نظریہ پاکستان کو تقویت دینے والے عوامل

15 اپریل 2013

 آزادی حاصل ہو جانے کے بعد یہ فکری سوتے رفتہ رفتہ بالکل ہی خشک ہو گئے۔ ان کی بجائے ایک نئی حاصل شدہ مملکت کے مسائل میں (جن میں کچھ حقیقی تھے اور کچھ مفروضہ) تمام کی تمام قوم اور اسکے رہبر ملوث ہو کر رہ گئے۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ آج تک واضح طور پر لائحہ عمل ہمارے سامنے نہیں آیا کہ ہم بحیثیت ایک آزاد قوم کے اپنے مقاصد اور لائحہ عمل صرف اپنے علاقے ہی کے متعلق نہیں رکھتے بلکہ ایک بڑی ملت کا جزو ہونے کی حیثیت سے ہمیں اس ملت کے مقاصد کی تزئین کرنا ہے۔ محرکات پاکستان میں یہ بین الاقوامیت ، یہ مسلمانوں کا ملی لائحہ عمل ایک بہت بڑا حصہ رکھتے تھے۔ یہ کیفیت رفتہ رفتہ سیاسی طور پر مایوس ہونے کی وجہ سے اور ہم چشم اسلامی ممالک میں عدم قبول اور عدم اشتراک کی بنا پر کمزور پڑنے لگی مغربی نظریہ ریاست ، روز مرہ کی سیاسی ضرورت اور بین الاقوامی برادری میں ملکی تحفظ، دنیاوی ترقی، معاشی استحکام کے مطالبات نے ہمیں بھی ایک لادینی نظام میں ملوث کر دیا۔ یہی حال ان دوسری آزاد مملکتوں کا بھی تھا جن میں نسلی، لسانی اور جغرافیائی بتوں کے نام پر قومی ضروریات ابھرنا شروع ہوئیں۔  اس مختصر تجزیے کے بعد آج کے عنوان کے متعلق ایک بالکل مختصر جواب یہ ہے کہ جائز طور پر جو لائحہ عمل آپ اپنے لئے تجویز کر سکتے ہیں اور جو عوامل آپ اپنے مقاصد کو پر مقصد بنانے کیلئے بروئے کار لائیں، ان کا تعلق یقیناً ان محرکات سے ہونا چاہئے جن کی بنا پر آپ نے آزادی کا مطالبہ کیا تھا اور جن کے باعث ایک آزاد مملکت کا قیام ممکن ہوا۔ ہمیں ایک محدود قومی نظریے سے نکل کر ایک وسیع تر ملی تفکر، ایک وسیع تر ملی حکمت عملی کے ساتھ وابستہ ہونا ہو گا۔ آپ خواہ کتنا ہی احتجاج کیوں نہ کریں لیکن واقعہ یہ ہے کہ جس ملت کے ہم جز ہیں اس میں ہم ترین قدر مشترک یہ ہے کہ خدا اور اسکے بندوں کے درمیان ایک سلسلہ مواصلت ہے۔ خدا اور اسکے بندوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے وہ معاہدہ اس دن سے ہے جب اللہ نے آدمی کی خلقت کے بعد اسے خلیفہ اللہ فی الارض بنا کر بھیجا تھا اور اس معاہدے کی آخری ہدایت ہمیں اسلام کے ذریعے ملی ہے ۔ اس میثاق کے مطابق مسلمان اللہ کے بندوں کی ایک مسلسل اور متحدہ ملت ہیں۔ کسی دوسرے علاقے میں ہونے کی وجہ سے اس علاقے کے لوگ ملت کے دوسرے جز کے مخالف نہیں ہو سکتے۔ انہیں اپنا مفاد کی قربانی دے کر بھی ملت کے مقاصد کو آگے لے جانا ہے۔ خود قائداعظمؒ کے الفاظ ہیں ”ہم مسلمان اپنی تابندہ تہذیب و تمدن کے لحاظ سے ایک ملت ہیں“۔ ہم محض ایک خطے کی وجہ سے یا محض حادثہ پیدائش کی وجہ سے ایک قوم نہیں ہیں۔ زبان و ادب فنون لطیفہ، فن تعمیر، نام و نسب، رسم و رواج، تاریخ و روایت، ہر معاملہ پر ہمارا ایک انفرادی قومی یعنی ملی اصولی نظریہ ہے۔ یہ معاملات و محاکمات کسی مقام پرر خواہ کسی رنگ یا روپ میں ہوں، ان کے پیچھے جو شعور، اقدار، جو قانون اور ضابطہ اخلاق جو رجحانات اور مقاصد کار فرما ہیں وہ ہمارے ملی فلسفہ حیات سے مشتق ہیں۔ جغرافیائی حادثات سے نہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تصور اور تیقن کی موجودگی میں ہم اب تک کوئی ٹھوس کام ان عوام کی تہذیب و ترویج کے لئے کیوں نہ کر سکے؟ کس دور میں جب کوئی قوم کسی دوسری قوم سے مغلوب ہو جائے توو اس کے کچھ منفی تاثرات ہوتے ہیں اور بہت سے ردعمل اور تاثرات کے علاوہ دو بڑے تاثر ایک مغلوب قوم میں مطالبہ کئے جا سکتے ہیں۔ غالب قوم کے غلبے سے مغلوبیت کا تاثرر تو بالکل ہی واضح بات ہے۔ یہ مغلوبیت کا تاثر کچھ حسرتیں پیدا کرتا ہے کچھ نفرتیں پیدا کرتا ہے۔ غالب قوم کے ناحق غلبہ کی مخالفت کرتا ہے۔ اپنے حق آزادی کی موافقت کرتا ہے۔ غالب قوم کے حاکم افراد کے غیر منصفانہ رویے پر احتجاج پیدا کرتا ہے۔ یہ احتجاج ہوتے ہوتے کسی زمانے میں قوت کا مظاہرہ ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ غالب قوم کو جو مغلوب قوم کے ساتھ مدغم نہیں ہو سکتی اور اسے اپنا ساتھی نہیں بنا سکتی۔ اس میں جذب نہیں ہو سکتی یا اسے جذب نہیں کر سکتی، مجبوراً مغلوب قوم کا علاقہ چھوڑ دینا پڑتا ہے۔ غیر ملکی حکومت کے زمانے میں ان دونوں علاقوں میں حاکم قوم اور محکوم عوام کے درمیان ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کے رشتے قائم تھے۔ بنگال میں ابتداءسے ہی حکمرانوں نے مقامی واسطوں سے انصرام و انتظام کے اداروں کو استوار کیا۔ سب سے اہم شعبہ حکومت زمین اور مالیہ کا انتظام تھا۔ مستقل بندوبست کے نیلام میں مشرقی پاکستان کی اسی فیصد سے زاید زمینیں ہندو زمینداروں کے تسلط میں چلی گئیں۔تمام کسان اور کاشتکار ہی نہیں بلکہ چھوٹے مالک ان کے ماتحت رعایاکی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ۔ یہ تسلط زندگی کے ہر شعبے پر طاری ہو گیا۔ زمیندار فی الواقعہ حاکم کی حیثیت سے عامتہ الناس پر مسلط ہو گئے، رفتہ رفتہ ملازمتوں ، تعلیم ، صنعت، تجارت اور وکالت ڈاکٹری اور دوسرے پیشوں میں ہندو اس طرح چھائے کہ مشرقی پاکستان کے کسی مسلمان کا نام ان فہرستوں میں ڈھونڈے نہ ملتا تھا۔ ہنر مند اور قابل مسلمان کسب معاش کے لئے کلکتہ جانے پر مجبور تھے۔ غرضیکہ مشرقی پاکستان کے علاقوں کے لئے غالب یا غلبہ یافتہ ثقافت یا سماج یا قوم براہ راست انگریز نہیں تھے بلکہ ہندو تھے۔ جذبہ مغلوبیت اور ثقافت سے مرعوبیت اس قوم سے تھی۔ انگریز کی ثقافت کا اثر کلکتہ جیسے بڑے شہروں سے باہر نا پید تھا۔دوسری طرف مغربی پاکستان کے علاقوں میں نظم اراضی و مالیہ مختلف تھا۔ بہت سے متوسط مالکان اور بڑے بڑے خود ساختہ تعلقداروں کی غیر موجودگی میں انتظامیہ کے کاروبار کا براہ راست عمل دخل تھا۔کچھ جاگیردا، ذیلدار قسم کے غیر اختیار یافتہ افراد کے ذریعے استحکام حکومت کا کام بیشک لیا جاتا تھا لیکن غالب ثقافت انگریز کی اپنی تھی ۔ اس کے کلچر کا عکس براہ راست تھا۔(جاری)