اس فقیر کو دس روپے کا نوٹ دیتے جائیں

15 اپریل 2013

پہلے ایک شعر سن لیں:
اے یقینوں کے خدا شہر گماں کس کا ہے
نور تیرا ہے چراغوں میں دھواں کس کا ہے
دہائی ہے کہ یقینوں کے خدا کی اس دنیا میں ایک ملک پاکستان میں بس بے یقینی کا سا موسم رہتا ہے۔ 11مئی کو انتخابات کا اعلان سرکاری ہے۔ گلی محلوں میں انتخابی جلسوں کے دوران یہ سوال بھی ہر دل و دماغ میں ضرور سر اٹھاتا ہے کہ کیا انتخابات ہونگے؟ عبوری انتظامات کے تحت آنے والوں نے اتنے انتظامات کئے ہیں کہ یہ سب نرے عبوری انتظامات نہیں لگتے۔ کچھ پکا بندوبست دکھائی دیتا ہے۔ میں کسی کی نیت پر شک نہیں کرتا۔ لیکن کیا کروں، خود میری بھی نیت پاک صاف نہیں....
میں تیرے عہد وفا کو عہد کیا سمجھوں
مجھے خود اپنی محبت کا اعتبار نہیں
پھر اس ملک کے ہر دم زیر تعمیر سے جمہوری نظام کو ایک کھٹکا فوجی بیرکوں کی طرف سے بھی رہتا ہے۔ شتر مرغ اپنی آنکھیں ریت میں دبائے کچھ تو دیکھتا ہوگا اور اپنی من مرضی کا دیکھتا ہوگا۔ امن، سکون، سلامتی اور شانتی کا فضا کے خواب۔ ادھر ہم بھی دیکھتے ہیں کہ صدر ایوب، صدر یحییٰ، صدر ضیاءالحق، صدر پرویز مشرف سبھی جرنیلی صدروں کے چہروں پر مختلف ڈیزائن اور انداز کی مونچھیں ہیں۔ لیکن اپنے ”سکہ رائج الوقت“ جرنیل کلین شیوڈ نظر آتے ہیں۔ ان کا مونچھوں سے عاری چہرہ کیا بھلا لگتا ہے۔ ہم خوش ہوتے ہیں، ہمیں خوش ہونے دیں۔ یہ خیال ذہن سے جھٹک لینے دیں کہ مونچھوں کو اگنے میں بھلا دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ یہودیوں سے پوچھو، انہیں ملک صدیوں کے جتنوں کے میسر آیا۔ ملک مل گیا ہے۔ امن چین نہیں مل سکا۔ وہ اک مسلسل حالت جنگ میں جی رہے ہیں۔ جس دن گھڑی پل کی غفلت دکھائیں کے، مارے جائیں گے۔ ہمارا سفر حصول پاکستان 1940سے 1947تک۔ ارے یہ تو قوموں کی زندگی میں اتنا ہی وقت ہے جتنا ٹکٹ خرید کر بس میں سوار ہونے میں لگتا ہے۔ تم اللہ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاﺅ گے۔ بڑے لوگ قوموں کے لئے اللہ کا انعام ہوتے ہیں۔ یہ نعمت کے طور پر عطا کئے جاتے ہیں اور سزا کے طورپر روک لئے جاتے ہیں۔ پہلی صف کے لوگ انسانی تاریخ میں کتنے ہونگے بھلا؟ بڑی آسانی سے گنے جا سکتے ہیں۔ حضرت مجید نظامی کی سالگرہ کا کیک کاٹنے کی تقریب میں ایک چھوٹے سے قد کے آدمی نے ایک بہت بڑی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے محمد علی جناح قائداعظم تھے۔ ان کے قائداعظم ہونے کی اک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ شاعر مشرق کے بھی قائد تھے۔ پھر شاعر مشرق کیا تھے۔ انہی کا ذکر انہی کے لفظوں میں:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے، اور پھر کہیں جا کر چمن میں ایک دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔ دیدہ وروں کے ساتھ کچھ کور چشموں کا بھی ذکر ہوجائے۔ ہمارے ملکی مالی حالات یوں ہیں کہ قرضہ کی مقدار تیرہ ٹریلین سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہمارے ریونیو بجٹ کا ستر فیصد قرضوں پر واجب الادا سود اور ایسی دیگر ادائیگیوں پر صرف ہو جاتا ہے۔ باقی تیس فیصد سے توپ تفنگ، گولہ بارود، خوراک، تعلیم، علاج معالجہ اور ۔۔۔۔۔ اور۔۔۔ہمارے حکمرانوں کے غیر ملکی دورے۔ چھوٹے چھوٹے ملکوں اور قوموں کے نمائندے بری بڑی گاڑیوں میں بیٹھے کچھ اور چھوٹے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن انہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ہاﺅس ہمارے وزیراعظم ہاﺅس کے ایک سرونٹ کوارٹر سے تھوڑا سا ہی تو چھوٹا ہے۔ مایوسی کفر سہی لیکن ہم کتنے مسلمان ہیں۔ رتی برابر ایمان پر اتراتے پھرتے ہیں۔ رتی میں صرف اللہ، رسول کا زبانی اقرار آتا ہے۔ لیکن برگد کے درخت کا بیج، ایک رتی میں کتنے بیج آتے ہونگے۔ آخر یہ بیج ایک تناور درخت کا روپ دھار لیتا ہے۔ ایک اچھی خبر شہزاد نیر سنا رہے ہیں۔
فلک سے رفتگاں نے جھک کے دیکھا
بساط خاک سے اٹھنا ہمارا
تو کیا خلق خدا جاگ اٹھی ہے؟ ہاں ہاں۔ بیداری کے کچھ آثار ہم نے بھی دیکھے ہیں۔ شہزاد نیئر سچی خبر لائے ہیں۔ گزشتہ روز کے اخبارات میں زرداری پارٹی کا نصف صفحے کا اشتہار موجود ہے۔ اس میں بھوکوں کو بتایا جارہا ہے کہ آپ کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں۔ آپ کھانا کھا چکے ہیں۔ پچھلے پانچ برس آپ کبھی بھوکے نہیں سوئے۔ اور ادھر بھوکے بیچارے، یہ سب کچھ بڑھ کر نقاہت کے مارے ہنسنے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ آج کل شعور کی بیداری کا یہ عالم ہے کہ سڑک کے کنارے ایک فقیر ایک بورڈ کے ساتھ بیٹھا بھیک مانگ رہا ہے۔ بورڈ پر موٹے موٹے حرفوں پر لکھا نظر آرہا ہے کہ مجھے دس روپے کا نوٹ دیتے جاﺅ۔ ورنہ الیکشن آنے والا ہے اور میں موجودہ حکمرانوں کو ہی ووٹ ڈالونگا۔ پھر انشاءاللہ آپ بھی جلد ہی میرے پڑوس میں جگہ ڈھونڈتے پھریں گے۔ لوگ امید رکھیں، الیکشن ضرور ہونگے۔ فوج زندہ باد۔ عدلیہ زندہ باد۔ اس فقیر کو دس روپے کا نوٹ دیتے جائیں ، وگرنہ سنگین نتائج کے آپ خود ذمہ دار ہونگے۔ پھر نہ کہنا کہ ہم بے خبری میں مارے گئے۔