آئندہ حکومت کو سنگین اقتصادی چیلنجوں کا سامنا ہوگا

15 اپریل 2013

لاہور(احسن صدیق) 11 مئی کو انتخابات کے نتیجے میں جو بھی حکومت قائم ہوگی اسے انتہائی سنگین اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان کے ذمہ اندرونی اور بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 15 ہزار 2 سو 34 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جو کہ ملک کی جی ڈی پی کے مقابلے میں 68.8 فیصد بنتا ہے۔ بدترین لوڈ شیڈنگ، ناقص اقتصادی پالیسیوں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث رواں مالی سال کے لئے مقرر کردہ بیشتر اقتصادی اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ ایف بی آر کی ناقص کارکردگی کے باعث ریونیو کا ہدف 4 بار نظرثانی کرنے کے باوجود حاصل نہیں ہو رہا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران بجٹ خسارہ 832 ارب 55 کروڑ روپے تک پہنچ کا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 11 ارب 75 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کی سطح تک پہنچ چکے ہیں جو گزشتہ 5 سال کے مقابلے میں انتہائی کم ترین سطح ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث ملک کی کل آبادی کا 40 فیصد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ملک میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری انتہائی کم سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس وقت آئی ایم ایف سے نئے قرضے کے حصول کے لئے بات چیت شروع ہوگئی ہے تاہم آئی ایم ایف منتخب حکومت کو قرضہ دے گا لیکن اس مرتبہ پاکستان کو قرضہ سخت شرائط پر ملے گا جس میں روپے کی قدر گرانے، بجلی کے نرخ بڑھانے اور پاور سیکٹر کو سبسڈی بتدریج ختم کرنے کی شرائط شامل ہونگی۔ آئندہ حکومت کیلئے مالی سال 15,14 اور مالی سال 2016ءمیں معیشت کی شرح نمو کو تیز کرنا اور مہنگائی کو کنٹرول کرنا انتہائی مشکل ہوگا اور ملک کا غریب اور متوسط طبقہ مہنگائی کے ہاتھوں بری طرح پسے گا۔ اس وقت ایک کلو آٹے کی قیمت 45 روپے کے لگ بھگ ہے ایک لیٹر پٹرول 103 روپے کے لگ بھگ ہے۔ آئندہ گندم کی خریداری کے لئے پیپلزپارٹی کی حکومت نے ایک من گندم کی قیمت 1200 روپے من مقرر کی ہے جس سے آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگا اس طرح آئی ایم ایف سے قرضے کے لئے اگر روپے کی قد ر کو گرایا گیا تو پٹرول مزید مہنگا ہوگا ۔