ہنگامی اقدامات کی ضرورت

15 اپریل 2013

مکرمی! وطن عزیز پاکستان آج کل توانائی کے سنگین بحران کا شکار ہے جس کے نتیجہ میں قومی پیداوار کا عمل بُری طرح متاثر ہونے سے معاشی ترقی کے اہداف پورے نہیں ہو رہے اور دوسری طرف گھریلو استعمال کے لئے حسبِ ضرورت بجلی اور گیس کی عدم فراہمی کے باعث عوام کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ سبکدوش ہونے والی حکومت توانائی کے شعبے میں درپیش مسائل کی نشاندہی اور انہیں حل کرنے کی تدابیر نہیں کر سکی اور بدقسمتی سے ہماری سیاسی پارٹیوں میں ماہرین اقتصادیات تو کجا معاشی مبادیات کی ضروری سوجھ بوجھ رکھنے والوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی، تقاضے پس پشت رہ جاتے ہیں اور سیاسی مصلحتیں فیصلوں کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم کے وسائل پاکستان کی صنعتی و زرعی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں اور معیشت کا پہیہ انہی کے زور سے چلتا ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے لئے ہمارے پاس پانی، ہوا اور ایٹمی توانائی کے علاوہ کوئلے کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں۔ صرف تھر کے کوئلے سے وافر بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جبکہ گنے کے پھوگ اور سورج سے توانائی حاصل کرنے کا آپشن بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ ان متبادل ذرائع سے بھی استفادہ کرنا چاہیئے۔ آنے والی حکومت کو توانائی کے بحران پر قابو پانا ہے تو اسے اپنی پہلی ترجیح بنانا اور ایک چیلنج سمجھ کر قبول کرنا ہوگا اسے سمجھنا ہوگا کہ یہ مسئلہ کیونکر پیدا ہوا اور اس کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟ ملک کی زوال پذیر معیشت کو سہارا دینے اور عوام کی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لئے ہمیں توانائی کے وسائل بڑھانے کے لئے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔ (چودھری محمد اکمل چیمہ ،ابو سعدیہ سید جاوید علی شاہ سیالکوٹ )