اوگرا ، پر ۔ ”قانون کا موگر ا“!

15 اپریل 2013

سپریم کورٹ کے حُکم پر ، ایف۔ آئی۔اے نے (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی)۔” اوگرا “۔ کے دفتر پر چھاپہ مار کر،سابق وزرائے اعظم سیّد یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف کی طرف سے ، 525سی ۔ این ۔ جی سٹیشنوں کو لائسنس جاری کرنے والی سمریوں اور دوسری دستاویزات پر قبضہ کر کے سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہیں۔ اِس سے قبل سپریم کورٹ نے اوگرا کے ڈی۔جی (ڈائریکٹر جنرل) مسٹر معظم حسین کو، یہ سمریاں اور دستاویزات، عدالت میں پیش کرنے کا حُکم دِیا تھا، لیکن اُس نے حُکم عدولی کی، جِس پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہُوئے کہا۔ ”عدالت کے احکامات پر عمل نہ کرنے پر ڈی۔ جی۔ اوگرا کے خلاف کاروائی ، مناسب وقت پر کی جائے گی۔ چور، چوروں سے مِل گئے ہیں۔ لُوٹ مار مچی ہے۔ سب کو حساب دینا ہوگا۔ ڈی ۔ جی اوگرا کو حُکم عدولی کی جُراتءکیسے ہُوئی، کیوں نہ اُسے جیل بھجوا دیا جائے۔ زیادہ ہوشیاری نہ دکھائیں، خرابی ہو تو چیزیں چھُپائی جاتی ہیں۔“
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں،سپریم کورٹ کا تین رُکنی بنچ ، اِس مقدمہ کی سماعت کر رہا ہے کہ، 2008ءسے لے کر 16مارچ تک، وزیرِ اعظم گیلانی اور وزیرِ اعظم راجا کے دور میں میگا پراجیکٹ میں کیا کیا ردو بدل ہُوا اور دونوں وزرائے اعظم نے، اپنے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہُوئے، سی ۔ این۔ جی سٹیشنوںکے کتنے لائسنس جاری کئے اور کیوں؟دونوں وزرائے اعظم کے بارے میں، مالی بدعنوانیوں کے، یوں تو اور بھی بہت سے سکینڈلز ہیں، لیکن 525سی۔ این۔ جی سٹیشنوں کے لائسنس جاری کرنا تو بد عنوانی کا انوکھا ۔ ”شاہکار“۔ ہے۔ اِس سے پہلے بھی ، اوگرا کی شہرت یا بدنامی( پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینٹ میں قائدِ ایوان ، جناب جہانگیر بدر کے برادرِ نِسبتی) اوگرا کے سابق اور مفرور چیئرمین، توقیر صادق کی وجہ سے ، پوری دُنیا میں پھَیل چکی ہے۔ توقیر صادق قومی خزانے کے 82ارب روپے غبن کر کے دُبئی بیٹھا ہے اور سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اُسے گرفتار نہیں کر سکے۔
26جنوری کو، اوگرا کرپشن کیس کی سماعت کرنے والے، جسٹس جواد۔ ایس خواجہ اور خلجی عارف حسین پر مشتمل بنچ نے، قومی احتساب بیورو (نیب حکام) کو حُکم دیا تھا کہ وہ۔”توقیر صادق کا چیئرمین اوگرا کی حیثیت سے تقرر اور اُسے مُلک سے فرار کرانے میں مدد دینے پر ، ایک ہفتے کے اندر اندر، وزیرِ اعظم راجا پرویز اشرف، وزیرِ داخلہ رحمن ملک اور سینٹ میں قائدِ ایوان جہانگیر بدر کے خلاف ریفرنس دائر کریں اور 30جنوری تک سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کریں!“۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ راجا پرویز اشرف جب وفاقی وزیر پانی و بجلی تھے تو اُن کی چیئرمین شپ میں ، 5رُکنی کمیٹی نے توقیر صادق کا چیئرمین اوگرا کی حیثیت سے تقرر کر کے، اُس کی سمری وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو بھجوا دی تھی اور گیلانی صاحب نے اُس سمری پر دستخط کر کے، توقیر صادق کے تقرر پر مُہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔
چیئرمین نیب ایڈمرل(ر) سیّد فصیح بخاری نے وزیرِ اعظم راجا، وزیرِ داخلہ رحمن ملک اور سینٹ میں قائدِ ایوان جہانگیر بدر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے سِلسلے میں، سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کے بجائے 28جنوری کو صدر زرداری کے نام ایک خط میں لِکھا کہ۔ ”عدلیہ کو سوو موٹو کے نام پر ، انتظامیہ کو کھوکھلا کرنے کا کھُلا لائسنس مِل گیا ہے اور وہ (عدلیہ) اپنے کردار کی وجہ سے ، اپنا اخلاقی جواز کھو رہی ہے۔ سیاستدانوں کے خلاف ریفرنسز کے احکامات، انتخابات سے پہلے، دھاندلی ہے، جبکہ میری اجازت کے بغیر کوئی ریفرنس دائر نہیں کِیا جا سکتا۔ عوام کسی کو بھی مقدس گائے یا بپھرے ہُوئے بیل کا درجہ نہیں دے سکتے“۔ وغیرہ وغیرہ۔ جناب فصیح بخاری نے صدر زرداری کے نام خط میں یہ بھی لِکھا تھا کہ۔” ایسے حالات میں، میرے لئے اپنے عُہدے سے مستعفی ہونے کے سِوا اور کوئی چارہ نہیں رہا۔“
جناب فصیح بخاری ، سپریم کورٹ کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرتے ہُوئے، اِس حد تک چلے گئے کہ اپنے خط کو میڈیا کے ذریعہ عام کر دیا اور جب کورٹ کی طرف سے توہینِ عدالت کا نوٹس مِلا تو اب اُن کے وکیل کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ۔ ”چیئرمین نیب تو اعلیٰ عدلیہ کا بے حد احترام کرتے ہیں“۔ اگر واقعی ایسا ہے تو۔ توقیر صادق کو گرفتار کیوں نہیں کِیا گیا؟ جناب فصیح بخاری نے اب خود کو سپریم کورٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، لیکن اُس کے بعد بھی اُنہوں نے، توقیر صادق کی گرفتاری میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور نہ ہی اُس کے سرپرستوں کے خلاف ریفرنس دائر کیا۔
اِس بار سپریم کورٹ نے،نیب پر اعتبار نہیں کیا اور اوگرا پر چھاپہ مارنے کے لئے ایف۔ آئی۔ اے کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔یہ پہلی مرتبہ ہُوا کہ، ایف۔ آئی۔ اے نے، اوگرا کے معاملے میں، بہت ہی پھرتی دکھائی ہے ۔ ایک وجہ تو یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اب رحمن ملک وزیرِ داخلہ نہیں ہیں اور دوسری یہ کہ ایف۔ آئی۔ اے کے ڈائریکٹر جنرل سعوداحمد مرزا اور ڈائریکٹر اظہر محمود کو اپنے عہدوں کا چارج لئے ابھی، جمعہ جمعہ آٹھ دِن ہُوئے ہیں اور اُن پرنگران حکومت کی طرف سے کوئی دباﺅ نہیں ہے اور وہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کو ضروری سمجھتے ہیں، ورنہ اِس سے پہلے اوگرا کے معاملات میں، خاص طور پر اوگرا کے خائن اور مفرور چیئرمین کی گرفتاری کے سِلسلے میں، ایف۔ آئی ۔ اے ۔” غیر جانبداری“۔ ہی دکھاتی رہی۔7اکتوبر 2012ءکو جب قومی خزانے سے 82ارب روپے غبن کرنے والے، توقیر صادق کی گرفتاری کے لئے، اسلام آباد میں جناب جہانگیر بدر کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا تھا تو ، پنجاب پولیس اور اسلام آباد پولیس کے ساتھ، ایف۔ آئی۔ اے کے افسران اور اہلکار بھی تھے۔ حالانکہ چھاپہ مار ٹیموں کو پہلے سے معلوم تھا کہ، توقیر صادق وہاں نہیں ہے۔ محض کاروائی ڈال کر، سپریم کورٹ کو دھوکا دیا گیا۔ جنوری 2013ءمیں توقیر صادق کو گرفتار کرنے کے لئے، نیب اور ایف۔ آئی۔ اے کی دو الگ الگ ٹیمیں ابو ظہبی گئی تھیں۔ دونوں ٹیموں کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں تھا۔وہاں اُن کا اچانک آمنا سامنا ہُوا تو،ایک دوسرے کو دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ بس سرکاری خرچ پر پکنک منا کروطن واپس آگئی تھیں۔
اوگرا کے دفتر پر چھاپہ مار کر ایف۔ آئی۔ اے نے، اپنے محکمے پر ، سُست روی، اور غفلت کے لگے داغ دھو نے کی کوشش کی ہے، خدا کرے کہ یہ پھرتیاں قائم رہیں ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ، توقیر صادق کی گرفتاری کا فریضہ نیب کے بجائے ایف۔آئی۔اے کے سُپرد کر دیا جائے ۔ وہ آلہ جس سے گھڑی کا گھنٹہ بجایا جاتا ہے ، اُسے موگری کہا جاتا ہے ۔ عام دھوبی بھی (غریب غُرباءکے کپڑے دھوتے وقت موگری ہی استعمال کرتے ہیں۔ موگری کا مذکر ہے ۔”موگرا“۔ جِسے بعض اوقات لڑائی کے وقت دُشمن بھی ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرکے، ضرب کاری لگاتے ہیں، لیکن اِس بار سُپریم کورٹ نے قانون کے دُشمنوں پر ۔”قانون کا موگرا“۔ دے مارا ہے۔ اب چوروں کا چوروں سے مِلاپ نہیں ہوا کرے گا اورشاید چوروں کی ماں بھی گرفت میں آجائے!۔