میرا قائد!

15 اپریل 2013

مکرمی! حضرت قائداعظم اپنی جوانی میں بہت ہی بلند کردار تھے۔ آپ کی بلند کرداری کے بارے میں سروجنی نائیڈو حیران ہو جاتیں تھیں۔ جس نے آپکو اپنی طرف عشقیہ نظموں کے ذریعے مائل کرنا چاہا ”جو ہندوستانی بُلبل“ کے نام سے جانی جاتی تھی مگر قائداعظم کی دلچسپی حاصل کرنے میں ناکام رہی وہ لکھتی ہے کہ انکی جسمانی ناتوانی ایک نظر فریب پردہ ہے جس کے پیچھے ذہن اور کردار کی غیر معمولی قوتیں پوشیدہ ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ کہ لندن میں حصول تعلیم کے لئے لینڈ لیڈی کے ہاں رہا کرتے تھے اس کی جواں سالہ حسین بیٹی نے کرسمس کے موقع پر آپ کو بوسہ لینے کو کہا تو آپ نے کہا کہ ہمارے کچھ سماجی اصول ہیں اور یہ ان میں شامل نہیں۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کا ایک خواب قائداعظم کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ اپنے رب اور نبی کریم سے کس قدر قریب تھے۔ خواب میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نبی کریم سے استفسار کرنے لگے کہ آپ نے ایک داڑھی منڈھے شخص کو سینے سے کیوں لگایا تو اس پر نبی کریم نے فرمایا کہ اس شخص کے ظاہری لباس اور شکل و شباہت کو نہ دیکھو اس کے سینے میں جھانکو جس میں ملت اسلامیہ کا بے پناہ درد ہے۔ جس عظیم لیڈر کی شہادت خود میرے آقا دیتے ہیں تو میں ایسے شخص کو اپنا لیڈر کیوں نہ بناﺅں۔ جو ماں باپ کا فرمانبردار کہ ماں نے انگلستان جانے سے پہلے شادی کر دی اور آپ نے سر تسلیم خم کیا۔(اقراءجھٹول ۔ لاہور)