ہر سمت خزاں کیوں چھائی ہے

15 اپریل 2013

اقبال تمہارے گلشن میں ہر سمت خزاں کیوں چھائی ہے
ہر پھول یہاں کملایا ہے ہر ایک کلی مرجھائی ہے
ہر شہر کے گلشن گلشن میں برسات ہے خون اور شعلوں کی
کس شخص نے میری دھرتی پر بارود کی فصل اگائی ہے
قائد کے چمن کی حرمت کو کس ظالم نے پامال کیا
پرکیف سہانے موسم میں کس نے یہ آگ لگائی ہے
بلبل کا سینہ چاک ہے کیوں اور کوئل کیوں کرلاتی ہے
اڑتے آزاد پرندوں کی آواز یہاں کملائی ہے
جو قائد نے مہکائی تھی خوشبو وہ آج سسکتی ہے
رنگین فضاﺅں میں کیونکر یہ آج اداسی چھائی ہے
جنگلی بدمست درندوں نے اک دسترخوان سجایا ہے
مزدور کے بھوکے بچوں کو روٹی نہ میسر آئی ہے
گلشن کے تحفظ کا کر کے ہم عہد خدا سے بھول گئے
اللہ اکبر کی عابد کس نے آواز دبائی ہے
(جاوید احمد عابد شفیعی)