”مارگریٹ تھیچر“ برطانیہ کی پہلی خاتون وزیراعظم

15 اپریل 2013

فائزہ بشیر ۔۔۔ کوئین میری کالج.....
سابق برطانوی وزیراعظم ”مارگریٹ تھیچر“ جن کا شمار بیسویں صدی کی اہم ترین سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے وہ 87ءبرس میں جہان فانی سے کوچ کر گئیں ہیں برطانیہ اس وقت سوگ کے عالم سے گزر رہا ہے۔مارگریٹ 1925ءمیں پیدا ہوئیں ان کے والد معمولی دکاندار تھے مگر مقامی سیاست سے دلچسپی رکھتے تھے انہوں نے اعلیٰ تعلیم آکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی ۔تعلیم سے فراغت کے بعد وہ چار سال تک ایک صنعتی ادارے میں ”ریسرچ کیمسٹ“ کی حیثیت سے کام کرتی رہیں اس دوران انہوںنے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی ۔چند برس تک وکالت کرتی رہیں تاہم سیاست سے بھی انکی گہری دلچسپی رہی۔طالب علمی کے زمانے میں وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں” کنزرویٹیو ایسوسی ایشن “ کی صدر مقرر ہوئیں۔مارگریٹ تھیچر مغربی یورپ کے دفاع کو مستحکم کرنے کے معاملے میں امریکہ اور نیٹو کی پالیسیوں کی زبردست حامی تھیں۔مارگریٹ تھیچر کے دور حکومت میں برطانیہ کا اہم ترین واقعہ ”جزائر فاک“ کی جنگ تھی جس میں برطانوی فوج نے ارجنٹائن کو زبردست شکست دی تھی۔مارگریٹ افغانستان میں روس کی فوجی مداخلت کی بھی سخت مخالف تھیں وہ روس کے خلاف لڑنے والے افغان مجاہدین کی امداد اور حمایت میں آگے تھیں۔مارگریٹ 1981ءمیں پاکستان کا دورہ بھی کر چکی ہیں۔وہ مخصوص اقتصادی اور سماجی نظریات کو لیکر حکومت میں آئیں تھیں انہوں نے برطانیہ کو صنعتی انحطاط سے بچانے کی کامیاب کوشش کی ۔افراط زر کو قابو کیا معیشت پر ریاست کا کنٹرول کم کیا۔لیبر پارٹی کے سیاسی فلسفہ اور عہد حکومت کی وجہ سے ہر بات میں ریاست کی امداد پر انحصار کرنے کا جو رجحان دوسری عالمگیر جنگ کے بعد آہستہ آہستہ برطانیہ میں عام ہوتا چلا گیا مارگریٹ نے اس کو روکنے اور کم کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔اپنے طویل دور حکومت میں مارگریٹ تھیچر کے کئی اقوال کو بھی اس کی شہرت کے حوالے سے خاصی اہمیت حاصل ہوئی۔مثلاً ان کا یہ معقولہ کہ کسی اہم تقریب میں وہی لباس پہن کر جانا چاہیے جس میں آپ خود کو آرام دہ محسوس کرتے ہوں ناکہ بالکل نیا لباس جس کو آپ نے آزمایا نہ ہو۔روس کے صدر ”گوربا چوف “ نے انہیں” آئرن لیڈی“ کے خطاب سے نوازا اہم بات یہ ہے کہ مارگریٹ کو برطانیہ کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔برطانویں وزیراعظم ”ڈیوڈ کیمرون“ نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے مارگریٹ کو ایک ”عظیم برطانوی“ قرار دیا ہے۔مسز تھیچر نے بطور وزیراعظم اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد پر وقار زندگی گزاری ان کی ذات پر کرپشن یا اقرباپروری کا کوئی داغ نہیں ہے۔پاکستان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کےلئے ان کی ذات میں کئی سبق پوشیدہ ہیں۔کوئی سیاستدان معتبر اور عزت اسی وقت حاصل کرتا ہے جب وہ اختیارات کو قانون کے مطابق استعمال کرے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر اسے کوئی یاد نہیں کرتا۔