مضمون لکھوں ۔ برسوں بعد یہ خیال آیا ہے تو ذہن میں بڑی ہلچل مچ رہی ہے کہ عشرے گزر گئے شعبہ صحافت سے وابستہ ہوئے ۔ زمانہ میں بڑے اتار چڑھائو دیکھے شرفاء کی سیاست بھی دیکھی ، شرفاء سے مراد وہ اشرافیہ ہے جو اپنے خاندان کو دولت کے بل بوتے اور شان و شوکت کے باعث شریف قرار دیتے ہیں اور ایسے شریفوں کو بھی دیکھا ہے جو درحقیقت شرافت جن کے دل میں بسی ہوئی تھی ۔ اقدار و روایات کے امین تصور کئے جاتے تھے ۔بہر حال عشروں کے حساب سے صحافت و سیاست کے کوچوں سے گزرنے کے واقعات نے دماغ میں ہلچل مچا رکھی ہے ۔ آج کل ملک میں جو سیاست ، اقدار اور روایات کو جس طرح پامال کیا جا رہا ہے اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ جو اقدار و روایات کی پاسداری کو ترجیح دیتے ہیں وہ تو سیاست سے توبہ کرتے نظر آرہے ہیں ۔ اس لئے کہ ایک تو مال و دولت کی فراوانی اور چکا چوند نے سیاست میں سونے اور چاندی کی وہ سڑکیں تعمیر کردی ہیں جن پر ننگے پیر چلنے والے قوم کا درد محسوس کرنے والے اور ملک و قوم کیلئے اپنی خالی جیب کے باوجود اپنا تن من دھن بیچ کر کچھ کرنے کا عزم رکھنے والے اپنا دل سو س کرتا ریک راہوں میں گم ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ ملکی سیاست کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی علاقہ کا کونسلر جو ایسا ہو وہ تو آج بہترین گاڑی کا مالک ہے جھونپڑی یا کچے مکان سے محلاتی سازشیں کرنے والوں کی بستیوں میں جابسا ہے اور علم و حکمت کی دولت تقسیم کرنے والا کوئی استاد ، کالج یا کسی جامعہ کا پروفیسر اس کے مقابلے میں کہیں کھڑا نہیں ہوسکتا ۔ آج کل کیا عشروں سے جو لوگ سیاست کررہے ہیں ان کے چیلے بھی کروڑوں کے مالک ہیں ۔ یہ معاملات دیکھ کر کافی عرصہ سے یہ خیال آرہا ہے کہ کبھی بڑے فخر سے کہا جاتا تھا کہ ارے بھئی فلاں آدمی یا فلاں خاندان تو لکھ پتی ہے اب تو ایک پان کا دکاندار اور معمولی سا کاروبار کرنے والا بھی لکھ پتی ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب لفظ ارب پتی یا Billioner یا Billion صرف کبھی کبھار گنتی یا کسی صوبہ یا ملک کے بجٹ میں یہ اعداد و شمار دیکھنے یا سننے کو ملتے تھے اب تو جب اخبار اٹھائو یا کسی چینل میں خبریں سنو تو پتہ چلتا ہے کہ فلاں سیاستدان اتنے ارب Billion کھایا گیا ۔ یا اتنے ہزار ارب کا فراڈ کر چکا ہے ۔ تو ہم جیسے پرانے نسل کے لوگ حیرت زدہ ہوتے ہیں کہ یار یہ ارب ، کھرب پتی جھوٹے مکار فراڈ کرنے ، لوٹ مار کرنے والے سیاست دان و بیورو کریٹ اس قدر دولت کہاں سے اور کیسے جمع کرنے پر قادر ہوئے کہاں رکھی ہے یہ دولت اور نودولتیے کیسے خرچ کرتے ہیں دولت کی اس فراوانی ، روانی اور ناجائز ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت سے شرافت کا جنازہ نکالا جا رہا ہے آج جو سیاستدان ہمارے سامنے دیکھتے دیکھتے ارب اور کھرب پتی ہوگئے ہیں اور سیاست ، بریف کیس کی بنیاد پر سیاست کررہے ہیں ۔ اس نو دولتی سیاسی کلچر نے قوم کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دیا ہے ۔ دراصل میں سیاست ، سیاست کے اتار چڑھائو پر اور سیاستدانوں کے شب و روزنئے نئے ’’سیاسی خاندان‘‘ وجود میں آنے پر لکھنا چاہ رہا ہوں لیکن یہ دولت یہ دھن سے چکا چوند ہوتی سیاست اور ان کے شب و روز اور دولت کے انبار سن کر دماغ گھوم رہا ہے کہ کس کس سیاستدان کا نوحہ لکھوں ۔ حیرت ہے قوم پریشان ہے کہ کس کے گھر سے اس قدر دولت نکل رہی ہے کہ کرنسی نوٹ گننے کیلئے مشین استعمال کی جاتی تھی اور اکثر ایسے سیاستدان و غیر سیاستدان یا حکومت کے پسندیدہ بیوروکریٹ نظر آرہے ہیں جن کی دولت یہاں سے چوری کر کے غیر ممالک میں جمع ہوتی رہی ہے ، یا دبئی اور یورپ میں جائیداد خرید کر جمع کی ہوئی ہے جب ایک سیاسی خاندان کے بیٹوں یا بیٹی کے نام پر لندن میں 8,7 ارب مالیت کے فلیٹ کی باتیں سامنے آئیں تو پہلے تو دل و دماغ یہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں تھا کہ اربوں میں کوئی فلیٹ خریدا گیا ہو اس لئے کہ مجھ جیسے دقیانوسی شخص کے ذہن میں تو لیاقت آباد میں سب سے پہلے بننے والے الاعظم فلیٹ یاد ہیں جن کی مالیت دس ہزار روپے بھی نہ تھی اور اب بھی وہ چند لاکھ روپے میں دستیاب ہیں لیکن جب تحقیقات و تفتیش کا دائرہ بڑھا تو پتہ لگا کہ یہ بات بالکل بلکہ سو فیصددرست ہے کہ لندن میں ایک پاکستانی سیاستدان کے فلیٹوں کی قیمت اربوں روپے ہے جب اسی قسم کی باتیں سنیں اور پڑھیں تو یہ بھی پتہ چلا کہ پاکستان کے متعدد سیاستدانوں بیوروکریٹس کے لندن ، امریکہ ، دبئی اور مشرق وسطیٰ کی دیگر ریاستوں میں جائیدادیں ہیں ان دور اندیش سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے بڑی دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان میں تو صرف چند ارب کی جائیداد یا کاروبار رکھا ہے یا نہیں تو باہر رکھا ہے ان کا خیال ایسا ہے کہ پاکستان میں تو ان کو پکڑنے والا کوئی نہیں ہے نہ کسی میں اتنی جرات ہے کہ ان سے کوئی سوال بھی کرسکے اور اگر پوچھ گچھ ہوئی تو بیرون ملک جا کر عیش کریں گے ان کی اولادیں بیرون ملک تعلیم حاصل کررہی ہیں یا کر چکی ہیں اس لئے ان کو کوئی پروا نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے یا کیا ان کے ساتھ ہوسکتا ہے ، بہر حال اللہ ہم پر ہمارے ملک پر ہماری قوم پر رحم کرے کہ آج جن سیاستدانوں کی وجہ سے ملک کی یہ حالت ہوئی ہے کہ قومی خزانہ میں کچھ نہیں بچا ۔ البتہ بیرون ملک ان سیاستدانوں و بیورو کریٹس کے اربوں ڈالر سوئٹزر لینڈ و دیگر بینکوں میں جمع ہیں ، آج پاکستان کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 116 روپیہ تک جا پہنچی ہے اور سیاستدان خوشی ہو رہے ہیں کہ دیکھو مجھے نکالاتو آج روپیہ پاکستانی کرنسی کا یہ حشر ہوا ہے ، ایسے لوگوں ، ایسے سیاستدانوں سے اللہ محفوظ رکھے ۔ جو کبھی ہمیں ترقی کا خواب دکھایا کرتے تھے ۔ آج انہوں نے یہ خواب چکنا چور کردیئے ہیں ، اللہ رحم کرنے والا ہے ۔