میاں نوازشریف کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں: ارباب رحیم

15 اپریل 2013

 نوکوٹ (نامہ نگار) پیپلز مسلم لیگ کے قائد اور سابق وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ رانی تو چلی گئی اور راجہ کو چھوڑ گئی ہے۔ راجہ نے عوام کا بھرتا نکال دیا ہے اور جن لوگوں نے ہم پر ظلم اور زیادتیاں کیں وہ آج ہم سے معافیاں مانگنے آرہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے گوٹھ حاجی مانجھی خان سومرو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ارباب غلام رحیم نے کہا کہ ہماری سیٹوں پر مفاہمت کی بات تمام پارٹیوں سے چل رہی ہے جو ہم کو اچھا لگے گا اس سے مفاہمت کریں گے اگر کسی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہوئی تو پیپلز مسلم لیگ اکیلے ہی الیکشن لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کا پٹے والا ایماندار نہ ہو تو وزیراعلیٰ ایماندار کیسے ہوسکتا ہے اور ملک کے قومی خزانے کو لوٹ کر عوام کی محنت کی کمائی سے اندرونی اور بیرونی ملکوں میں بڑے بڑے محل بنائے ہیں اور میں نے ساڑھے تین سال کے عرصے میں کوئی کرپشن نہیں کی آج بھی میری اوطاق بھینس کے باڑے میں موجود ہے میرے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں جھڈو کو تعلقہ کا درجہ دیا گریز کالج میٹرنٹی ہومز اور پختہ سڑکوں کا وسیع جال بچھایا مگر پی پی پی حکومت نے پانچ سالہ دور میں ان تمام منصوبوں کو تباہ و برباد کردیا۔ تاہم حکومت میں آئے تو سب سے پہلے زرعی پانی کے نظام کو بہتر بنائیں گے اس موقع پر ان کے ہمراہ سابق ایم این اے ارباب ذکاءاللہ پی ایس 66اور این اے 227 کے امیدوار ارباب عنایت اللہ‘ سابق ضلعی ناظم ارباب انور‘ سید روشن علی شاہ‘ سید انعام شاہ بھی موجود تھے۔ اس سے قبل ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کو پیپلز مسلم لیگ یوتھ ونگ نوکوٹ کے صدر محمد انور چانڈیو کی قیادت میں بھٹی گوٹھ سے گوٹھ حاجی مانجھی سومرو جلسہ گاہ تک ایک ریلی کی شکل میں لایا گیا۔


ارباب رحیم