وجود زن سے ہے کائنات میں رنگ

15 اپریل 2013

دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات پاکستان کی سیاسی زندگی میں کسی ٹرنگ پوائنٹ سے کم نہیں۔ کسی بھی آر کی چھتری کے بغیر خالصتاً مفاہمت‘ کرپشن اور سیاسی آمریت کی بنیاد پر ملک کے طول و عرض میں پانچ سال تک وسائل کی لوٹ مار کرنے کے بعد سیاسی جماعتوں کی اکثریت ایک بارپھر آئندہ کے انتخابی معرکوں کی تیاری میں مصروف عمل ہیں۔ آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ سے بے حال سیاسی جماعتوں کی اکثریت کے سرخیل اور شہسوار متفقہ اور بااختیار الیکشن کمشنر کے ہاتھوں اپنی سیاسی متاع کو جس طرح لٹتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اسے دیکھ کر تو اب انکے ساتھ ساتھ قوم بھی پریشان ہے کہ بچے کا کون‘ خیر یہ ہم جیسوں کا مسئلہ نہیں کیونکہ اس تعفن زدہ سیاسی کیاری میں تبدیلی کے نام پر لگایا لیڈری کا دعویٰ کرنے لگے گا۔
خیر اس سیاسی فریسٹریشن کے ماحول میں جہاں عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے پورے نظام پر چھائے ہوئے جمود کو توڑنے کی کوشش کریں گے وہیں انتخابی عمل میں خواتین کی دلجمی سے موجودگی نے بھی سیاسی کلچر میں بہتری کی بنیاد رکھی ہے ۔ سال دو ہزار تیرہ کے انتخابات اپنی دیگر خصوصیات کے ساتھ ساتھ اس اعتبار سے بھی امتیازی حیثیت رکھتے ہیں کہ سابق انتخابات کی نسبت پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں خواتین امیدوار جنرل نشستوں پر امیدوار ہیں۔ صرف لاہور شہر میں سات خواتین قومی اسمبلی کی نشستوں پر مقابلے کیلئے اتر آئیں ہیں۔
لاہور سے انتخابات میں حصہ لینے والی ان خواتین امیدواروں پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اکثریت ناصرف سیاسی پس منظر رکھتی ہیں بلکہ عوامی خدمت کے جذبے سے بھی مالا مال ہیں۔ ان خواتین امیدواروں میں سرفہرست پاکستان تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں جو حلقہ این اے ایک سو بیس سے نون لیگ کے صرف میاں نواز شریف کے مدمقابل ہیں۔ ڈاکٹری کے پیشے سے منسلک یاسمین راشد سابق صوبائی وزیر تعلیم غلام نبی ملک کی صاحبزادی ہیں۔ غلام نبی ملک اسی حلقے سے سال ستر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر ناصرف منتخب ہوئے بلکہ صوبائی وزیر تعلیم کے فرائض انجام دیتے رہے۔ غلام نبی ملک کے بعد صوبائی اسمبلی کی یہ نشست پیپلز پارٹی نے انکے صاحبزادے شاہد نبی ملک کو دی جو مسلم لیگی امیدواروں کے مقابلے پر گذشتہ کئی انتخابات میں کامیابی تو حاصل نہیں کر سکے۔ مگر ہمیشہ خاطر خواہ ووٹ لیتے رہے۔ سماجی شعبے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی ڈاکٹر یاسین راشد نے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فاروق امجد میر کی رہائش گاہ کو اپنا مرکزی دفتر قرار دے کر باقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے ۔ مگر یار لوگوں کے مطابق میاں نواز شریف کے مدمقابل آنے کیلئے پہلے تو تحریک انصاف کے مرکزی رہنما میاں اظہر نے زور و شور کے ساتھ تیاریاں شروع کی تھیں کہ وہ اپنے صاحبزادے حماد اظہر کو اپنے اس آبائی حلقے میں ٹکٹ دلوائیں گے لیکن نواز شریف کے کاغذات نامزدگی یہاں سے جمع ہونے کے بعد حماءاظہر تو چلے گئے حلقہ این اے ایک سو اکیس میں اور اب مقابلہ کریں گی ڈاکٹر یاسمین راشد۔
حلقہ این اے ایک سو چوبیس سے معروف قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن کی اہلیہ بشریٰ اعتزاز میدان میں اتری ہیں۔ لاہور کا یہ حلقہ اس اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے یہاں سے شاعر مشرق علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال کو ٹکٹ جاری کیا ہے ۔ بیرسٹر اعتزاز احسن اس حلقے سے متعدد بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے مگر سال دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں عدلیہ تحریک سے منسلک ہونے کے باعث انہوں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور حالیہ انتخابات میں سینیٹر ہونے کے باعث یہ ٹکٹ ان کی اہلیہ کو دی گئی۔ اس حلقے سے مسلم لیگ نون کے شیخ روحیل اصغر پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ بشریٰ اعتزاز نے زمان پارک میں موجود اپنی رہائش گاہ پر ہی اپنا مرکزی انتخابی دفتر قائم کیا ہے ۔ جبکہ چودھری اعتزاز احسن بھرپور طریقے سے انکی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ بشریٰ اعتزاز اگرچہ شہر کے سماجی‘ سیاسی حلقے اور خواتین کے حلقوں میں نیا چہرہ نہیں مگر دو لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کا وہ حلقہ جو زیادہ تر متوسط اور پسماندہ علاقوں پر مشتمل ہے اسے بشریٰ اعتزاز کس طریقے سے متاثرہ کر پاتیں اس کا فیصلہ تو گیارہ مئی کو ہو گا تاہم فی الوقت وہ اپنی جیت کے حوالے سے مکمل طور پر پرامید ہیں۔حلقہ این اے ایک سو تیس سے پی پی نے سابق وفاقی وزیرثمینہ خالد گھرکی کو دوبارہ ٹکٹ جاری کیا ہے ۔ لاہور شہر میں بڑے سیاسی گھرانوں کے حلقوں کے بعد یہ واحد حلقہ ہے جہاں گذشتہ دو دہائیوں سے موروثی سیاست چل رہی ہے ۔ اس حلقے سے ثمینہ خالد گھرکی کے مرحوم خاوند خالد جاوید گھرکی منتخب ہوئے رہے ہیں۔(جاری)