ظالم کو چھوڑ دینا بھی ظلم ہے

15 اپریل 2013

مکرمی!اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے 16 مارچ2013کو ہفتہ وار چھٹی کو ختم کرکے بہت سے ایسے کام کئے ہیں جودیانتدارانہ حکمرانی کے مسلمہ اصولوں کی سراسر نفی تھے۔ اس حکومت کو جہاں یہ ”اعزاز“حاصل ہے کہ اس نے پہلی بار جمہوری دور مکمل کیا ہے وہاں دوسرے بہت سے ”آزار“بھی اس کا وطیرہ رہے ہیں۔ عوام کے مسائل سے مجرمانہ چشم پوشی اور اعلی عدالتوں کے احکامات کو کسی خاطر میں نہ لانا بھی اس جمہوری حکومت کا خاصہ رہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق آخری روز یعنی 16 مارچ2013کو بہت سے ایسے قرضے بینکوں کے ذریعے جاری کئے گئے جو معیشت اور بلکتی عوام پر بوجھ ثابت ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے پہلے ہی ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک اشرف وتھرا کی تعیناتی کا نوٹس لے کر اسے معطل کرنے کے احکامات صادر فرمادئیے تھے۔ لیکن وہ بدستور اپنے عہدے پر موجود ہیں۔الیکشن کمیشن سے گذارش کی جاتی ہے کہ فوری طور پر وزارت خزانہ کا تمام ریکاڈ اور مرکزی بینک کے ذریعے تمام بینکوں کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرکے آخری روز کے ”کارناموں“ کی تحقیقات کرے۔ ڈپٹی گورنر اشرف وتھرانے تو ابھی کچھ کرنا ہوگامگر حکومت بینکوں کے ذریعے دن دیہاڑے جو واردات غریب عوام کے ساتھ کرچکی ہے اس کا نوٹس لینا نہایت ضروری ہے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی گذارش ہے کہ16مارچ2013کے دن کی تمام مالیاتی سرگرمیوں کا ریکارڈ طلب کرکے تحقیقات کرے۔وقت پر لگایا ہوا ایک ٹانکا مستقبل میں 9ٹانکے لگانے سے محفوظ رکھنا ہے ۔ ظالم کو چھوڑ دینا ظلم کو حوصلہ فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔(شہریار احمدگوجرانوالہ)

ظالم اور مظلوم

کسی سیانے کا کہنا ہے کہ جب انسان انسانیت ترک کر دے تو اسے خوف سے بچانا مشکل ...