چیف جسٹس سپریم کورٹ کا سابق حکمرانوں کی تاحیات سکیورٹی اور مراعات کا ازخود نوٹس

15 اپریل 2013

قوم کو بھی اب انتخابات میں اپنے ان ”مسیحاﺅں“ کا احتساب کرنا چاہئے
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے سابق وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزرائے داخلہ اور سپیکرز کو تاحیات سکیورٹی اور ان کیلئے پرتعیش غیرمعمولی مراعات کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سرکاری خرچے پر سکیورٹی اور مراعات کا حصول قانون کے منافی ہے۔ عوام صاف پانی جیسی سہولتوں سے محروم ہیں اور سرکاری خزانے سے سابق حکمران بھی مراعات لے رہے ہیں۔ ملک سابق عوامی نمائندوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔ اس ازخود نوٹس کیس کی سماعت اب عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ کے روبرو 16 اپریل سے ہوگی۔ فاضل چیف جسٹس نے اس سلسلہ میں سابق وزرائے اعظم، سابق وزراءداخلہ، سابق وزیراعلیٰ سندھ اور سندھ کے سپیکر اور سابق ڈپٹی سپیکر کو بھی نوٹس جاری کردئیے۔ فاضل چیف جسٹس نے اس کیس میں اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے بھی 16 اپریل کیلئے شق وار جواب طلب کرلیا ہے اور آڈیٹر جنرل اور اکاﺅنٹنٹ جنرل کو متعلقہ سیاستدانوں کو دی گئی مراعات کا تخمینہ لگا کر عدالت میں پیش کرنے کی ہدائت کی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے باور کرایا کہ سابق وزراءاعظم، وزرائے اعلیٰ، سپیکروں، ڈپٹی سپیکروں اور ارکان اسمبلی کو غیرمعمولی سکیورٹی اور مراعات کا منظور کیا گیا بل آئین کی دفعات 184، 9، 4، 24 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔سلطانی¿ جمہور کے تابع اسمبلیوں کی پانچ سال کی آئینی میعاد پوری کرنے کا کریڈٹ لینے والے سابق حکومتی اور اپوزیشن بنچوں نے منتخب فورموں کو سلطانی¿ جمہور کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے استعمال کیا ہوتا تو ان منتخب اداروں کی آئینی مدت کی تکمیل پر تحلیل بلاشبہ سلطانی¿ جمہور کا قابل فخر کارنامہ ہوتا اور اس سے جمہوریت کی بنیاد بھی مستحکم ہوجاتی مگر بدقسمتی سے اسمبلیوں کی آئینی میعاد پوری کرنے کا کریڈٹ لینے والے حکمران طبقات اور باہمی مفادات کے تحفظ کے کلچر میں انکے حلیف بنے اپوزیشن بنچوں نے اپنی مفاداتی سوچ اور پالیسیوں کے باعث خود ہی سلطانی¿ جمہور پر عوام کا اعتماد کمزور کیا ہے۔ منتخب جمہوری نظام کے گزرے ہوئے پانچ سال کے عرصہ کے دوران ایسی کوئی مصیبت نہیں جو عوام پر نہ ٹوٹی ہو اور ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا براہ راست عوام کو سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ اس پانچ سال کے عرصہ کا جائزہ لیتے ہوئے جب عوام کیلئے محرومیاں ہی محرومیاں اور حکمران اشرافیہ طبقات کیلئے مراعات ہی مراعات نظر آئیں گی تو پسے پسماندہ عوام اس نظام کیلئے کیسے رطب اللسان ہوسکیں گے۔ حد تو یہ ہے کہ اپوزیشن نے بھی پانچ سال کا عرصہ سسٹم کو بچانے کے نام پر فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرکے اور کرپشن کے سنگین الزامات میں ملوث حکمرانوں کو سہارا دیتے دیتے گزار دیا جبکہ اپنے حقوق و مراعات ، سہولتوں، پروٹوکول کے حصول کی قانون سازی میں وہ حکومتی بنچوں کے بیک آواز رہے۔یہی وہ صورتحال ہے جس کے باعث جرنیلی آمریت کو مسترد کرکے سلطانی¿ جمہور کی راہ ہموار کرنیوالے عوام میں جمہوری نظام کے حوالے سے بددلی اور مایوسی کی فضا پیدا ہوئی اور انہوں نے تبدیلی کے نعرے لگانے والے ریاکار سیاستدانوں کو بھی اپنا مسیحا سمجھ لیا جبکہ عوامی حلقوں میں اس سوچ کو بھی تقویت حاصل ہوئی کہ عوام کا ناطقہ تنگ کرنیوالی جمہوریت سے تو جرنیلی آمریت ہی بہتر تھی کہ اس دور میں کرنسی کی شرح تبدیل ہوئی نہ موجودہ اذیت والے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے سنگین بحران سے گزرنا پڑا جبکہ مشرف نے چاہے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کیلئے ہی سہی، اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں کالا باغ ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان بھی کردیا تھا مگر سلطانی¿ جمہور میں قومی ترقی کے ضامن اس منصوبے کی فائل دریائے سندھ میں ڈبونے پر ایکا کرلیا گیا۔ اگر عوام کی فلاح و بہبود کے حوالے سے گزشتہ پانچ سالہ دور کا جائزہ لیا جائے تو اس میں حکمران طبقات کی جانب سے عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے انکی لوٹ مار کا سلسلہ ہی تقویت حاصل کرتا نظر آتا ہے جبکہ حکمران طبقات کی ان بے ضابطگیوں اور قومی خزانے کی لوٹ مار پر ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے نوٹس لیا جاتا تو یہ پروپیگنڈہ شروع کردیا جاتا کہ عدلیہ بیجا مداخلت کرکے سسٹم کو چلنے نہیں دے رہی۔ درحقیقت جمہوری نظام کا مردہ تو خود اس سے وابستہ سابق حکمران طبقات نے خراب کیا ہے جن کی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود غالب اکثریت عادی ٹیکس چوروں، قرض معاف کرانے اور ہڑپ کرنیوالوں اور یوٹیلیٹی بلوں تک کے نادہندگان پر مبنی تھی۔ سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے خود سابق قومی اسمبلی کے فورم پر اپنی بجٹ تقریر کے دوران یہ انکشاف اور اعتراف کیا تھا کہ اسمبلیوں کے منتخب فورموں میں موجود مجموعی 12 سو میں سے ساڑھے 8 سو ارکان انکم ٹیکس کی مد میں ایک دھیلہ بھی قومی خزانے میں جمع نہیں کراتے جبکہ اب یہ انکشاف بھی سانے آیا ہے کہ موجودہ انتخابی امیدواروں میں سے ایک ہزار سے زیادہ نے اپنا انکم ٹیکس نمبر (این ٹی این) بھی جاری نہیں کرایا۔ یہی وہ مراعات یافتہ طبقات ہیں جو انکم ٹیکس کی مد میں ایک دھیلہ بھی قومی خزانے میں جمع کرانے کے روادار نہیں ہوتے مگر عوام کے ووٹوں سے منتخب فورموں میں جاکر ہر سرکاری سہولت، مراعات اور پروٹوکول کا حصول اپنا حق سمجھتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب انہوں نے منتخب فورموں کے ذریعے اپنے لئے تاحیات مراعات اور پروٹوکول کاحصول بھی اپنا حق بنالیا ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق چودھری پرویز الٰہی، سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا اور پنجاب اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سمیت متعدد سیاستدان گزشتہ دس سال کے دوران مختلف بنکوں سے کروڑوں روپے کے قرضے وصول کرکے معاف کرانے اور دیگر مالی مراعات حاصل کرنے کے باوجود قانون ساز اسمبلیوں میں عوام کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ جنہوں نے اب اپنے کاغذات نامزدگی داخل کراتے وقت معاف کرائے گئے اپنے قرضوں کا ذکر تک نہیں کیا۔ اسی طرح گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے بھی موجودہ انتخابات میں پانچ سو قرض نادہندگان کی جانب سے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کا سخت نوٹس لیا ہے اور ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان تمام افراد کے ریکارڈ میں نادہندگی کا خانہ شامل کرے اور انکی تمام متعلقہ تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے۔ ان عدالتی احکام کو عملی جامہ پہنانے سے کم از کم عوام سے ہمدردی کی ریاکاری کرنیوالے سابقہ حکمران طبقات اور موجودہ امیدواروں کے عوام کے سامنے چہرے تو بے نقاب ہوں گے۔ان حکمران طبقات نے اسمبلیوں کی تحلیل کے آخری دنوں میں اپنے لئے تاحیات مراعات اور پروٹوکول کے حصول کی متفقہ قانون سازی کرکے تو جمہوری نظام کا مذاق اڑایا ہے کہ انکے ہاتھوں روٹی روزگارسے عاجز آنیوالی قوم کو اب انکی تاحیات مراعات کا بوجھ بھی اٹھانا پڑیگا۔ متذکرہ قانون سازی کے ذریعے قوم کے ان ”مسیحاﺅں“ کے تاحیات پروٹوکول کی خاطر اسلام آباد پولیس سے 450 اہلکار لئے گئے ہیں جنہیں تنخواہیں سرکاری خزانے سے ادا ہوں گی مگر وہ ڈیوٹیاں مراعات یافتہ سابقہ حکمران طبقات کے نجی گھروں اوردفاتر میں سرانجام دیں گے۔ ان میں سے ڈیڑھ سو پولیس اہلکار سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور اتنے ہی سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سکیورٹی کے نام پر ان کی خدمت گزاری کیلئے مختص کئے گئے ہیں ۔ان ہر دو شخصیات کی آمدورفت کے دوران 15، 15 رینجرز اور اتنے ہی فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار انکے ساتھ نتھی رہیں گے جبکہ سکیورٹی کی یہی سہولتیں تین ماہ کے سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور ان سے پہلے کے سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کے حصے میں بھی ریوڑیوں کی طرح تقسیم کی گئی ہیں ۔ان سابقہ حکمرانوں کو انکی فیملی سمیت ائرپورٹس پر وی آئی پی لاﺅنج استعمال کرنے کی سہولت بھی حاصل ہوگی اور انہیں ڈرائیور، خانساماں اور پرائیویٹ سیکرٹری بھی سرکاری خزانے سے مستقل طور پر فراہم کیا جائیگا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے تو اپنے ازخود اختیارات کے تحت حکمران طبقات کے ان اللے تللوں کا نوٹس لے لیا ہے تاہم تبدیلی کے خواہشمند عوام کو بھی اب انتخابات میں ان مراعات یافتہ اشرافیہ طبقات کا حساب برابر کرنا چاہئے ورنہ تبدیلی کا خواب ادھورا ہی رہےگا۔