سیاسی دھڑوں کی قانونی اور عدالتی جنگ نے انتخابی سرگرمیوں کا رنگ پھیکا کر دیا

15 اپریل 2013

دریاخان (نامہ نگار) ضلع بھکر کے دو قومی اور چار صوبائی حلقوں میں مجموعی طور پر 134 امیدوار میدان میں ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جے یو آئی (ف) ،مجلس وحدت المسلمین، اہلسنت والجماعت اور سنی اتحاد کونسل نے اپنے اپنے امیدوار میدانِ سیاست میں اتار دیئے ہیں،جن کے ٹکٹوں کے اعلان سمیت انتخابی مہم پورے زوروشور سے شروع ہے، تا ہم ہمیشہ کی طرح اصل مقابلہ ضلع کی نمایاں اور فیصلہ کن سیاسی قوتوں عوامی خدمت محاذ اور عوامی نوانی محاذ کے درمیان ہی ہوگا، جن کی مسلم لیگ (ن) سے وابستگی اور تمام ٹکٹوں کے ایک گروپ کو جاری کرانے کی کوششوں کے باعث (ن) لیگی قیادت سخت مشکل میں پڑ گئی ہے، ہمیشہ پارٹی ٹکٹ کی بجائے آزاد الیکشن لڑ کر ہر حکومت کا حصہ بننے کے حوالے سے شہرت یافتہ عوامی نوانی محاذ اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کے باعث پہلی بار مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کیلئے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہے اور چند روز پیشتر یہ اطلاعات بھی آ رہی تھیں کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے دونوں بڑے دھڑوں میںمفاہمت کی ناکام کوشش کے بعد عوامی نوانی محاذ کے امیدواروں کے پینل کو ٹکٹیں جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تا ہم بعدازاں نوانی برادران کے کاغذات مسترد ہونے اور جعلی ڈگری کیس کی سماعت شروع ہو جانے کی بنیاد پر ٹکٹوں کا فیصلہ ایک بار پھر مو¿خر کر دیا گیا ہے، اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ضلع کے دونوں اہم سیاسی دھڑے ٹکٹوں کے حصول پر وقت صرف کرنے کی بجائے اپنا زیادہ وقت عدالتی و قانونی جدوجہد پر صرف کر رہے ہیں اور اس وجہ سے انتخابی مہم اپنے اصل رنگ وروپ کے مطابق شروع نہ ہو سکی ہے، این اے 73سے28 امیدوار پی پی 47سے 24اورپی پی48 سے 22امیدواروں میں معقول اور زیادہ سیاسی قوت کے حامل امیدواروں سے ایڈجسٹمنٹ جیت کیلئے ضروری ہے صورت حال یہ ہے کہ پی پی 47پر ثنااللہ خان مستی خیل کے سوا کوئی دوسرا امیدوار (ن) لیگ کے ٹکٹ پر لانا ممکن نہ ہے اور لا محالہ ثنااللہ مستی خیل کو پی پی 47اور این اے 73سے الیکشن لڑنا ہو گا جبکہ پی پی 48پر موجود امیدواروں میں سے کوئی ایک بھی امیدوار ایسا نہیں جو کہ مسلم لیگ (ن) سے وابستگی کا خواہاں ہو بلکہ ثنااللہ خان مستی خیل کے اہم اتحادی کہاوڑ گروپ سے نذر عباس کہاوڑمسلم لیگ (ق)، علمدار جھمٹ پی پی پی اور نجیب اللہ نیازی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے دعویدار ہیں، اسی طرح این اے 74پر عوامی خدمت محاذ کے امیدوار ڈاکٹر افضل خان ڈھانڈلہ کے پینل میں شامل پی پی 49کے امیدوار ملک غضنفر عباس چھینہ (ن) لیگ کی بجائے آزاد الیکشن لڑنے پر بضد ہیں جبکہ پی پی 50سے اترا ء،شہانی خاندان کے دو دو امیدواروں کے علاوہ خود ڈھانڈلہ خاندان نے بھی ایک امیدوار میدان میں اتار دیا ہے، مسلم لیگ (ن) کا پینل بنانے کیلئے ان میں سے جس امیدوار کو ترجیح دی جائیگی باقی تمام امیدوار اس صورت حال میںڈاکٹر محمد افضل ڈھانڈلہ کےلئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ بھکر کے حلقہ پی پی 50سے سابق صوبائی وزیر نعیم اللہ خان شہانی کے بارے میں یہ خبر گرم ہے کہ سعودی شہزادوں کی سفارش پر مسلم لیگ ن کی قیادت انہیں ٹکٹ دینے پر آمادگی ظاہر کرچکی ہے لیکن بعض ذرائع یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ نعیم اللہ شہانی دوسری طرف پی پی پی کی قیادت سے بھی رابطے میں ہیں اور این اے 74سے ممکنہ امیدوار کے طور پر سامنے آسکتے ہیں، جب کہ مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے عادل نذیر اترا ءاور اس کے خاندان سے مزید دو امیدوار بھی میدان میں ہیں جن کی کوشش ہے کہ مسلم لیگ ن یا پی پی پی کاٹکٹ حاصل کرلیا جائے ،لیکن تاحال ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب تمام دھڑے مسلم لیگ ن میں شامل ہیں مگر مسلم لیگ ن کیلئے ٹکٹوں کا فیصلہ سخت مشکل ہو چکا ہے۔