62 اور 63 ججوں، جرنیلوں اور سیکرٹریوں کیلئے بھی !

15 اپریل 2013

سیاست صرف قول کا نام نہیں اس میں فعل کی اہمیت سب سے زیادہ ہے جہاں قول و فعل میں تضاد آ گیا وہاں سیاست، سیاست کے بجائے غلاظت بن گئی۔ جب تک قول و فعل کے تضاد کا خاتمہ ممکن نہیں تب تک کوئی سیاسی رویہ جمہوری کلچر کو فروغ نہیں دے سکتا۔ سیاست سیکولرزم کے نام پر ہو یا اسلام کے نام پر اصل بات کردار ہے۔ بلاشبہ و بلامبالغہ سیکولرزم نظریہ پاکستان سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ یہ اسلام کے متصادم رویہ اور سوچ ہے۔ گویا سیکولرزم اور پاکستان کی آپس میں کوئی تعلق داری تھی نہ ہے۔ خواص و عوام اس بات سے آشنا ہیں کہ، پاکستان کے قیام کے پیچھے نظریاتی فکر اور ذکر تھا اسی طرح اسرائیل والے بھی دعویدار ہیں کہ ان کی ریاست بھی نظریاتی ہے۔ چلیں دونوں کو مان لیا جائے تو پھر مقابلہ اور موازنہ اور بھی دلچسپ اور اہم بن جاتا ہے۔ مصور پاکستان کے خواب کی تعبیر اور جناح کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر کے دکھانا انسانی اور بین الاقوامی تاریخ میں سنہری حروف میں کنندہ ہے۔ ان سب باتوں کو مدنظر رکھنا مسلم لیگ کا فرض ہے اسی طرح سب مذہبی و سیاسی جماعتوں کا بھی فریضہ ہے کہ، توحید و سُنت اور نظریہ پاکستان کے ساتھ ایسے جُڑے رہیں جیسے پانی میں آکسیجن اور ہائیدروجن جُڑے رہتے ہیں۔ پانی آبی بخارات میں تبدیل ہو یا اس کا تغیر برف میں ہو، دونوں صورتوں میں آکسیجن اور ہائیڈروجن کے جڑاﺅ میں فرق نہیں آتا۔ پھر مسٹر اور مولوی بھی ریاست کی بنیادی اکائی ہیں پس ریاست میں ان کا بھی جُڑے رہنا ضروری ہے۔ یہ نہیں جڑیں گے تو اتفاق نہیں ہو گا۔ اتفاق ہو گا اور اتفاق کی برکت کے سبب ڈرون حملے ممکن ہوں گے نہ را، موساد، سی آئی اے، میر جعفر اور میر صادق اپنے کھیلوں کے ذریعے مملکت خداداد پاکستان سے کھیل سکیں گے۔ اب آصف علی زرداری، میاں نواز شریف، اسفند یار ولی، عمران خان، سید منور حسن، مولانا فضل الرحمن اور چودھری شجاعت حسین نے جمہوریت کو مضبوط کرنے کا موقع گنوا دیا، تو تاریخ اپنے سینے پر یہ ضرور کندہ کریگی کہ یہ سب ناکام لیڈر ہیں۔ حُسن ظن یہی کہتا ہے کہ پی پی پی، ن لیگ اور تحریک انصاف جہاں سیٹ جتوانے والے امیدواران کیلئے فریفتہ ہیں وہاں ان کی توجہ بہرحال اس طرف بھی ہے کہ جعلی ڈگری اثرات کو غالب نہ ہونے دیا جائے اور محسوس یہ بھی ہو رہا ہے کہ 62 اور 63 جیسی سودمند اور انقلابی دفعات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، جس طرح سیاستدانوں کے خلاف ریٹرننگ افسروں کو پاس اعتراضات آئے ہیں اور جس طرح چند سیاستدانوں کو جعلی ڈگریوں کے کیس میں عدالتوں کی جانب سے جرمانے اور قید کی سزائیں ہوئی ہیں، اپنی جگہ یہ ایک بیداری بھی ہے اور تاریخی اسباق بھی ۔ یہی انداز جب جرنیلوں اور ججوں کے ساتھ بھی قوم اپنائے گی اور ایسی ہی بیداری کا ثبوت دے گی تو پھر سمجھ لیجئے گا کہ انقلاب نے دستک دے دی۔ جب اقوام بیدار ہوتی ہیں پھر وہ کسی کالے کوٹ سے ڈرتی ہیں نہ بوٹ والوں سے ایسی صورت میں کسی 62 اور 63 میں مشکوک سول جج سیشن جج بن پاتا ہے نہ کوئی راشی تھانیدار ایس پی کی وردی پہن پاتا ہے۔ ان دنوں جو بیورو کریسی اور افسر شاہی اس بات پر خوش ہے، حتیٰ کہ میڈیا بھی بلغیں بجا رہا ہے کہ، سیاستدانوں کی ٹھیک ٹھاک بے عزتی ہو رہی ہے، وہ یاد رکھیں کہ عنقریب 62 اور 63 کا اطلاق ان پر بھی ہونے والا ہے۔ اگر ججوں، جرنیلوں، پولیس افسران اور سیکرٹری بادشاہوں کے خلاف بھی 62 اور 63 کا اطلاق معمول کا کام نہ بنا تو پھر اوپر فرشتے بھی آ گئے تو نظام نہیں بدلے گا۔ عوام سے خواص تک کیلئے کسوٹی بنانا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ ترقی یافتہ اقوام صرف مالی بدعنوانی ہی نہیں دیکھتی ہیں بلکہ وہ سیاستدانوں کی سیاسی بدعنوانی اور سیاسی منافقت کا بھی نوٹس لیتی ہیں۔ لوٹا ازم سیاسی بدعنوانی اور سیاسی منافقت کا کھلا ثبوت ہے، جس ذاتی مفادات کی خاطر ”قومی خدمات“ کا رٹہ رٹایا سبق پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اس سے قبل قیام پاکستان سے تاحل عوام یہ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ، آپ ”لوٹا“ بننے سے قبل سچے تھے یا ”ٹوٹا“ بننے کے بعد سچے ہو گئے ہیں یا پھر قبل از لوٹا بھی جھوٹے تھے اور بعد از لوٹا بھی جھوٹے انصاف سیم و زر کی تجلی نے ڈس لیاہر جرم احتیاجِ سزا سے گزر گیاجہاں تک ان دنوں ریٹرننگ افسر امیدواران سے اسلام کی بنیادی چیزوں اور بڑی سطحی کی تاریخ پوچھ رہے ہیں، اور سیاستدان یہ بتانے سے قاصر ہیں۔ اس حوالے سے سیاستدانوں کو ان کی حالت ہی میں رہنے دیں، کافی ہو گیا! لیکن اب جو کیس صوبائی الیکشن کمشنر سے چیف الیکشن کمشنر تک جائیں گے یا پھر ریٹرننگ افسروں سے ہائی کورٹ و سپریم کورٹ تک جائیںگے، تو یقینا اصغر خان کیس سے رینٹل پاور کیس تک کا کچا چٹھا تو پھر ایک دفعہ کھلے گا۔ کچھ بھی معاف کر دیا جائے لیکن دعا ہے کہ ٹیکس نادہندگی اور ڈگری کے جعلی ہونے کے جرائم ہرگز ہرگز معاف نہ ہوں اور ایسے ناقابل معافی جرائم کی سزا جرنیلوں ، ججوں، تھانیداروں، سیکرٹریوں، تحصیلداروں اور پٹواریوں کو بھی ملنی چاہئے تاکہ ایک دفعہ گند تو صاف ہو۔ بہت سے گنہگار محکمہ تعلیم تعلیم میں ”اُستادی“ دکھا رہے ہیں اللہ کرے کہ وہ صرف 62 اور 63 کی ”زد اور ضد“ میں آئیں۔ صرف سیاستدان نہیں یہ متذکرہ لوگ بھی ایمانداری، دیانتداری اور انصاف کے ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں۔ دیکھنے میں تو یہاں تک آیا ہے کہ آئی ایس آئی کے ریجنل ڈائریکٹر ز جو ریٹائرڈ کرنل لیول کے افسر ہیں وہ بھی تعلیمی اداروں حتیٰ کہ یونیورسٹیوں اور سیاسی حلقوں میں اپنے آپ کو وائسرائے سمجھتے ہیں۔ کسی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر کا کیا کام ہے کہ، وہ مدد کرنے کے بجائے اپنی ڈویژن یا ریجن کے اعلیٰ افسران کو ہراساں یا بلیک میل کرے، اسی طرح ایس پی و ڈی آئی جی کو بھی دیگر معاملات میں ٹانگ اٹکانے کا کوئی اختیار نہیں۔ آئین، قانون اور اصول نے ہر ایک کی حدود متعین کر رکھی ہیں۔ میڈیا ہو کہ عوام انہیں اپنا ”مضمون“ صرف سیاستدانوں ہی کو نہیں بنا لینا چاہئے، ضروری ہے کہ چھوٹے سے بڑے افسر اور کالی بھیڑ پر بھی اتنی ہی نظر رکھی جائے۔ سب باتیں اپنی جگہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر تنقید کے جو پہاڑ ٹوٹے اور ان کی فیملی کو بدعنوانی میں ملوث پایا گیا، حیرت کی بات ہے کہ بعد میں آنے والے وزیراعظم پرویز اشرف نے سبق نہیں سیکھا تھا اور اپنے داماد کو اعلیٰ افسری سے نواز دیا۔ گویا سیاستدانوں اور سیاستدانوں کے نوازے ہوئے افسران کو بھی آئین اور آئینہ دکھانا ضروری ہے --- بہت ضروری! ایک دفعہ حبیب جالب نے کہا تھا ”یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا --- اے چاند یہاں نہ نکلا کر“ مگر جالب کے اس کہنے سے سبق سیکھنا ہو گا اور اس موسم، اس رُِت کو بدلنا ہو گا۔ قوم، ووٹرز اور عوام و خواص کو اب یہ کہنا ہو گا کہ.... یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابندبہار ہو کہ خزاں، لا الٰہ الا اللہالیکشن کمشن، نگران حکومت، افواج پاکستان اور عدلیہ میں اگر باہمی ربط اور مطابقت رہی تو تاریخ ایک مثبت موڑ لے گی، بصورت دیگر بہت مشکل ہو گا۔ یہ چاروں طبقے اگر واقعی جمہوریت اور انصاف پسند ہو گئے تو میڈیا ان کیلئے کان اور آنکھ کا کردار ادا کرے گا۔ ایک سوال اہل دل اور اہل دانش سے یہ بھی ہے کہ، نگران حکومت کے ”حرکات و سکنات“ پر خوردبینی اور دوربینی نظر کون رکھے گا --- کون؟