اللہ کی پسند

15 اپریل 2013

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے۔اور دریافت فرمایا :کہ کس بات نے تم لوگوں کو یہاں بٹھا رکھا ہے؟انہوں نے عرض کیا کہ ہم اللہ جل شانہ¾ ہوکا ذکر کررہے ہیں اور اس بات پر اس کی حمد وثنا ءکر رہے ہیں کہ اس نے ہم لوگوں کو اسلام کی دولت سے سرفراز کیا ہے۔یہ اللہ کا ہم لوگوں پر بڑا ہی احسان ہے ۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا :قسم بخدا ! کیا تم صرف اسی وجہ سے یہاں بیٹھے ہو؟انہوں نے عرض کیا ،واللہ ! ہم صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہوئے ہیں۔حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:میںنے کسی بدگمانی کی وجہ سے تم لوگوں کو قسم نہیں دی بلکہ جبریل علیہ السلام ابھی میرے آئے تھے اور یہ خوشخبر ی سنا گئے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تم لوگوں کی وجہ سے ملائکہ میں فخر فرمارہے ہیں ۔(مسلم،ترمذی ،نسائی)حضرت ملاعلی قاری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ ان لوگوںکو دیکھو، نفس ان کے ساتھ ہے ،شیطان ان پر مسلط ہے ،شہوتیں ان میں موجود ہیں،دنیا کی ضرورتیں ان کاتعاقب کررہی ہیں ،ان سب کے باوجود یہ ان سب کے مقابلے میں اللہ کے ذکر میں مشغول ہیں اور اتنی کثرت سے مزاحمت کرنے والی چیز وں کے باوجود میرے ذکر سے دستبردار نہیں ہوتے ۔(اے ملائکہ )تمہارے لیے چونکہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے ، جو مانع ذکر ہو،لہٰذا ان کے مقابلے میں تمہاراذکر اورتسبیح اُس درجے کی بات نہیں ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ؛ میں نے سنا کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرمارہے ہیں :سات آدمی ایسے ہیں جن کو اللہ تبارک تعالیٰ اس دن اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اُس کے سایہ کے سواءکوئی اور سایہ نہ ہوگا۔۱:۔عادل بادشاہ ،۲:۔وہ نوجوان جو عالم شباب میں اللہ کی عبادت کرتا ہو،۳:۔وہ شخص جس کا دل مسجد میں معلق ہو،۴:۔وہ دو ایسے افراد جن کے درمیان اللہ ہی کے لیے محبت ہو،اسی پر ان کا اجتماع ہواور اسی پر ان کی جدائی ہو،۵:۔وہ شخص جس کوکوئی خوبرو اور باعزت عورت اپنی طرف متوجہ کرے لیکن وہ کہہ دے کہ مجھے تو اللہ کا خوف مانع ہے،۶:۔وہ شخص جو ایسے مخفی طریقے سے صدقہ کرے کہ دوسرے ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو،۷:۔وہ شخص جو اللہ کا ذکر تنہائی میں کرے اور( بے ساختہ)اس کے آنسو بہنے لگیں ۔(بخاری ومسلم)حضر ت ثابت بنانی رحمة اللہ فرماتے ہیں :ایک بزرگ کا قول ہے”مجھے معلوم ہوجاتا ہے کہ میری کون سی دعاءقبول ہوئی ہے ،لوگوں نے پوچھا آپ کو کس طرح خبر ہوجاتی ہے۔فرمانے لگے جس دعا ءمیں بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں دل دھڑکنے لگتا اور آنکھوں سے آنسوبہنے لگتے ہیں وہ دعاءضرور قبول ہوجاتی ہے ۔