بسنت پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ

15 اپریل 2013

عدالتی پابندیوں نے ہاتھ باندھ دئیے، بسنت نہیں منا سکتے۔نجم سیٹھی۔نگران وزیراعلیٰ نے ویب سائٹ پر اپنے بیان میں اس بات پر معذرت کا اظہار کیا ہے کہ قانونی پابندیوں کے باعث وہ بسنت کا تہوار منانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔وزیراعلیٰ کے اس بیان کے بعد بسنت کے منانے یا نہ منانے کی بحث بھی ختم ہونی چاہئے جو گزشتہ ایک ماہ سے عوام کے اعصاب پر سوار تھی،میلے ٹھیلے اور موسمی تہوار کسی بھی معاشرے کی ثقافت کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کا مقصد عوام کو تفریح دینا ہوتا ہے مگر جب کوئی تہوار اپنی حدود سے باہر جا نکلے اور وہ معاشرہ کیلئے اور معاشرے میں رہنے والے انسانوں کیلئے جانی اور مالی نقصان کا باعث بننے لگے تو اس خونی اور بے جا اسراف کے حامل تہوار کو بند کردینا ہی عوام اور معاشرے کیلئے بہتر ہوتا ہے۔ بسنت کے موقع پر کئی سالوں سے جو ” خونی تہوار“ پتنگ بازی کے نام پر بچوں،عورتوں اور جوانوں کی گردنیں کاٹنے لگا تھا اس پر پابندی اعلیٰ عدالتوں نے نہایت غوروفکر کے بعد عائد کی تھی جس کی وجہ سے کئی بے گناہ افراد کی گردنیں کٹنے سے بچ گئی ہیں ویسے بھی تہوار تو خوشیاں منانے کیلئے ہوتے ہیں۔اگر یہی تہوار ماتم ا ور سوگ کی وجہ بن جائیں تو انہیں دور سے سلام بہتر ہے ۔نجم سیٹھی صاحب شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس خونی تہوار پر پابندی برقرار رکھ کر بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچالیں۔