تبدیلی کیلئے تبادلے اور میٹروبس کا ٹکٹ

15 اپریل 2013

تبدیلی کی بات ہوتے ہوتے تبادلوں پر آن کھڑی ہوئی ہے۔ یہ تابڑ توڑ تبادلے کسی جوڑ توڑ کا نتیجہ نہیں کسی خاص تبدیلی کےلئے یہ تبادلے کئے جا رہے ہیں۔ یہ بھی کوئی ڈیل بلکہ گرانڈیل ہے؟ عمران خان ایک امید کی طرح ظاہر ہوا مگر وہ بھی دوسرے روایتی سیاستدانوں کی طرح بن گیا ہے۔ وہی باتیں وہی ہتھکنڈے، وہی بڑھکیں وہی وعدے، وہی منشور، وہی خواب؟ تبدیلی کیا خاک آئے گی۔ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی پر بھی شاید سیاستدانوں کی طرح تبدیلی کی بات اتر پڑی ہے اور پنجاب میں تبادلوں کا سونامی آ گیا ہے جو ناکامی اور بدنامی کا سبب بن گیا ہے۔ شفاف الیکشن کا یہ پہلا منظر نامہ ہے جو گندا ہو گیا ہے۔ امریکہ میں بھی تبدیلی کی بات ابامہ نے پہلے الیکشن کی مہم میں کی تھی۔ لوگ بہت خوش ہوئے کسی نے اس طرف اشارہ تو کیا اور تبدیلی کیا ہوئی ہے۔ گورے امریکی صدر کی بجائے کالا امریکی صدر آ گیا ہے۔ بش کی بجائے ابامہ جس نے دہشت گردی کی جنگ میں زیادہ درندگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بندوبست بھی کیا گیا کہ کالی امریکی وزیر خارجہ کی بجائے گوری وزیر خارجہ، کنڈولیزا رائس کی بجائے ہیلری کلنٹن امریکہ میں کالیاں بھی کچھ کم نہیں ہوتیں۔ بش کے حوالے سے کچھ سکینڈل بھی رائس کے حوالے سے آئے تھے۔ اس کے بعد کچھ عیاش کرپٹ حکمرانوں کو رائس (چاول) کھانے میں مزید اچھے لگنے لگے ہیں۔ پاکستان میں عمران خان تبدیلی کی بات کرتا ہے کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف وزیراعظم تبدیل ہو گا۔ مگر نجم سیٹھی کچھ ایسا اہتمام کر رہے ہیں کہ الیکشن میں کسی جینوئن تبدیلی کا ”اندیشہ“ نہ رہے۔ بس حکومتیں بدلیں گی۔ ہمارے ہاں حکومت اور حکمت میں فاصلہ کیوں ہے؟ نجم صاحب پڑھے لکھے تو ہیں کچھ تو کر پائیں کہ خواتین و حضرات یاد کریں مگر نجم صاحب کی کوشش ہے کہ خواتین ضرور یاد کریں اس کے لئے کریڈٹ جگنو محسن کو جائے گا۔ میں ہر لحاظ سے جگنو محسن کو اہل سمجھتا ہوں میں کہا کرتا ہوں کہ کچھ اہلیہ ایسی ہوتی ہیں جو اہل سے اہلیہ ہیں۔حالات بہت خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ نگران حکومت والے کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں یہ سب کچھ ورثے میں ملا ہے تو حکومت بھی ورثے ہی میں ملتی ہے۔ پورے پنجاب میں تبادلے ہی تبادلے ایک بہت اچھے افسر جنہیں کرپٹ نہیں کہا جا سکتا نے اچھی سروس کی، صرف چند ماہ ریٹائرمنٹ میں رہتے ہیں۔ اسے ایک ضلع تعینات ہوئے صرف 27 دن ہوئے تھے وہ 20 گریڈ کا اعلیٰ افسر ہے مگر وہ پی سی ایس ہے اور نمازی۔ بیوروکریسی کے سی ایس ایس افسران بالا انہیں بھی صرف ملازم سمجھتے ہیں اور ملازم کو ملزم سمجھتے ہیں۔ میں افسران بالا کو افسران تہہ و بالا کہتا ہوں ٹرانسفر پوسٹنگ ، اختیارات اور فنڈز کا ذاتی استعمال بلکہ استحصال ان کا مشغلہ ہے۔ میں ایک ایک ضلعے کے ڈی سی او کا کچہ چٹھہ بیان کر سکتا ہوں مگر اس میں حامد ناصر چٹھہ کے خفا ہونے کا خطرہ بھی ہے۔ اس ضلعے میں ایک ایسے افسر کو لگایا گیا ہے جہاں اس کی آدھی سروس گزری ہے وہ علاقے کے سیاہ و سفید کو جانتا ہے اور یہاں سیاہ و سفید کا مالک رہا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ دھاندلی کیسے کروائی جاتی ہے۔ کسی کو ہروانا ہو یا جتوانا ہو تو کیا کیا جاتا ہے۔ اتنی بات عرض کروں گا کہ اس کےلئے بابائے جمہوریت نواب زادہ نصراللہ خان نے کہا تھا کہ یہ شخص ہمارے ضلعے کےلئے ایک عذاب ہے۔ وہ ہوتے تو اس دھاندلی کے خلاف احتجاج کرتے بلکہ تحریک چلاتے جو آہستہ آہستہ تحریک نظام مصطفی بن جاتی مجھے یقین ہے کہ بہت سے تبادلوں کے لئے نجم سیٹھی کو صحیح معلومات بھی نہ دی گئی ہونگی۔ انہیں یہ تو پتہ ہو گا کہ ان تبادلوں میں پیسہ بڑا چلا ہے۔ چل چلاﺅ تو حقیقت ہے اور ہماری سیاست ایک تلخ حقیقت ہے۔ وہ بہر حال صحافی ہیں۔ صحافی تو ہیں جس طرح کے بھی ہیں صحافت سے ہی لوگ سفیر بنے اور اداروں کے چیئرمین بنے یہاں تو تبادلے کے لئے سوچا بھی نہیں گیا۔ ملتان میں جس آدمی کو ڈی سی او لگایا گیا ہے وہ گیلانیوں کا داماد ہے پہلے بھی کئی جگہوں پر ڈی سی او کے طور پر انجوائے کرتا رہا ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کےلئے یہ مہربانی پیپلزپارٹی کےلئے کی گئی یا مسلم لیگ ن کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ سب تبادلوں کےلئے یہ دو پارٹیاں قابل ذکر ہیں۔اس کےلئے کسی کو اہمیت ہی نہیں دی جا رہی ہے۔ عمران خان بھی نجم سیٹھی سے مل کر اعتماد کا اظہار کر چکا ہے۔ نگران حکومتوں کے انتخاب کے لئے بھی مسلم لیگ کو اہمیت دی گئی ہے۔ تحریک انصاف کو تو پوچھا ہی نہیں گیا۔ عمران خان کس زعم میں کہتا ہے کہ میں”سویپ“ کروں گا۔ اس نے ایسا خواب دیکھا ہے۔ اب خوابوں میں سیاست ہو رہی ہے۔ وہ خواب کوئی نہیں دیکھتا جو انقلاب کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ عمران اور نواز شریف ایسے خواب کی تعبیر کو قوم کی تقدیر سمجھتے ہیں۔ جس میں وزیراعظم وہ خود ہونگے۔ نواز شریف پہلے دو دفعہ وزیراعظم بن چکے ہیں۔ عمران دو دفعہ بنتے بنتے رہ گئے ہیں۔ دونوں جانتے ہیںکہ پاکستان میں وزیراعظم بننے کا کیا طریقہ ہے کھوسو صاحب یا سیٹھی صاحب نے تو کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا ہو گا مگر پاکستان میں حکمران بنانے والے حقیقتوں کو تلخ حقیقتیں بنانا جانتے ہیں۔ ان تبادلوں پر پیپلزپارٹی دل ہی دل میں خوش ہے مسلم لیگ ن نے بس اتنا کیا ہے کہ خوشی کا اظہار نہیں کیا ہے۔ نجم سیٹھی بھی سیاستدان ہو گئے ہیں۔ اب انہیں باقاعدگی سے سیاست میں آنا چاہئے۔ بہرحال نجانے کیوں میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ کچھ کر جائیں کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ آخر وہ سیاستدان نہ تھے جبکہ اب صحافت اور سیاست کی سرحدیں ملتی جا رہی ہیں۔ کل وزیر اطلاعات عارف نظامی کے ساتھ سات آٹھ کالم نگاروں کی ملاقات تھی کھانے کی میز پر خوب گپ شپ چلی ملاقات ایسے ہی مواقع پر ہوتی ہے میڈیا کے جلسہ عام میں نہ سوال کا پتہ چلتا ہے نہ جواب کا پتہ چلتا ہے۔ اس محفل میں بات چیت آف دی ریکارڈ تھی۔ بہر حال کچھ باتیں بیان کرنے میں حرج نہیں۔ امتیاز عالم نے عارف نظامی سے کہا کہ کسی طرف سے آپ کے خلاف کوئی بات نہیں ہوئی۔ سب دوستوں نے اس کےلئے آسودگی سی محسوس کی مگر امتیاز عالم کی خوشی زیادہ تھی۔ ایک بات عارف نظامی نے کہی کہ آج کشمالہ طارق کا ایک جملہ بڑے بڑے کالموں پر بھاری ہے۔ اسے مسلم لیگ ن نے ٹکٹ نہیں دیا جبکہ ماروی میمن اور سمیرا ملک کو دے دیا گیا ہے۔ صبا صادق اور عائشہ جاوید بھی ق لیگ سے ن لیگ میں گئی ہیں تو غلطی کہاں ہوئی ہے۔ یہ سوچنا کشمالہ کا مسئلہ ہے۔ کشمالہ طارق مخصوص حوالے سے تو ان سے کم نہیں ہیں۔ وہ یہ سوچے کہ عائلہ ملک بھی اس سے زیادہ نہیں ہے۔ اسے عمران خان نے ٹکٹ دے دیا ہے اور اس کے کہنے پر کئی لوگوں کو ٹکٹ نہیں بھی دیا۔ اب آپ عارف نظامی کا جملہ سنیں۔”ہمیں وعدہ اسمبلی کے ٹکٹ کا تھا اور ہمیں میٹروبس کے ٹکٹ پر ٹرخا دیا گیا ہے؟ میٹرو بس کے افتتاح کے موقع پر کشمالہ طارق شہباز شریف کے ساتھ نمایاں نظر آ رہی تھیں۔ سنا ہے میٹرو بس کا عملہ بھی تبدیل کیا جا رہا ہے؟