توانائی کا بحران اور مہنگائی

15 اپریل 2013

 ہڑتالوں سے کاروباری دنوں میں کمی ہوئی،قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے۔سٹیٹ بنک،حکومت ٹیکس آمدنی اور توانائی کے بحران جلد حل کرے۔روپے کی گرتی ہوئی قدر سے مہنگائی بڑھے گی غیر ملکی ادائیگیوں کے باعث ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 44کروڑ ڈالر کمی کے ساتھ11ارب75کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے۔سہ ماہی جائزہ رپورٹ۔ملکی اقتصادی صورتحال کے بارے میں سٹیٹ بنک کی اس رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے آئی ایم ایف کو قرضہ کی ادائیگی کی وجہ سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا اس کے ساتھ آئے روز ہڑتالوں کی وجہ سے کاروباری اوقات کم ہونے سے اور الیکشن قریب ہونے کی وجہ سے مقامی سرمایہ کار کمپنیاں مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہی ہیں،اس منفی صورتحال میں اقتصادی حالت میں اگر حکومت کو بہتری لانی ہے اور گرانی کی اس بڑھتی ہوئی لہر پر قابو پانا ہے ہے جس نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے تو سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق حکومت کو ٹیکسوں کی وصولی اور ملک میں توانائی کے بد ترین بحران پر قابو پانا ہوگا کیونکہ ملک میں ہڑتالوں اور جلاﺅ گھیراﺅ کی وجہ ہی توانائی (گیس،بجلی) کا بحران ہے جس کی وجہ سے ملک میں زراعت اور صنعت کے ساتھ ساتھ گھریلو اور عام کاروباری زندگی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔نہ روزگار ہے نہ آمدن نہ گھر میں چولہا جلتا ہے نہ کھیتوں کو پانی ملتا ہے۔فیکٹریاں بند پڑی ہیں توانائی کے بحران کی وجہ سے مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے۔اگر حکومت حقیقی معنوں میںعوام کو ریلیف دیناچاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے ترجیحی بنیادوں پر توانائی کا یہ بحران حل کرنا ہوگا،ورنہ اصلاح کی ساری کوششیں رائیگاں جائیںگی۔