3 سابق سینیٹر 8 ارکان اسمبلی ڈی نوٹیفائی تنخواہیں مراعات واپس کرنا ہونگی

15 اپریل 2013

اسلام آباد (خبرنگار) الیکشن کمشن نے جعلی ڈگریوں کے حامل 11ارکان پارلیمنٹ کو ”ڈی نوٹیفائی“ کر دیا ہے۔ الیکشن کمشن کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامےہ کے مطابق ان ارکان میں 3سینیٹر، پنجاب اسمبلی کے 5، سندھ اسمبلی کے 2اور بلوچستان اسمبلی کا ایک رکن شامل ہے۔ سینٹ میں خواتین کے لئے مختص نشستوں پر 9مارچ 2006ءکو منتخب ہونے والی بلوچستان کی ریحانہ یحییٰ بلوچ، بلوچستان سے جنرل سیٹ پر منتخب ہونے والے سینیٹر میر اسرار خان زہری اور سینیٹر میر محبت خان مری شامل ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے کوٹہ سے 2008ءکو منتخب ہونے والی ثمینہ خاور حیات اور 2009ءکے ضمنی انتخابات میں منتخب ہونے والی سیمل کامران، مسلم لیگ (ن) کی 2008ءکے الیکشن میں منتخب ہونے والی شمائلہ رانا، پاکستان پیپلزپارٹی کے کوٹہ سے 2008ءکے الیکشن میں منتخب ہونے والی شبینہ خان اور جنرل سیٹ پر منتخب ہونے والے رانا اعجاز احمد نور شامل ہیں۔ سندھ اسمبلی سے 2008ءکے الیکشن میں جنرل نشست سے منتخب ہونے والے میر قادر مگسی اور بشیر احمد خان شامل ہیں اور بلوچستان اسمبلی سے 2008ءکے الیکشن میں منتخب ہونے والے نوابزادہ طارق مگسی شامل ہیں۔ الیکشن کمشن کے مطابق نوٹیفکیشن جاری ہونے سے ڈی نوٹیفائی ہونے تک تمام ارکان سے دی جانے والی مراعات اور دیگر سہولیات کی مد میں ادا کئے جانے والی رقم ان سے واپس لی جائے گی۔ یہ تمام اپنے آپ کو سابق ارکان پارلیمنٹ بھی نہیں لکھ سکیں گے۔
ڈی نوٹیفائی