بروقت ویکسین نہ ملنے سے خسرہ نے بچوں کو لپیٹ میں لیا

15 اپریل 2013

لاہور (رپورٹ ندیم بسرا) حکومت پنجاب نے کئی برس سے خسرہ کی مطلوبہ ویکسین نہ خریدی۔ کم ہوتی ویکسین اور بچوں کو بروقت ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے اب خسرے نے بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ ہے۔ نگران وزیر صحت پنجاب سلیمہ ہاشمی نے بڑھتے ہوئے خسرے کے کینسر کے پیش نظر اس بیماری کو وبا قرار دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں خسرہ کی مکمل ویکسین 7برس قبل منگوائی گئی جو سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کا دور تھا۔ 2006ءمیں صوبے بھر کے تقریباً تمام 10برس سے قبل بچوں کو خسرہ سے حفاظت کی ویکسین دی گئی۔ مگر اس کے بعد آنے والی حکومت نے صوبے میں بچوں کی آبادی کے لحاظ سے ویکسین باہر کے ملک سے نہیں منگوائی جس کے بعد 2009ءسے 2012ءتک انتہائی کم مقدار کی خسرہ ویکسین منگوائی گئیں۔ اگر عالمی ڈونرز تنظیموں یونیسیف، عالمی صحت آرگنائزیشن اور دیگر نے خسرہ ویکسین محکمہ صحت پنجاب، ای پی آئی (EPI) اور دیگر صحت کی ذیلی تنظیموں کو فراہم کی تو زیادہ تر ویکسین بازار میں فروخت کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق دور حکومت میں بچوں کی خسرہ اور دیگر بنیادی بیماریوں کو نظر انداز کیا گیا۔ وسیع پیمانے پر مہم چلائی نہ گئیں۔ فنڈز دیگر مد میں استعمال میں ہوتا رہا۔ اس صورت حال میں حکومت پنجاب اور محکمہ صحت پنجاب کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں سینئر وکیل اظہر صدیق نے ایک رٹ دائر کی ہوئی ہے جو زیرالتوا ہے۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو مختلف سرکاری ہسپتالوں میں اب تک خسرہ کی بیماری میں مبتلا 40سے زائد بچے جاں بحق ہو چکے ہیں اور 8699بچوں میں خسرہ مرض کی تشخیص ہو چکی ہے۔ گنگا رام، جناح، سروسز ہسپتال میں آنے والے خسرہ میںمبتلا بچوں کو علاج دینے کی بجائے انہیں میو یا چلڈرن ہسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے۔ میو ہسپتال میں خسرہ کے مرض میں مبتلا بچوں کے لئے علیحدہ وارڈ قائم کیا گیا ہے۔ 90سے زیادہ بیڈز مختص کئے گئے ہیں۔ ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر زاہد پرویز کا کہنا ہے کہ 700سے زائد خسرہ میں مبتلا بچوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ 16سے زائد وینٹی لیٹرز آئی سی یوز اور دیگر وارڈ قائم کئے گئے ہیں۔ بچوں کے سب سے بڑے ہسپتال چلڈرن میں ڈین ڈاکٹر طاہر مسعود کا کہنا ہے کہ یہاں پر بہترین انتظامات کئے گئے ہیں مگر والدین میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین اپنے بچوں کو اس وقت ہسپتال لاتے ہیں جب ہر طرف سے جواب ہوتا ہے۔ یہ علاج درست نہیں ہے۔ دوسری طرف لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں میڈیا کو اتوار والے روز بریفنگ بھی دی گئی جس میں نگران وزیر صحت مسز سلیمہ ہاشمی نے بڑھتے ہوئے خسرے کے مرض کے باعث اسے وبا قرار دیا اور کہا کہ پنجاب میں خسرہ کی سب سے زیادہ کوریج 57فیصد ہے جو شرم کی بات ہے۔ اس کوریج کو 95فیصد ہونا چاہئے تھا مگر ہم نے اپنے وسائل کو قوم پر خرچ کرنے کی بجائے کہیں اور خرچ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور، مظفر گڑھ، راجن پور اور فیصلہ میں کینسر سامنے آ رہے ہیں۔ ہمارے پاس 57لاکھ 24ہزار 500 کیسس موجود ہے۔ اس بیماری کے خلاف 24سے 30اپریل کو مہم چلائی جا رہی ہے۔ سیکرٹری صحت پنجاب عارف ندیم نے کہا کہ جون 2013تک 3کروڑ 30لاکھ ویکسین منگوا لی جائے گی۔ جس پر 3ارب روپے خرچ آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اس مرض والے علاقوں کو مانیٹر کر کے ڈیٹا مرتب کرے تاکہ آئندہ کیسز سامنے نہ آئے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈاکٹر طارق بھٹہ نے کہا کہ ہمارے ہاں خسرے کی شرح دیگر ترقی پذیر ممالک کی نسبت انتہائی کم ہے۔ دنیا میں سالانہ سوا لاکھ سے زائد بچے خسرے کی بیماری کی نذر ہو جاتے ہیں۔ سپیشل سیکرٹری صحت بابر حیات تاڑر نے کہا کہ جن علاقوں میں مرض سامنے آتا گیا ان کو مانیٹر کر کے پالیسی بنائی ہے۔ ہم نے ہر ڈسٹرکٹ کی سطح پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ ڈائریکٹر سی پی آئی ڈاکٹر تنویر نے کہا کہ ہمارے پاس اب بھی جو ویکسین موجود ہے ان کی آخری تاریخ 2014ءہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ہمارے پاس خسرہ کی ویکسین کی تعداد کم ہے قلت کا شکار ہے۔ دوسری طرف لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں شہریوں محمد یوسف جو وسن پورہ کا رہائشی تھا بتایا کہ میو ہسپتال میں علاج میں معالجے کی سہولیات مل رہی ہیں یہاں پر رش زیادہ ہے۔ باغبانپورہ کے محمد علیم نے کہا کہ علاج معالجے کی سہولتیں ٹھیک ہے حکومت کو چاہئے کہ ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد زیادہ کریں میو ہسپتال میں اتوار والے روز ایم ایس ڈاکٹر زاہد پرویز تو موجو رہے مگر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر اشرف سلطان نے وزٹ نہیں کیا۔ انہوں نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب سے پروفیسر کے اس رویے کے خلاف احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف انکوائری کی جائے۔ لواحقین نے پروفیسر کے خلاف میو ہسپتال کے باہر احتجاج بھی کیا۔ بعض نے الزام لگایا کہ ان کے غلط اور بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے متعدد بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دریں اثناءمسز سلیمہ ہاشمی نے کہا ہے کہ پنجاب میں خسرہ کے مرض کے خلاف بڑے پیمانے پر انسدادی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جون کے مہینے میں اس مہم کے دوران 9ماہ سے 10سال تک کی عمر کے 3کروڑ 30لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔ اس مہم پر 3ارب 50کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ سندھ میں خسرہ کی وباءسے 350سے زائد ہلاکتیں ہوئیں اور سندھ میں خسرہ کی وباءپھیلتے ہی محکمہ صحت پنجاب نے بروقت حفاظتی اقدامات کئے۔ پوری دنیا کی طرح پنجاب میں بھی 24تا 30اپریل گلوبل ایمونائزیشن ویک منایاجائے گا جس کے دوران خسرہ کی بیماری سے بچاﺅ کے ٹیکے لگانے کی مہم بھی چلائی جائے گی اور عوام کا شعور اجاگر کرنے کے لئے پروگرام کئے جائیں گے۔ نگران صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ عوام اور میڈیا نے اس مسئلہ کا شدت سے نوٹس لیا ۔ سیکرٹری صحت نے اس موقع پر بتایا کہ محکمہ صحت کے سٹاک میں اس وقت بھی 57لاکھ 24ہزار 5سو خسرہ کی ویکسین کے ٹیکہ جات موجود ہیں اور کسی بھی جگہ ویکسین کی کمی نہیں۔ اور یہ بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک پنجاب میں خسرہ کے 8699 کیسز جبکہ 40اموات ہو چکی ہی جس پر سب کو بہت تشویش ہے۔
بچوں کو لپیٹ میں لے لیا