تنظیم پذیرائی کی استقبالیہ تقریب اور خصوصی ادبی نشست

15 اپریل 2013

لاہور (پ ر) علمی، ادبی اور ثقافتی آفاق کی وسعت میں اضافے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے تاکہ ملک سے جہالت دور ہو سکے اور علم کی شمعیں روشن ہو سکیں ان خیالات کا اظہار صدر تنظیم شریف اکیڈیمی جرمنی شریف مراد، ادیب سیاح اور سفرنگار مقصود چغتائی، ولایت احمد فاروقی، شاہین بھٹی اکرم زیدی، پیرس سے آنے والی شاعرہ روحی بانو، ایم زیڈ کنول، صبا نور فوزیہ چغتائی اور دیگر مقررین نے پروفیسر اعتبار ساجد کی رہائش گاہ پر ادبی تنظیم پذیرائی کی جانب سے استقبالیہ تقریب اور خصوصی ادبی نشست میں کیا صدارت شفیق مراد نے کی ابتدائی کلمات میں مقصود چغتائی نے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اعبتار ساجد جیسے بلند پایہ شاعر اور ادیب کے زمانے میں جی رہے ہیں موصوف قدیم اور جدید رورایات کا حسین امتزاج ہیں شعرو سخن اور ادب کے بے تاج بادشاہ ہیں مہمان خصوصی روحی بانوں نے کہا کہ شفیق مراد نے علم ادب اور ثقافت کے فروغ کیلئے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ سنہری حروف سے لکھے جائیں گے قبل ازیں ممتاز دانشور اور شاعر اعتبار ساجد نے خطبہ استقبالیہ دیا۔

غیر ادبی و ادبی

ملک کی سیاسی و سماجی صورت حال سخت غیر ادبی ہے۔ وہ چاہے میاں صاحب کی عدلیہ ...