وزرا کی سیاسی و ذاتی بیان بازی پر پابندی

15 اپریل 2013

  نگران وزیر داخلہ کی طلبی،بیان پر وضاحت مانگ لی گئی۔ وزرا کی سیاسی اور ذاتی بیان بازی پر پابندی ، انتخابات پر اثر انداز ہونے والے افسروں کے تبادلے کئے جائیں گے۔ وزیراعظم کھوسہ کی طرف سے تمام سیاسی رہنماﺅں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے تمام وزراءپر پابندی لگا دی ہے کہ وہ ذاتی اور سیاسی بیان بازی سے پرہیز کریں کیونکہ وزیر داخلہ ملک حبیب کے مسلم لیگ(ن) کے حوالے سے بیان پر بڑی بڑی سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ سیاسی و ذاتی پسند ناپسند یا اختلاف ہر شخص کا حق ہے مگر جب کوئی شخص کسی ذمہ دار عہدے پر فائز ہو اور اس کا کام ہی ملک میں غیر جانبدارانہ شفاف الیکشن کرانا ہوتو اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے عہدے اور حلف کا پاس رکھے اور کسی بھی مرحلے پر اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت خراب نہ ہونے دے۔اب وزیراعظم کی طرف سے پابندی کا اطلاق عملاً بھی نظر آناچاہئے اور کوئی بھی حکومتی عہدیدار اس کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔الیکشن کے اس نازک موقع پر ایسے سرکاری افسران کی بھی گوشمالی ضروری ہے جو اس کے شفاف عمل پر کسی بھی شکل میں اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے پائے جائیں،ان کیخلاف بروقت اقدامات سے دیگر لوگوں کو بھی کان ہوجائیں گے، وزیراعظم کی طرف سے تمام سیاسی رہنماﺅں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت موجودہ ملکی حالات میں درست نظر آتی ہے کیونکہ ملک دشمن شرپسند عناصر اس موقع پر کسی بھی ایسی کارروائی کی تاک میں ہوتے ہیں جس سے ملک میں بد امنی پھیلے اور جمہوری عمل سبوتاژ ہو۔