الیکشن 2013زندہ دلان لاہور اور فتح کا تاج

15 اپریل 2013

چوہدری اختر رسول یار منانے میں کامیاب ہوئے یا نہیں مگر سابقہ کالم میں اختر رسول کے اپنے قائد کو منانے کا منظر پڑھ کر قارئین نے اس عمل کو جرات رندانہ قرار دے کر داد دی تو کچھ نے خوشامدکہہ کر ناراضگی کا اظہار کیا۔ دونوں طرح کی رائے میں شدت یکساں تھی لہذا وہ شعر جو اختر رسول نے میاں صاحب کی خدمت میں پیش کیا وہ تحریر کرنا لازم ہوگیا ۔پر امید اختر رسول چودہ سال جدائی کے بعد ایسی کسی حرکت سے گریز اور پرہیز پر کاربند ہے جس سے تعلقات میں خلیج کے امکان منعکس ہوں۔ بہرحال ہم دل جوڑنے ، رشتے نبھانے اور دوستی کو دوام بخشنے کے قائل ہیں ۔خدا کرے کہ دونوں کا تجدید محبت زندگی بھر قائم رہے آئندہ کبھی حالات کے ستم وفاﺅں کے چمن کو خزاں رسیدہ نہ کر پائے تادم تحریر مسلم لیگ نے ٹکٹوں کے فیصلے عیاں نہیں کئے ایسی ہی صورتحال دوسری جماعتوں کی دیکھی جارہی ہے ۔
  الیکشن مرحلہ وار آگے بڑھ رہا ہے مگر کہیں گہما گہمی ہے نہ انتخابی رنگ ڈھنگ دکھائی دیتے ہیں ۔ایک ماہ سے کم عرصہ باقی ہے کہیں سیاسی جلسے ہیں نہ دفاتر ، جھنڈے لہرا رہے ہیں نہ نعروں کی گونج سنائی دیتی ہے ۔پہلے مرحلے میں پریزائڈنگ افسران غیر ضروری سوالوں سے اپنی عدالتی مجلس گرماتے اور امیدواروں کو نیچا دکھانے میں وقت ضائع کرتے ہیں جن جعلی ڈگری والوں کو جیل بھیجا گیا ان کو اگلی عدالت نے بری کر دیا ۔ٹیکس چوروں اور قرض خوروں کے بارے میں پالیسی سمجھ سے باہر ہے ۔آئین کی دفعہ 62,63کا غوغہ آسمانوں تک سنا گیا مگر عمل تنکے برابر بھی نہیں ہوا ۔ہر جماعت میں وہی لوگ معزز و مکرم ہیں جن کے بارے میں ٹی وی چینل پر ثبوتوں کے ساتھ انکشافات ہو رہے ہیں ۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 62,63عاصمہ جہانگیر ٹائپ سیکولر کو بڑا گراں گزرتا ہے ۔اعتزاز نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ان کے آرٹیکلز پر تو قائد اعظم بھی پورے نہیں اترتے ۔ایک تیر سے دو شکار ہوگئے۔ ایک طرف آئین پاکستان کی تضحیک کے مرتکب ہوئے تو دوسری جانب بابائے قوم کے کردار کو اسلامی شعار سے عاری کہنے کے مجرم ٹھہرے پھر پنجاب میں ایسے شخص کو اقتدار سونپا گیا جو ہمیشہ پاک فوج ، بانی پاکستان اور نظریہ پاکستان کی نفی میں پیش پیش رہا ۔ یہ کس کا فیصلہ ہے ؟کس مجبوری کے تحت قبول کیا گیا ؟عجب طائف الملوکی کا عالم ہے صدر پاکستان جو پیپلز پارٹی کے سربراہ بھی ہیں وہ نگران کابینہ سے ملاقاتیں کرتے ہیں ۔ چاروں گورنر پیپلز پارٹی کے دور حکومت سے متعلق ہیں ۔ گورنر پنجاب کے تینوں صاحبزادے اور دوسرے قریبی عزیز ایک جماعت کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں اور گورنر سے غیر جانبداری کا منظر بھی دیدنی ہے ۔ صوبہ سندھ میں گورنر کے علاوہ نگران کابینہ اور افسر شاہی سے بھی دس جماعتی اتحاد معترض ہے ۔ دوسرے دونوں صوبوں اور مرکز میں بھی وہ افسر شاہی برجمان ہے جو سابقہ حکومت کی بااعتماد اور پسندیدہ تھی ۔نگران حکومتوں میں شامل افراد پر بھی نکتہ اعتراض بڑھتے چلے جا رہے ہیں کوئی کسی سابق کا فرنٹ مین ہے تو کوئی دوسرے کا پروردہ بتایا جا رہا ہے یعنی نگرانوں کی نگرانی بھی شکوک و شبہات سے لتھڑی ہوئی ہے ۔سیاسی پارٹیوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل طاری ہے ۔ ایسے میں شفاف انتخابات کا ہونا ممکن ہے یہ سوال ہے جسے ابھارنے کے لئے ہر جانب سے فاﺅل پلے کیا جا رہا ہے یعنی ماحول کو بے یقینی بے اعتمادی کی ایسی کیفیات سے دو چار کردیا جائے کہ لوگ انتخابی نتائج کے بارے میں نہ صرف شک کریں بلکہ قبول کرنے سے انکار کر دیں ۔
پنجاب سے بجلی غائب کرکے کیا حاصل ہوگا ؟بڑے شہروں میں بجلی کی طویل بندش کے باعث پانی بھی دستیاب نہیں ۔ گھروں میں گرمی سے بچے بلک رہے ہیں ۔ پینے او ر گھریلو استعمال کےلئے پانی نہیں یہی حال مسجدوں تک میں ہے ۔ ایک جانب گھریلو زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں دوسری سمت بجلی نہ ہونے کی وجہ سے صنعت و حرفت اور چھوٹے کاروبار بھی مفلوج ہیں جو بیروز گاری میں اضافے کے باعث عام آدمی کے مزاج میں چڑچڑا پن اور عدم برداشت کا اضافہ ہو رہا ہے ۔ امن و امان کا حال بھی ٹھیک نہیں ۔ پہلے چور رات کے اندھیروں کا انتظار کرتے تھے مگر آج کل شہروں میں سرعام دن دیہاڑے پرس اور موبائل چھینے کی وارداتیں عام ہیں ۔ ستم بالائے ستم تھانے جانے پر رپورٹ درج کرانے کے لئے بڑی سفارش درکار ہوتی ہے ۔
سیاسی جماعتوں کے منشور میں مسائل کے واضح منصوبہ جات منظر عام پر نہیں آئے۔ حادثہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں کارکن ناپید ہے جو ہیں وہ منشور دستور کے حوالے سے نابلد اور کورے ہیں ۔ کسی منشور میں کالا باغ ڈیم کا ذکر ہے نہ بھارتی آبی جارحیت کی مذمت ، مسئلہ کشمیر کو فوقیت ہے نہ اسلامی معاشرے کے احیائے کا کوئی پروگرام واضح ، ذراعت کے لئے کوئی منصوبہ بندی ہے نہ بجلی کی کمی دور کرنے کا ہنگامی پروگرام طلبہ اور مزدورےونےن کا ذکر نہیں۔عوام الناس الیکشن کے انعقاد کے بارے میں غیر یقینی حالت پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں ۔سیاسی مسافر عجب گردش میں ہیں صبح شام پارٹیاں تبدیل کر رہے ہیں ۔ منافع خور اپنی واردات پر ہیں ۔ سبزی پھل ہو یا کھانے پینے کی اشیاءصبح شام قیمتیں تبدیل ہورہی ہیں ۔ کوئی نوازشریف ،زرداری اور عمران کو بتائے کہ ملک میں پیاز 100روپے کلو فروخت ہو رہا ہے ۔کوئی روکنے والا ہے نہ فریاد سننے والا۔امن و امان قابو میں نہیں عوام اندھیروں میں ڈوبے ہیں مگر نگران بسنتی وزیر اعلیٰ بڑکیں مارتا نہیں تھکتا ۔پاک فوج الیکشن کےلئے سول حکومت کے احکامات کی منتظر ہے مگر الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ احکامات سے گریز ہو رہا ہے ۔ بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دے رہی ہیں ۔ تحریک انصاف اور ن لیگ والے اپنی اپنی جماعت کو کلین سویپ کرانے کا دعوی کر رہے ہیں مگر سیاسی جوپنڈت سینٹر پنجاب میں ان ہی دونوں جماعتوں میں گھنسان کا میدان لگنے کی پیش گوئیاں کررہے ہیں ۔لاہور پاکستانی سیاست کا دارلخلافہ ہے جوپارٹی لاہورکو اپنے رنگ میں رنگنے میں کامیاب ہوگئی اسے پورے پاکستان میں کوئی نہیں پکڑسکتا ۔ زندہ دلان لاہور جسے فتح کا تاج پہنائیں گے پورا پاکستان اس کی تائید کرے گا ۔پی پی محدود ہو کر صوبہ سندھ میں متحرک ہے ۔ ایم کیو ایم کو ہرانے کے لئے ون ٹو ون مقابلہ درکار ہے ۔این اے 250میںجماعت اسلامی ، مسلم لیگ ن ، اے این پی ، فنگشنل لیگ اور تحریک انصاف کے مضبوط امیدوار آمنے سامنے ہونگے تو ایم کیو ایم ہی جیتے گی۔
قارئین کرام !موجودہ الیکشن کے نتائج ملکی مستقبل اور سلامتی کے حوالے سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں لہذا ذاتی علاقائی سوچ سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف ملکی بقا اور آئندہ نسلوں کے محفوظ اور خوشحال مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ کا استعمال کریں اور اپنے گردو پیش میں رہنے والوں کو بھی متحرک و منظم کرنے میں کردار ادا کریں کیونکہ عوامی رائے تقسیم ہونے سے پارلیمان معلق بنے گی جس سے ملک بلیک میلروں اور مفاد پرستوں کے رحم و کرم پر ہوگا جنہیں اپنی ذات کے آگے ملکی وقار عزیز ہے نہ قومی اقدار کا پاس ہے ۔اس مایوس کن حالات میں عوام کو منظم اور متحرک ہونے میں ہی ملکی سلامتی و خوشحالی کا راز پنہاں ہے ۔