رزق کا ضیاع

15 اپریل 2018

رزق اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بنیادی نعمت ہے۔ رزق کے لئے آدمی ساری زندگی کماتا ہے۔ اچھے سے اچھے کھانے پر خرچ کر تا ے مگر چھوٹی دعوت سے لے کر بڑی شادی بیاہ کی تقریبات میں باآسانی یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کھا نے کا کس حد تک ضیاع ہو تا ہے۔ اللہ نے ہم کو رزق عطا کیا اور ہم اس کی نا شکری کرتے ہوئے ذرا نہیں سوچتے کہ کسی آدمی نے کتنی محنت سے پیسے جمع کیے ہوں گے صرف شادی کے کھانے کے انتظام کے لیے۔ کے حالات میں کم وقت میں اچھی دعوت کرنا ہزاروں کا پھیر ہے۔ لوگ کھانے کو ہوس اور شوق میں پلیٹوں میں زیادہ نکالتے ہیں یہ سوچ کر کہ بار بار کون اٹھے گا لائے گا یا کھا نا ختم ہو جائے گا اور ہم حاصل نہیں کر سکیں گے اور اتنا کھا نا دیکھ کر ہی بھوک اڑجاتی ہے۔ مگر جب وہ کھانا ان کو پسند نہیں آتا تو پلیٹ میں چھوڑ دیتے ہیں۔ اور اس کی برائی بھی کر تے ہیں۔ جس سے رزق کی نا قدری ہو تی ہے۔ کھانا چاہے شادیوں کا ہو دوسروں کے پیسیوں کا ہو کھا نے کی قدر کر نی چاہئے ۔(عائشہ حسن۔ کراچی)