پاکستان بھارت کیلئے خطرہ اور مقبوضہ کشمیر میں درپردہ جنگ کا ذمہ دار ہے: بھارتی وزیر دفاع

15 اپریل 2013

نئی دہلی (کے پی آئی) بھارت نے پاکستان اور چین سے لگنے والی سرحدوں اور لائن آف کنٹرول پر سکیورٹی اقدامات کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کا فےصلہ کےا ہے ۔ گزشتہ روز نئی دہلی مےں ا علی فوجی کمانڈروں کی کانفرنس میں تینوں افواج کی صلاحیت ، اہلیت اور تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس دوران پاکستان اور چین سے لگنے والی سرحدوں اور لائن آف کنٹرول پر سکیورٹی اقدامات کو مزید مضبوط اور فعال بنانے پر اتفاق کیا گیا ۔اس اہم دفاعی کانفرنس کے دوران تینوں افواج کے سربراہان نے ملک کی دفاعی اور جنگی تیاریوں کے بارے میں وزیر دفاع ارکارمبل کیورین انتھونی کو بریفنگ دی ۔ بری فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے کانفرنس کے دوران اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ بھارتی افواج کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت اور اہلیت رکھتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کانفرنس کے دوران فوجی افسروں کے ریٹائرمنٹ لینے کا معاملہ بھی زیر غور لایا گیا اور اس رجحان پر قابو پانے کیلئے کئی تجاویز کو زیر غور لایا گیا ۔ وزیر دفاع اے کے انتھونی نے کہا کہ چین کے فوجی جارحانہ پن کا مقابلہ کرنے کیلئے ملک شمالی سرحدوں پر دفاعی فوجیوں کو تعینات کرنے میں سست رہا ہے ۔ چین نے اپنے فوجیوں کے بنیادی اور ملٹری ڈھانچے کو 2ہزار 520 میل پر پھیلی اصل کنٹرول لائن پرتعمیر کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر سیز فائر معاہدے کے باوجود چین پاکستان کے ساتھ اپنے مراسم کو تیزی کے ساتھ مستحکم کر رہا ہے ۔ انہوںنے پاکستان پر بھارت مخالف جنونی موقف اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان جموں وکشمیر پر قبضہ کرنے کیلئے اس طرح کے حربے آزمارہا ہے ۔ پاکستان بھارت کی سلامتی اور سالمیت کیلئے منفرد خطرہ ہے اور وہ چین اور امریکہ کے تعاون سے تیزی کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کررہا ہے ۔ اے کے انتھونی نے مزید کہا کہ بھارت کو پاکستان کی طرف سے گوادر بندرگاہ کا کنٹریکٹ چینی کمپنی کو دینے پر کافی تشویش ہے ۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور چین اپنے تعلقات کو کس طرح مستحکم بنارہے ہیں ۔ انہوںنے پاکستان پر بھارت کے خلاف پراکسی جنگ چھیڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان جموں وکشمیر پر قبضہ کرنے کیلئے دہشتگرد گروپوں کو بھر پور تعاون فراہم کررہا ہے اور یہ مجاہدین جموںوکشمیر میں بھارت مخالف کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو بتایا کہ پاکستان نے چین کی مدد سے اپنی افواج کی تجدید کاری کے ساتھ ساتھ اپنے نیوکلیائی پروگرام کو کافی توسیع دی ہے ۔ اور مقبوضہ کشمیر میں جاری درپردہ جنگ یا مجاہدانہ سرگرمیوں کا پاکستان ہی ذمہ دار ہے ۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ چین اور امریکہ کی مدد سے اپنی فوجی اور جنگی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے بعد پاکستان نے جموں وکشمیر میں سرگرم مجاہدین گروپوں کی مدد جاری رکھی اور یہی وجہ ہے کہ اس ریاست میں تعینات فوج کو پاکستان کی درپردہ جنگ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔