کیا مسلم لیگ ”نواز“ کی سیاسی سمت درست ہے؟

15 اپریل 2013

پاکستان کو 2013 کے انتخابات کے بعد کئی علاقائی، اندرونی، معاشی، اقتصادی، بین الاقوامی، قومی سلامتی کے سنجیدہ چیلنج درپیش ہیں جس کے لئے آئندہ مرکز کی سطح پر ایسی قیادت کی اشد ضرورت ہے جو پاکستان کا کھویا ہوا مقام واپس دلوا سکے، قومی غیرت و حمیت، حکمت و بصیرت، بدعنوانی، کمیشن خوری، قومی خود مختاری و آزادی (گروی) کے نازک معاملات وسائل کے حل کیلئے ایمانداری ، پیشہ ورانہ کارکردگی اور احتساب کے عملی نمونے قوم اور بین الاقوامی برادری کو دکھا سکے جس کے نتیجے میں ”ناکام ہوتا“ پاکستان دوبارہ عزت وقار اور اقتصادی استحکام کا نمونہ بن جائے۔ اس بڑے مقصد کے حصول کیلئے ایسی حقیقی قیادت کی ضرورت تو ہے ہی لیکن ایسی قیادت کیسے مل سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب 11 مئی 2013 کے انتخابات کیلئے درست سیاسی حکمت عملی اور ووٹ کے استعمال میں ہے کہ قومی سیاسی قیادتیں اور عوام درست سمت میں آگے بڑھیں ورنہ وہی ”جان کا عذاب“ پاکستان کی مزید کمزوریوں کی طرف سفر ہمارا اپنا کیا دھرا ہو گا پھر سیاسی قیادتیں اور عوام اپنے کئے کی سزا خود بھگتیں کسی شخص یا ادارے کو ”نجات دہندہ“ کے روپ میں تلاش نہ کریں آج درست ”وقت“ ہے! فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں ہے ”تقدیر“ کو خواہ مخواہ بدنام نہ کیا جائے تو بہتر ہو گا۔ آج کے سیاسی منظرنامے میں اور چار بڑے اداروں کی تحقیق کے مطابق مسلم لیگ (ن) کا پلڑا بھاری ہے تمام اداروں نے ریسرچ کرکے اپنے اپنے انداز سے سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کی رپورٹیں شائع کی ہیں بہرحال انتخابات کے دن تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا لیکن ایک اہم ترین بات مختلف سیاسی جماعتوں کے مابین اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا صوبائی سطح پر ”مشترکہ امیدوار“ کا ”لین دین“ ہے جو یقیناً ان سروے رپورٹوں کو عملاً غلط ثابت کر سکتا ہے کیونکہ یہ اکیلی پارٹی پوزیشن ہے۔ (سروے) اتحادی سیاست میں ”کئی برج“ اُلٹ سکتے ہیں یا مقابلہ سخت تر ہونے کی امید ہے اور شاید ”مشترکہ امیدواروں“ کی علمبردار سیاسی جماعتیں (جو بھی ہوں) حلقہ وار جیت یا شکست کی وجہ یقیناً بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ویسے بھی بڑے بوڑھے دانشور اور فلسفی یہ کہتے آئے ہیں کہ ”اتحاد“ میں برکت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ یہاں بعض سیاسی لیڈر بزعم خود ”تنہا سیاسی پرواز“ کے گمراہ کن فلسفے پر گامزن ہیں کچھ کے انا پرستی، تنہا مقبولیت، تنہا کلین سویپ، ہم تنہا جیتیں گے کہ ”خبط“ ان کے آمرانہ رویوں، سیاسی لچک میں کمی تنگ دلی، تنگ نظری، درگزر، معافی، مشترکہ قومی مفادات پر ذاتی مفاد اور عناد کو قربان کرنا جیسی ”وجوہات“ اور کم ظرفی کے مظاہرے آئندہ کے قومی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے درست سیاسی پالیسی کی تشکیل میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ نتیجہ وہ خود بھی بھگت لیتے ہیں اور بیڑہ غرق ملک کا کروانے کا باعث بنتے ہیں پھر اقتدار سے باہر چیخ چیخ کر حکمرانوں پر ”تبرے“ بھیجتے ہیں لیکن کر کچھ نہیں سکتے، برباد ملک ہوتا ہے لیکن اپنی سیاسی غلطیوں سے سبق سیکھ کر درست سیاسی سمت اختیار نہیں کرتے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کا مقابلہ 11 مئی کو ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، مسلم لیگ قاف، جے یو آئی (ف) ، اے این پی اور متحدہ دینی محاذ (نیا دینی محاذ) ، سُنی کونسل وغیرہ سے ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز نے بڑی غلطی تو یہ کی کہ جہاندیدہ بزرگ محترم مجید نظامی کی بار بار تاکید پر عمل نہ کرتے ہوئے مسلم لیگ قائداعظم کے ”چوہدری گروپ“ کو ساتھ نہ ملایا ورنہ آج وہ ”سونامی خان عمران خان“ کے شریف برادران کے گِٹوں (ٹخنوں) میں بیٹھنے کے حقیقی خطرے سے پریشان نہ ہوتے۔ میاں نواز شریف اور ”پانچ پیارے“ اپنے ذاتی عناد کے اس قدر اسیر بن چکے کہ وہ کئی مرتبہ یہ تو کہہ چکے ہیں کہ ”ہم مشرف کے اپنے اوپر ذاتی مظالم کو معاف کرتے ہیں (یہ میاں نواز شریف نے چار سال میں کہا ہے) لیکن قومی جرائم معاف نہیں کریں گے۔ جاﺅ تمہیں معاف کیا فلاں فلاں ذاتی بدسلوکی، قید، ملک بدری، والد کے جنازے میں شریک نہ ہونے دینا، جائیداد کی ضبطگی، فیکٹریوں کی بربادی، وغیرہ وغیرہ اب میاں نواز شریف یہ تو قوم کو سمجھا دیں کہ اصل ”مجرم، ظالم کو تو معاف کر دیا پھر چوہدری برادران نے کیا مشرف سے زیادہ ظلم کئے تھے؟ قوم کو اس کا جواب چاہئے۔ تمام مشرف کے بڑے بڑے وزیر، افسران، جرنیل تو اب میاں برادران کے ساتھ ہیں پھر یہ دوہرا معیار کیوں بلکہ سندھ اور پنجاب کے تو بعض زرداری بینظیر بھٹو کے ساتھی بھی مسلم لیگ نواز میں آ گئے ہیں وہ تو قبول ہیں لیکن چوہدریوں نے کیا مشرف سے بڑے جرائم کئے ان کو بھی گلے لگا لیتے تو آج ملک دلدل میں نہ پھنسا ہوتا اور نہ ہی آج کے سیاسی منظرنامے میں ”میاں جی“ تنہا ہوتے! اگر وہ اپنے ”نورتنوں“ کے علاوہ بھی زمینی حقائق پر غور کرنا پسند کریں تو یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ عمران خان کے امیدوار 10 ہزار سے 30 ہزار ووٹ مختلف حلقوں میں لے لیں گے۔ میاں نواز شریف یہ 10 تا 20 ہزار ووٹوں کی کمی جماعت اسلامی سے اور جے یو آئی فضل الرحمن گروپ سے اتحاد کر کے کچھ لو کچھ دو کے تحت پورا کر سکتے تھے لیکن ان کو کلین سویپ کے سبز باغ سنٹرل کمیٹی اور علاقائی قیادتوں نے دکھائے ہیں۔ سیاسی پنڈت اور تجزیہ نگار (غیر جانبدار) یہ سمجھتے ہیںکہ حقیقی لیڈر ہونے کا تقاضا یہ تھا کہ نواز لیگ دو یا تین بڑے گروپوں سے پنجاب اور خیبر پی کے، بلوچستان میں کیک بانٹ کر کھانے کا فیصلہ کرتی وہ شاید اپنے آپ کو (میاں صاحب) امریکہ و یورپ کے لئے اور جرنیلوں کے لئے قابل قبول بنانے کے لئے کچھ جدت پسند نظر آنا چاہتے ہیں شاید آئندہ علاقائی و بین الاقوامی تقاضے ایسے ہی ہوں لیکن اسلامی جماعتوں سے اتنا ”بدکنا“ عاقبت نااندیشی ہے اور غلط سیاسی حکمت عملی! اگر یہ مذہبی چھوٹی جماعتیں نواز لیگ کے امیدواروں کے مقابلے پر انتخابات لڑتی ہیں تو لامحالہ 5 تا 25 ہزار ووٹ مختلف حلقوں، صوبوں میں یہ دونوں (جماعت اسلامی، جے یو آئی) لے جا کر انتخاب تو شاید نہ جیت سکیں لیکن قومی و صوبائی اسمبلی میں نواز لیگ کے مخالفین کی جیت کی وجہ بن جائیں گی جس کی تمام ذمہ داری مسلم لیگ نواز کی قیادت پر آئے گی جو تنہا پرواز اور کلین سویپ کے زعم میں شاید مرکز میں حکومت نہ بنا سکے اگر کچھ ”انہونی“ ہو بھی گئی تو پھر دیگر چھوٹے گروپوں سے الحاق کر کے کولیشن حکومت بنانا پڑے گی پھر وہی کبھی ایک اتحادی نکل گیا تو حکومت ڈانوا ڈول غیر مستحکم۔ پھر سوال یہ ہے کہ آج ہم کمزور پہلوﺅں پر ازسرنو غور کر کے ”کچھ دو کچھ لو“ کیوں نہیں کر سکتے؟ آخر کیوں؟ مذہبی جماعتوں کو بھی اور نواز لیگ کی بڑی قیادت کو بھی قومی مفاد میں دوبارہ غور کر کے امیدوار دستبردار کرانے چاہئیں اور جتنا ممکن ہو، پنجاب، خیبر پی کے میں وسیع اتحادی امیدوار آگے لانا چاہئیں تاکہ آئندہ مضبوط جمہوری حکومت قائم ہو سکے ورنہ وہی دورِ سیاہ آ سکتا ہے جس سے سونامی خان، میاں شہباز شریف اور دینی جماعتیں پناہ مانگتی ہیں، ذرا ٹھنڈے دل سے!