پاکستان میں انتخابات کی مختصر تاریخ

15 اپریل 2013

آزادی سے پہلے 1935 ءکے ایکٹ کے تحت 1946ءمیں عام انتخابات ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستانی علاقوں سے منتخب اراکین اسمبلی پر مشتمل دستور ساز اسمبلی وجود میں آئی جن کی تعداد 69تھی ان اراکین اسمبلی کو صوبائی اسمبلی کے ارکان نے متناسب نمائیندگی کی بنیاد پر منتخب کیا تھا۔ 1946ءکی صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات محدود رائے دہندگی کی بنیاد پر ہوئے تھے۔ حکومت نے بہاولپور، پختونخواہ، خیر پور اور بلوچستان سے چار ارکان نامزد کیے۔ 1949ءمیں صوبائی اسمبلیوںنے دستور ساز اسمبلی کے لیے چھ مزید ارکان منتخب کیے اور اراکین اسمبلی کی کل تعداد 79ہوگئی جن میں سے 31 وکیل، 27زمیندار، 9تاجراور 12پروفیشنل تھے۔ 1951ءمیں پاکستان میں پہلی بار بالغ رائے دہی کی بنیاد پر صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ پنجاب میں 50فیصد ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ مسلم لیگ نے 197 میں سے 143نشستیں حاصل کیں جبکہ اسے مشرقی پاکستان میں صرف دس نشستیں حاصل ہوسکیں۔ یونائیٹڈ فرنٹ نے 223 اور کانگرس نے 24 نشستیں حاصل کیں۔ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین نے جون 1955ءکو پاکستان کی دوسری دستور ساز اسمبلی کے اراکین کا انتخاب کیا۔1960ءمیں صدارتی انتخابات ہوئے جن میں 75283 بی ڈی اراکین نے حق رائے دہی استعمال کیا اور جنرل ایوب خان پاکستان کے صدر منتخب ہوگئے۔ بی ڈی ممبران نے 1962ءمیں اراکین قومی اسمبلی کا انتخاب کیا جن کی تعداد 156 تھی جن میں چھ خواتین شامل تھیں۔ 1965ءمیں جنرل ایوب خان اور مادر ملت فاطمہ جناح کے درمیان صدارتی معرکہ ہوا بی ڈی ممبران نے ووٹ ڈالے۔ جنرل ایوب نے ریاستی مشینری استعمال کرکے اور سرمایے کی بدولت یہ انتخابات جیت لیے۔ جنرل ایوب نے 49700 اور مادر ملت نے 28345 ووٹ حاصل کیے۔ عوامی شاعر حبیب جالب نے ان انتخابات کے بارے میں کہا....دھاندلی، دھونس، دھن سے جیت گیاظلم پھر مکر وفن سے جیت گیاپاکستان کی تاریخ کے پہلے براہ راست بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات 1970ءمیں ہوئے۔ خفیہ ایجنسیوں نے جنرل یحییٰ خان کو رپورٹ دی کہ کوئی سیاسی جماعت اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی اور طاقت کا مرکز جنرل یحییٰ ہی رہیں گے۔ عوامی لہر نے آمر کے منصوبے خاک میں ملادئیے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پی پی پی نے میدان مار لیا۔ عوامی لیگ نے (160)، پی پی پی نے (81)، پی ایم ایل قیوم گروپ نے(9)، پی ایم ایل کونسل نے (7)، نیپ (6) اور جے یو آئی نے (7) نشستیں حاصل کیں۔ آمر نے انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کیا۔ عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کردیا۔ بھارت نے صورتحال سے فائدہ اُٹھا کر ڈھاکہ فتح کرلیا۔ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھال لیا۔ اپنی قومی خدمات کی بنیاد پر وہ اس قدر خود اعتماد تھے کہ انہوں نے آئینی مدت ختم ہونے سے ایک سال پہلے نئے انتخابات کا اعلان کردیا۔ بھٹو مخالف جماعتیں 1970ءکے انتخابات سے سبق سیکھ چکی تھیں لہٰذا وہ 1977ءکے انتخابات میں پی این اے کے پرچم تلے جمع ہوگئیں۔ پی پی پی نے قومی اسمبلی کی 155نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔ پی این اے کو 36 نشستیں مل سکیں۔ اپوزیشن نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور دھاندلی کا الزام لگا کر احتجاجی تحریک شروع کردی۔ غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ اگر پی پی پی کی حکومت دھاندلی نہ بھی کرتی تو انتخابات جیت جاتی۔ سیاستدانوں کے اختلافات سے امریکہ اور فوج نے فائدہ اُٹھایا۔ آرمی چیف جنرل ضیاءالحق نے موقع پاتے ہی اقتدار پر قبضہ کرلیا اور مارشل لاءنافذ کردیا۔ پاکستان گیارہ سال تک آمریت کے سایے میں رہا۔ 1985ءمیں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے جن کا سیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا۔1988ءکے انتخابات سے پہلے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) حمید گل نے بھٹو مخالت سیاسی جماعتوں پر مشتمل آئی جے آئی کے نام سے انتخابی اتحاد تشکیل دیا جس کا مقصد پی پی پی کا راستہ روکنا تھا۔ فوج کے جرنیل خوف زدہ تھے کہ پی پی پی اقتدار میں آکر بھٹو شہید کی پھانسی کا انتقام نہ لے۔ سازشوں کے باوجود پی پی پی نے 93نشستیں حاصل کرلیں جبکہ آئی جے آئی کو 54نشستیں مل گئیں۔ ایم کیو ایم (13) اور 40آزاد اُمیدوار کامیاب ہوئے۔ بے نظیر بھٹو شہید پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ 20ماہ بعد ہی صدر غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت ختم کردی۔ 1990ءکے انتخابات میں پی پی پی کو شکست دینے کے پورے انتظامات کرلیے گئے تھے۔ جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی نے مہران بنک کے چودہ کروڑ روپے پی پی پی مخالف اُمیدواروں میں تقسیم کیے۔ آئی جے آئی نے 106 نشستیں جیت لیں۔ پی پی پی اور دیگر سیاسی جماعتوں پر مشتمل پی ڈی اے صرف 44 نشستیں حاصل کرسکا۔ ایم کیو ایم (15)، نیپ(6)، آزاد (21) نشستیں حاصل کرسکے۔ میاں نواز شریف وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ وہ اسٹیبلشمینٹ کو مطمئن نہ کرسکے اور صدر اسحاق خان نے 8 جولائی 1993ءکو ان کی حکومت بھی 58/2B کے تحت ختم کردی۔1993ءکے انتخابات میں پی پی پی نے 89 نشستیں اور پی ایم ایل نے 73 نشستیں حاصل کیں۔ پی ایم ایل (جونیجو) نے (6) اور آزاد اُمیدواروں نے 15 سیٹیں حاصل کیں۔ بے نظیر بھٹو دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوگئیں۔ اس بار ”فاروق بھائی“ پی پی پی کے سابق سیکریٹری جنرل سردار فاروق خان لغاری نے بطور صدر اپنی ہی جماعت کی حکومت پر 58/2B کا کلہاڑا چلا دیا۔ پارٹی کے سینئر رہنما ملک معراج خالد نگران وزیراعظم بن گئے۔ پی پی پی کے ووٹر منفی پروپیگنڈے سے اس قدر مایوس ہوئے کہ وہ 1997ءکے انتخابات میں گھروں سے باہر ہی نہ نکلے۔ پی پی پی کو صرف 18 نشستیں مل سکیں۔ مسلم لیگ نے 137 نشستیں جیت کر ہیوی مینڈیٹ حاصل کرلیا۔ایم کیو ایم کے 12، اے این پی نے 10 اور آزاد اُمیدواروں نے 21 نشستیں حاصل کیں۔ میاں نواز شریف دوسری بار وزیراعظم بن گئے۔ جنرل پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ءکو ان کی حکومت ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں 2002ءکے انتخابات میں کنگ پارٹی پی ایم کیو نے 118 نشستیں حاصل کیں۔ پی پی پی کو 81 سیٹیں ملیں۔ پی ایم ایل (این) کو 18 اور ایم ایم اے کو 60 سیٹیں میں ۔ ایم کیو ایم نے 17 نیشنل آلائنس نے 16 نشستیں حاصل کیں۔ جنرل پرویز مشرف نے پی پی پی کے ایک درجن اراکین اسمبلی کی وفاداریاں خرید کر پی ایم ایل (کیو) کی حکومت تشکیل دی۔ میر ظفر اللہ جمالی وزیراعظم منتخب ہوئے۔2008ءکے انتخابات سے پہلے بے نظیر بھٹو کی شہادت اور جنرل مشرف کے وردی اُتارنے کی وجہ سے متوقع انتخابی نقشہ تبدیل ہوگیا۔ خواتین کی خصوصی نشستوں سمیت پی پی پی نے 124، مسلم لیگ(ن) نے 91، مسلم لیگ (ق) نے 54، ایم کیو ایم نے 25، اے این پی نے 13، ایم ایم اے نے 7 ، پی ایم ایل (ف) نے 5 اور آزاد اُمیدواروں نے 17 سیٹیں حاصل کرلیں۔ سیاسی جماعتیں 11مئی 2013ءکے انتخابات کی تیاری کررہی ہیں۔ سروے کے مطابق ان انتخابات میں مسلم لیگ(ن)، پی پی پی اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوگا۔ 11مئی کا دن سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ موصول ہونے والی ای میلز سے اندازہ ہوتا ہے کہ نوائے وقت بیرونی ممالک میں بھی انٹر نیٹ پر پڑھا جاتا ہے اور جناب ڈاکٹر مجید نظامی کے خاندان سے محبت کرنے والے دنیا کے ہر ملک میں موجود ہیں۔محترم ظفر جرار ٹیکساس امریکہ سے لکھتے ہیں”میں نے نوائے وقت میں آپ کا کالم ”مارشل لاءکا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیں“ پڑھا۔ یہ بہت معیاری کالم ہے بعض اوقات میں محسوس کرتا ہوں کہ نوائے وقت پاکستان کا واحد اخبار ہے جو کلمہ حق بلند کررہا ہے اور عوام کو نظریہ پاکستان سے روشناس کرارہا ہے۔ میں ڈاکٹر مجید نظامی اور ان کے خاندان کو سلیوٹ کرتا ہوںجن کے دم سے ہمارے دلوں میں یہ اُمید قائم ہے کہ تبدیلی کا دن زیادہ دور نہیں ہے۔ نظامی خاندان اور ان کے رفقاءنظریہ پاکستان کے مطابق تبدیلی لانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔آپ سلامت رہیں اور اسی طرح لکھتے رہیں۔ ڈاکٹر مجید نظامی کو اللہ تعالیٰ جزا دے گا اور اپنی رحمتوں سے نوازے گا“۔