سیالکوٹ: پتنگ بازی، 10 سالہ بچہ چھت سے گر کر جاں بحق‘ 100 سے زائد گرفتار

15 اپریل 2013

سیالکوٹ (نامہ نگار) پتنگ بازی کے دوران دس سالہ لڑکا چھت سے گر کر جاں بحق ہوگیا ہے جبکہ ضلع بھر میںپابندی کے باوجود پتنگ بازی ہفتہ، اتوار کے روز بھی سارادن جاری رہی تاہم پولیس نے بھی گرینڈ آپریشن کے دوران ایک سو افراد کو پتنگ بازی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ تھانہ حاجی پورہ کی حدود میں چھپڑی محلہ میں ملک ذیشان شہزاد کا دس سالہ بیٹا اسد حسن چھت پردیگر لڑکوں کے ہمراہ پتنگ بازی کے دوران پاﺅں پھسل جانے سے نےچے گر کر شدید زخمی ہوگیا جسے مقامی ہسپتال تولایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے اسے تشویشناک حالت کی وجہ سے لاہور ریفرکردیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑ گیا ہے۔جاں بحق ہونے والا اسد حسن پانچویں کا طالب علم تھا ہلاک ہونے والے بچے کے عزیز ملک محمد نے بتایا پتنگ بازی پر پابندی عائد ہونے کے باوجودپتنگ بازی جاری ہے جو وہ نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف مقدمہ درج کروانے کیلئے عدالت میں رٹ دائر کی جائے گی۔ ادھر سیالکوٹ بھر میں پتنگ بازی عروج پر رہی اور پتنگ بازی کے دوران چھتوں پر ڈیک بھی لگائے گئے تھے جبکہ ہوائی فائرنگ رات کے علاوہ دن کے وقت بھی جاری رہی۔ پتنگ بازی کے دوران مختلف مقامات پر چالیس سے زائد لوگ زخمی بھی ہوئے تاہم عوامی شکایات کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرہمایوں بشیر تارڑکے حکم پر سٹی اور صدر سرکل کے تھانوں کی پولیس نے رات گئے آپریشن کیاجواتوار کے روز بھی جاری رہااور اس آپریشن کے دوران کوتوالی ، حاجی پورہ ، رنگ پورہ ، سول لائن ، کینٹ ، اگوکی ، مراد پور ، صدر ،نیکاپورہ سمیت دیگر تھانوں کی پولیس کی طرف سے پتنگ بازی کرنے والے بارہ سال اوپر کے ایک سو سے زائد افراد کو گرفتار بھی کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے پتنگ بازی کرنے والوں سے بھاری مقدار میں پتنگیں اور ڈوریں بھی برآمد ہوئیں جبکہ 45مقدمات بھی درج کئے گئے۔ گرفتار افراد کے ورثاءنے الزام لگایا پولیس نے سڑکوں پر پیدل اور موٹر سائیکلوں پر جانے والے بچوں کو ناحق گرفتار کرکے اپنے نمبر بنائے ہیں جبکہ جو لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر پتنگ بازی کرتے رہے۔ شہریوں نے بتاےا متعدد علاقوں میں یونین کونسل پولیس سکواڈ کے اہلکار پتنگیں اور ڈوریں فروخت کرتے رہے لیکن پتنگ بازوں سے ملی بھگت کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔