سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے کے مخالفین کو ٹکٹ دینے کا حربہ

15 اپریل 2013

عنبرین فاطمہ ۔۔۔
اس مرتبہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے کے ایسے مخالفین کو ٹکٹ دینے کا رجحان سامنے آیا ہے جن کا براہ راست سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بدلے کی سیاست میں یہ بھی نہیں دیکھا جا رہا کہ امیدوار سیاسی سوجھ بوجھ بھی رکھتا ہے کہ نہیں۔ سائرہ بانو اور افشاں میر دونوں ” میاں محمد نواز شریف “کے مقابلے میں مختلف پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ یہ الیکشن میں حصہ کیوں لے رہی ہیں اس کی اپنی اپنی وجوہات ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے مخالفین جو ذاتی وجوہ کی بنا پر جماعتوں سے ٹکٹ لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں کیا وہ سیاست کے معیار اور اس کی اقدار پر پورا اترتے ہیں بھی کہ نہیں۔افشاں میرکو پاکستان پیپلز پارٹی حلقہ پی پی 140جبکہ سائرہ بانو کو ”آل پاکستان مسلم لیگ“ این اے 120سے انتخاب لڑایا جا رہا ہے۔ان دونوں خواتین کی جانب سے نواز شریف کو شکست دینے اور ان کی ضمانت ضبط کروانے کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں آخر ان دونوں کا ہدف نواز شریف ہی کیوں ہے اورجیتنے کے بعد اپنے حلقے کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے کیا پلان رکھتی ہیں یہ جاننے کےلئے ہم نے ان سے انٹرویو کیا۔ سائرہ بانو معروف پہلوان زبیر عرف جھارا کی بیوہ، گوگا پہلوان کی صاحبزادی اور کلثوم نواز کی کزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خاندان میں بہنوئی کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ میں نے”میاں محمد نواز شریف“ کے سیاسی قد کو چیلنج کرنے کا کبھی نہیں سوچا، حیرانی اس بات کی ہے کہ میرے نام سے منسوب کرکے غلط قسم کی باتیںکیوں اڑائی جا رہی ہیں۔ سیاست میں نووارد ہوں مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کے سیاسی گفتگو کے آداب کیا ہیں۔ بھلامیں کیوں اپنے ہی بہنوئی کے خلاف باتیں کروں گی۔ مشرف اور نواز شریف کے درمیان جو بھی ہوا وہ ساری دنیا جانتی ہے اب چونکہ میں مشرف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ رہی ہوں تو ان دونوں کے مخالفین اس چیز کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اورمیرے نام سے منسوب کرکے شریف فیملی کے خلاف بیانات داغ رہے ہیں۔ نواز شریف کو شکست سے دوچار کرنے اور انکی ضمانت ضبط کروانے کے بیان کے حوالے سے ”سائرہ“ نے کہا کہ میں نے ایسا کوئی بیان نہیںدیااور آئندہ سے کسی نے میرے خلاف غلط پراپیگینڈہ کرنے کی کوشش کی تو میں اس کے خلاف سخت کاروائی کروں گی۔انہوں نے کہا کہ میرا مشرف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں نواز شریف کی مخالف ہوں۔ یہ مخالفت نہیں بلکہ نظریات کی جنگ ہے۔ ویسے بھی شریف فیملی بڑے لوگ ہیں اور ہم چھوٹے۔ میرے پاس گاڑیاں نہیں ہیں میں رکشوں پر سفر کرتی ہوں اور امیر رشتہ داروںکے گھر رکشے پر جانا مناسب بات نہیں ہے۔ جب تک میرا شوہر زندہ تھا تب تک نواز شریف اور شہباز شریف دونوں ہمارے گھرچل کر آیا کرتے تھے میرے شوہر 1991ءمیں اللہ کو پیارے ہوگئے اس کے بعد کسی حکومت ،کسی رشتہ دار نے ہماری خریت تک دریافت نہیں کی ہمدردی کے دو بول بولنا تو دور کی بات تھی ۔مجھے یاد ہے کہ میرے والد اور شوہر جب حیات تھے ہمارے گھر مہمانوں اور بڑی بڑی ہستیوں کا میلا لگا رہتا تھا لیکن افسوس ان کے بعد سب نے ہم سے منہ موڑ لیا۔جنرل ایوب کے بعد کسی حکومت کو جھارا اور گوگا پہلوان کی فیملی کا کبھی خیال نہیں آیا۔میرے والد اور باپ کے نام سے ہمارے رشتہ داروں نے بے حد فائدہ اٹھایا اور ابھی تک اٹھا رہے ہیں لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کیا محنت کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالا ان کی پرورش کی کیونکہ میں محنت کرنے پر یقین رکھتی ہوں۔ بلا پہلوان المعروف ٹرکاں والا کی بیٹی ”افشاں میر“ بھی ہماری برادری سے ہیں ان کا نواز شریف کے ساتھ شاہ عالمی والی پراپرٹی کو لیکر قانونی تنازعہ چل رہا ہے افشاں نواز شریف کے حوالے سے کھل کر بیانات دیتی ہیں برائے مہربانی ان کے اور میرے بیانات کو آپس میں ملایا نہ جائے کیونکہ میں افشاں کے کسی بیان کی ذمہ دار نہیں ہوں۔الیکشن نہ لڑنے اور کاغذات نامزدگی واپس لینے کےلئے مجھ پر خاصا دباﺅ ڈالا جاتا رہا ہے لیکن میں کسی دباﺅ میں نہیں آئی اور اپنے فیصلے پر اٹل رہی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرف کامنشور غریب عوام کی آواز ہے ان کی پارٹی نے جب مجھ سے رابطہ کیا اوراپنے منشور سے آگاہ کیا تو مجھے لگا کہ ان کے پلیٹ فارم سے میں غریب عوام کے مسائل کا حل بآسانی نکال سکتی ہوں لہذا میں نے رضامندی کا اظہار کر دیا۔مجھے دوسری سیاسی جماعتوں کی طرف سے ٹکٹ کی پیش کش کی گئی لیکن میں نے سب سے معذرت کر لی کیونکہ میں مشرف کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کر چکی ہوں۔مشرف کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کسی کے کہنے پر یا مجبور ہو کر نہیں کیا۔ہمارے سیاستدانوں کا یہ حال ہے کہ وہ مشکل پڑنے پر ملک چھوڑ کر معاہدے کرکے بھاگ جاتے ہیں لیکن مشرف ایک نڈر لیڈر ہے۔ان کا دور حکومت بہترین تھا اس وقت آٹا،گھی چینی اور دالوں کی قیمت نہایت کم تھی اور اب آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔اس وقت ملک تاریخی دور سے گزر رہا ہے تمام سیاستدانوں کو فکر ہے توبس اپنے اقتدار کی اور اس چیز کی کہ کیسے کرسی پر بیٹھا جائے،کیسے دوبارہ عوام کو بیوقوف بنایا جائے۔ پاکستان میں بے شمار مسائل ہیں کوئی حل کر سکتا ہے یا امید کی کرن ہے تو وہ ہے پرویز مشرف۔اس لئے عوام ووٹ کے ذریعے ان کا ساتھ دیں۔ٹیپو ٹرکاں والے کی بہن”افشاں میر“ نے کہا کہ نواز شریف اور ہماری برادری ایک ہی ہے میں مانتی ہوں کہ وہ ایک بڑے سیاسی لیڈر ہیں لیکن بڑی بڑی باتیں کرنے والے یہ دونوں بھائی پہلے ہمارے خاندان کو تو انصاف دیں پھر عوام کو انصاف دینے کی باتیں کریں۔ان لوگوں نے شاہ عالمی میں ہماری پراپرٹی پرناجائز قبضہ کر رکھا ہے اس حوالے سے کیسز چل رہے ہیں امید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔مسلم لیگ (ن) نے آج تک عوام کو دیا ہی کیا ہے لوگ اب ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔جیتنے کے بعد میں اپنے حلقے کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کےلئے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھاﺅں گی۔ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی غریب عوام کی نمائندہ جماعت ہے اس نے ہمیشہ مسائل کے حل کی بات کی۔ملک میں پہلی بار جمہوری عمل کو مکمل کرنے کا سہرا بھی اسی جماعت کے سر ہے۔ویسے بھی مجھے بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو سے عقیدت رہی ہے ان کے مشن کو آگے لیکر چلنے کےلئے اس جماعت کے ہاتھوں میں ہاتھ دیا ہے امید ہے کہ لوگ ہمیں سپورٹ کریں گے۔ نگران وفاقی و صوبائی حکومتوں کےلئے سب سے بڑا چیلنج ملک میں ایسے منصفانہ،شفاف ،غیر جانبدارانہ عام انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا ہے جس پر کسی فریق کو انگشت نمائی کا موقع نہ مل سکے۔نگرانوں پر دھاندلی کے الزامات نہ لگائے جا سکیں،الیکشن کمیشن کی جانبداری پر کوئی حرف ملامت نہ کہہ سکے اور چیف الیکشن کمشنر کی ذات پر تنقید کے نشتر نہ چلائے جا سکیں۔بالخصوص شکست خوردہ امیدوار اور سیاسی جماعتیںکھلے قلب و ذہن اور اعتماد کے ساتھ انتخابی نتائج کو قبول کر لیں۔انتخابی شکست کو وسیع القلبی سے تسلیم کرنا ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ نہیں لیکن امید تو اچھی کی جا سکتی ہے ناں۔پاکستان کی تاریخ میں 2013ءکا سال اہمیت رکھتا ہے عوام سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ووٹ کا استعمال کریں۔