سیاست کا ”سرکاراما“ اور ایس ایم ظفر!

15 اپریل 2013

یہ کتاب جس پر میں بات کرنے جا رہی ہوں۔ نہ تو کوئی دیومالائی قصہ ہے نہ الف لیلوی داستان کا ہوشربا حصہ ہے نہ کسی شجر ممنوعہ کی عشقیہ ڈال ہے بلکہ یہ ہماری پاک مملکت کا سیاسی ماضی و حال ہے۔
اور عین انتخابات کے موسم میں اس کتاب کا شائع ہو کر منصبہ شہود پہ آ جانا ایک نیک فال ہے۔ میں عرصہ¿ دراز سے ایک شخص کو دیکھ رہی تھی۔ ایک طلسماتی ادا کے ساتھ محفلوں میں آتا۔ کسی نہ کسی منصب کے حوالے سے متعارف کروایا جاتا۔ کبھی محفل لوٹ کے لے جاتا۔ کبھی موضوع سخن کی بساط لپیٹ کر لے جاتا۔ وہ دلائل و براہین کا جیتا جاگتا پلندہ تھا۔ میزان میں جھوک نہیں آنے دیتا تھا۔ کئی مشہور مقدمے جیت کر بغل میں دبا رکھے تھے۔ میں ہمیشہ اسے دیکھ کر سوچا کرتی یہ کس شعلے سے ٹوٹا ہوا شرارہ افلاطون ہے کس کی گود کا تارا ہے کس طبقہ فکر و فلسفہ کا دلارا ہے۔ ان کی تازہ تصنیف ”سنیٹر ایس ایم ظفر کی کہانی ان کی اپنی زبانی“ میں نے پڑھی تو اس کے اندر ایک نہایت دلپذیر شخصیت کی باوقار تصویر دیکھی جس کے نیچے لکھا تھا جناب سید محمد اشرف کشفی شاہ نظامیؒ تو یکایک ان کی پر اسرار قوتوں کا سراغ مل گیا۔ جب آسمان صفت والد کا سایہ عاطفت ملتا ہے تو زمین پر فرزند ارجمند جہاں جہاں قدم جماتا ہے وہاں وہاں پھول اگتے جاتے ہیں۔
آج کی شام کے سارے پھول سارے سلام حضرت کشفی نظامیؒ کے نام!
میں ہر اہم کتاب کا دیپاچہ ضرور پڑھتی ہوں۔ تعارف اور پیش لفظ اگر مصنف نے خود لکھا ہو تو کتاب کی اصل روح عیاں ہو جاتی ہے۔
میں اس روح کی روانی کے ساتھ اس طرح بے ساختہ دوڑی کہ 855 صفحات کی کتاب کو ختم کر کے دم لیا۔ ایسی جادو اثر کتاب کہ ناول بھی نہیں ہے مگر کرداروں سے اٹی پڑی ہے۔ کردار بھی وہ جن میں سے کئی زندہ سلامت ہیں اور باقاعدہ بولتے چالتے نظر آتے ہیں۔ واقعات کا تسلسل ہے کہ کہانی کی کڑیاں خود ہی ملائے جاتا ہے۔ زماں و مکاں کے فاصلے سمٹتے پھیلتے نظر آتے ہیں۔ زبان اتنی سلیس اور شستہ کہ باتیں ذہن میں اترتی جاتی ہیں۔ زیب داستان یا غلو کا کہیں شائبہ تک نہیں....
حقائق ہی حقائق.... تلخ، ترش، مزید ترش
 اور یادداشت ایسی کہ سبحان اللہ....
میں اس کتاب کو صحیح معنوں میں اکیسویں صدی کا سیاسی سرکاراما“ کہتی ہوں۔
اس تاریخ ساز کتاب کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کتاب ان تجزیہ نگاروں اور تبصرہ سازوں کی کتابوں سے قطعی مختلف ہے۔ جو باہر بیٹھ کر اندر سیندھ لگاتے ہیں۔ سنی سنائی اور لگائی بجھائی سے نتائج اخذ کر کے کتاب لکھ دیتے ہیں۔ ایس ایم ظفر اس کتاب کے اندر ایک کردار کی صورت میں ہر دم موجود رہے اور آپ کو اندر کی کہانی منہ زبانی سنا رہے ہیں بلکہ اہم فیصلوں میں ان کی رائے بھی شامل رہی ہے اور اس کا انہوں نے اعتراف بھی کیا ہے۔ یہ کتاب ایک دردناک سیاسی داستان ہے مگر مصنف کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے نہ تو الزام تراشی کی روش اپنائی۔ نہ خواہ مخواہ نکتہ چینی کی نہ لفظوں کا تھوک کیا نہ اپنے کردار کو بار بار ابھارا۔ نہ میں میں کی گردان کی۔
تاریخ اور جغرافیے کے طالب علموں کے لئے یہ کتاب انسائیکلوپیڈا ہے سیاست کے سوداگروں کے لئے ایک آئینہ ہے اور ریسرچ و تحقیق کے طلبگاروں کےلئے نعمت غیر مترقبہ ہے۔
بعض مقامات پر ظفر صاحب نے سربراہان اور لیڈران کےلئے ایسی ادبی اصطلاحات استعمال کی ہیں جو ان کی سخن شناسی اور طنزو مزاح کے ادبی ذوق کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کتاب کے عنوانات دیکھئے ایل ایف او کا وائرس 17 ویں ترمیم، ڈاکٹر عبدالقدیر خاں، میاں نواز شریف کی سعودی عرب روانگی، قاتل کون، بلوچستان امور خارجہ وغیرہ پاکستان کی نوسالہ سیاسی جدوجہد کا مکمل نقشہ اس کے اندر ہے۔ مگر میں یہاں صفحہ 262 اور 263 کے چند اقتباسات مختصراً پیش کرتی ہوں۔
-1 سال1954ءشعبدہ باز ملک غلام محمد عرف گورنر جنرل جو اپنی شعبدہ بازی سے عوام کو متاثر کر چکا تھا اس نے اس رنگین رومال کو دوبارہ جھٹکا اور پوری آئین ساز اسمبلی غائب کر دی۔(عوام ہکا بکا رہ گئے کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے)
-2 سال1958ءڈائریکٹر محمد ایوب خان عرف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ڈائریکٹر نے جادو کی چھڑی (مارشل لائ) گھمائی اور ملک بے آئین ہو گیا۔
(عوام کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا)
-3 ڈائریکٹر ثانی محمد یحییٰ خان عرف غاصب نے محمد ایوب خان سے چھڑی لے کر اسے ایک بار ایوب خان اور اس کے تعمیر کردہ صدارتی نظام کی جانب کیا ایوب خان صدارت سے محروم اور صدارتی نظام کی عمارت دھڑام سے زمین بوس ہو گئی۔
(عوام کو سمجھ نہ آ رہی تھی کہ اتنا مضبوط نظام کس طرح اتنی آسانی سے بکھر گیا اور مطالبات کا کیا بنا جس نے قوم کو بخار چڑھا رکھا تھا)
-4 سال1971ءاداکار ذوالفقار علی بھٹو عرف قائدعوام۔ اداکار نے اپنے دونوں ہاتھوں میں ایک ایک ٹوپی پکڑی ہوئی تھی۔ جب وہ دائیں ہاتھ والی ٹوپی سر پر رکھتا تو ناظرین کو وہ ایک فورسٹار جرنیل دکھائی دیتے جو فوجی دستے سے سلامی لے رہا ہوتا لیکن جب وہ بائیں ہاتھ والی ٹوپی سر پر رکھتے اور خوبصورت سوٹ پہنے ملک کے صدر اور پاکستان کے پرچم کو سلیوٹ دے رہے ہوتے۔
(عوام یہ تماشا دیکھ کر دیر تک محظوظ ہوتے رہے)
-5 سال1977ءڈائریکٹر ثالث جنرل ضیاءالحق عرف فاتح کابل نے جادو کی وہ چھڑی جسے ایوب خان اور یحییٰ خان نے استعمال کیا لیکن اسے 73ءکے آئین کے ذریعے ایک ڈبے میں جس پر آرٹیکل 6 لکھا ہوا تھا بند کر دیا گیا تھا۔ اس کو باہر نکالا۔ اسے خوب صاف کیا اور جب گھمایا تو 1973ءکا آئین بمع ڈبا صرف آرٹیکل 6 فضا میں معلق ہو گیا اور فاتح کابل کے اردگرد 9 ستارے گردش کرنے لگ پڑے۔
(عوام کبھی معطل آئین کو دیکھیں، کبھی آرٹیکل6 کے ڈبہ کو اور کبھی اداکار کو یاد کریں۔ کبھی نو ستاروں سے متاثر ہوں)
-6سال1997ءجوڈوکراٹے کا ماہر میاں محمد نواز شریف عرف ہیوی مینڈیٹ نے ایک بار ہی سپریم کورٹ میں حاضری دی۔ دو ہلکے ہلکے جھٹکے دیئے عدالت عظمیٰ تڑاخ سے دو ٹکڑے ہو گئی۔
(عوام نے دانتوں میں انگلی دبا رکھی تھی۔ ایسا پہلے تو کبھی نہ ہوا تھا)
-7 ڈائریکٹر چہارم جنرل پرویز مشرف عرف کمانڈو34000 میٹر کی بلندی سے چند طلسماتی کلمات دوہراتا ہے اور جونہی اس کا طیارہ گردش لگا کر زمین پر اترتا ہے تو چشم زدن میں ملک کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان جیل میں اور کمانڈر مسند صدارت پر پائے جاتے ہیں۔
(عوام کا ایک طبقہ لڈو بانٹ رہا ہوتا ہے اور باقی بحثوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں)
(مضمون کا کچھ حصہ جو کتاب کی تقریب میں پڑھا گیا)