ڈرون حملے اور امریکی مجاہد کا اعتراف

15 اپریل 2013

سخت سکیورٹی حصار کے”قیدی“ جنرل(ر) پرویزمشرف نے ایک مرتبہ پھر اپنے امریکی مجاہد ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا ہے۔ پرویزمشرف نے بڑا ہی اہم اعتراف کیا ہے۔ ان کے اس اعتراف سے نہ صرف ان کی حقیقت آشکار ہوتی ہے بلکہ وطن عزیز میں مسلسل ڈنڈے کے زور پر حکمرانی کے دوران ان کی عوام اور ملک دشمن پالیسیاں بھی کھل کر سامنے آتی ہیں۔ پرویزمشرف ملکی تاریخ کے وہ بدترین آمر ہیں جو سیاست کے جواربھاٹا میں قدم رکھنے کے باوجود ایک فیصد بھی عوامی مقبولیت اپنے حق میں سمیٹ نہیں سکے اور پھر نہ جانے کیسے بڑے اترا کے کہتے ہیں کہ فیس بک پر ان کو جوائن کرنے والے ان کے حامیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ افسوس وہ پرویزمشرف جو ملک کے ایوان صدر میں مسلسل دس سالوں تک اقتدار پر قابض رہے، وہ کیسی باتیں کر رہے ہیں اور انہیں کیا ہو گیا ہے۔ پرویزمشرف اپنے آپ کو بڑا دبنگ اور سٹیٹ فارورڈ انسان ثابت کرنے کی کوشش میں ہمہ تن مگن رہتے ہیں مگر ان دنوں وطن عزیز واپس آ کر جب عدالتوں میں مختلف کیسوں کی سماعت کے دوران پیش ہونے اور ملک میں اپنا کوئی سیاسی مستقبل نہ دیکھتے ہوئے فکرمند ہیں تو انہوں نے بہت سارے حقائق کو توڑنا مروڑنا شروع کر دیا ہے۔ وہ بہت ساری باتوں سے انکاری ہو رہے ہیں حتیٰ کہ آزاد عدلیہ کے ججوں کی معزولی اور لال مسجد آپریشن تک کے بارے میں وہ ہر طرح کے اپنے بیان اور بھڑک سے خودی مکر چکے ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے بالاخر ایک اعتراف کر ڈالا ہے۔ اب یہ اعتراف ان کا کمال ہے یا پھر سی این این کے اس صحافی کا کمال جس نے اپنے سوالات کے ذریعے پرویزمشرف کو ایسا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا۔ پرویزمشرف نے سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ڈرون حملوں کے لئے خفیہ معاہدے کئے۔ ڈرون حملوں کے ذریعے ایسے ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کی اجازت دی تھی جن میں اجتماعی نقصان نہ ہو۔ پرویزمشرف نے اعتراف کیا کہ حملوں کی اجازت ایسی صورت میں دی جا سکتی تھی جب ہدف تنہا ہو اور حملے کی صورت میں کسی بڑی تباہی کا امکان نہ ہو۔ حیرت کی بات ہے کہ اس اعتراف سے پہلے خود پرویزمشرف اور تمام پاکستانی رہنما امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی ڈرون حملوں کے بارے میں معاہدے سے انکار کرتے رہے اور کہتے رہے کہ ڈرون حملے ان کی اجازت کے بغیر ہو رہے ہیں۔ اب پرویزمشرف کہہ رہے ہیں کہ شدت پسند پہاڑوں کے ان علاقوں میں رہتے تھے جہاں پہنچنا ممکن نہیں ہوتا تھا۔ فوج اور انٹیلی جنس یونٹ سے بات چیت کے بعد پاکستانی رہنما¶ں کو ڈرون حملوں کی منظوری دینا تھی اور ان حملوں کی اجازت صرف ایسی صورت میں تھی جب خود پاکستانی فوج کے پاس اس کارروائی کے لئے وقت نہ ہو۔ پرویزمشرف نے یہ بھی اعتراف کیا کہ 2004ءمیں نیک محمد کو ڈرون حملے میں مارا گیا۔ پرویزمشرف اس مرتبہ بھی شاید ادھورا اعتراف کر گئے ہیں اور انہوں نے تمام تر ملبہ اپنی ذات کی بجائے پاکستانی رہنما¶ں پر ڈالنے کی سعی کی ہے حالانکہ وہ دس سالوں تک جب ملک میں ایوان صدر کے ذریعے اقتدار کے مزے لوٹتے رہے تو ایوان صدر تمام تر طاقتوں کا محور تھا اور پارلیمنٹ ایک ربڑسٹمپ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ تمام اختیارات صرف اور صرف ایوان صدر کے پاس تھے اور صرف پرویزمشرف کے منظورنظر افراد کو ہی کچھ اختیارات اور اپنی من مرضیاں کرنے کی اجازت ہوتی تھی۔ یہ بات زیادہ پرانی نہیں اور اس وقت ملک کی موجودہ نسل مکمل طور پر آگاہ ہے کہ پرویزمشرف اپنے اقتدار کے دوران کیا کیا کرتے رہے اور ان کو دس مرتبہ فوجی وردی میں منتخب کرنے کے نعرے لگانے والوں کے علاوہ ان کی وفاقی کابینہ میں شامل احباب اور دیگر وزیر مشیر کیا کیا گل نہیں کھلاتے رہے۔ سب جانتے ہیں۔ پرویزمشرف کسی کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے۔ کیا پرویزمشرف جب اعتراف کرتے ہیں کہ ڈرون حملوں کی اس صورت میں اجازت دی گئی کہ ٹارگٹ کو تنہا نشانہ بنایا جائے تو وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ڈرون حملوں میں ان کے دوراقتدار کے دوران متعدد بے گناہ افراد زندگیوں کی بازی ہارتے رہے۔ امریکی ڈرون طیارے بے گناہ محب الوطن قبائلیوں اور شمالی علاقہ جات کے افراد کو لقمہ اجل بنا کر شہادت کے مرتبے پر فائز کرتے رہے۔ رہائشی بستیوں پر ڈرون میزائل داغے جاتے رہے۔ کئی بچے تک اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کیا پرویزمشرف اس بات کو نظرانداز کر سکتے ہیں کہ جب 2002ءکے عام انتخابات کے بعد اس وقت کے صوبہ سرحد نے متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت معرض وجود میں آئی تو کیا اس وقت کے صوبائی وزیرخزانہ سراج الحق نے ایک مدرسے پر ڈرون حملے کے بعد بے گناہ سینکڑوں بچوں کی شہادت پر احتجاجاً استعفیٰ نہیں دے دیا تھا۔ کیا پرویزمشرف قوم کو دھوکہ دے سکتے ہیں کہ ان ڈرون حملوں کی وجہ سے ہی ملک میں ایک طرف امریکہ ڈرون حملوں کی بارش کے ذریعے بے گناہوں کو شہید کرتا رہا اور دوسری طرف اپنے ایجنٹوں کے ذریعے متاثرہ افراد کو گمراہ کر کے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو ہوا دیتا رہا۔ کیا پرویزمشرف کے دور میں بلیک واٹر ملک کے ہر حصے میں اپنا نیٹ ورک مضبوط سے مضبوط تر بناتی نہیں رہی۔ کیا پرویزمشرف خود امریکی ادارے کی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں کے باعث ہونے والی زندگیوں کے ضیاع کے اعدادوشمار کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔ جس کے مطابق پاکستانی سرزمین پر اب تک 351 ڈرون حملوں میں 3308 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے حالیہ دور میں بھی 340ڈرون حملوں میں 3ہزار سے زائد افراد زندگیوں کی بازی ہار چکے ہیں۔ امریکی حکام بار بار کہتے رہے غیرملکی میڈیا واویلا کرتا رہا کہ پاکستانی حکمرانوں کے ڈرون حملوں کے بارے میں امریکی حکام سے خفیہ معاہدے ہیں اور وہ صرف زبانی جمع خرچ کے طور پر عوامی حلقوں میں نمبرسکورنگ کے لئے روایتی و نمائشی احتجاج کرتے ہیں۔ اب خود پرویزمشرف اعتراف کر رہے ہیں تو کیا جنیوا کنونشن کے آرٹیکلز کے مطابق پاکستان امریکی ڈرون حملوں کے خلاف عالمی عدالت انصاف یا پھر اقوام متحدہ میں اپنا کیس لے جا سکتا ہے۔ ہماری پاک فضائیہ کے سابق چیف ایڈمرل ڈرون طیارے مار گرانے کی صلاحیت رکھنے کے بارے میں اعتراف کر چکے ہیں۔ ہماری سابقہ پارلیمنٹ اور موجودہ سینٹ ڈرون حملوں کو روکنے کے بارے میں قراددادیں پاس کر چکی ہیں مگر پیپلزپارٹی کے حالیہ پانچ سالہ دوراقتدار کے دوران ڈرون حملوں کی چھماچھم بارش ہوتی رہی۔ بے گناہ افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوتے رہے خود امریکی میڈیا بتاتا رہا کہ امریکی ڈرون طیارے پہلے حملہ کرتے ہیں اور پھر جب مقامی لوگ امدادی کارروائی کے لئے جمع ہوتے ہیں تو اس بے گناہ مجمع پر ایک اور ڈرون حملہ کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہ ٹارگٹ کو تنہا نشانہ بنانے والی بات ہے یا پھر ڈرون حملوں کے ذریعے ملک کے اندر وفاق کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہوئے علیحدگی کی تحریکوں کو جنم دینے والی بات ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے لئے بھی امریکہ نے بہت زور لگایا اور ڈرون حملوں کی بارش ہوتی رہی۔ پرویزمشرف نے اب اعتراف کر لیا ہے تو ہمارے پاس شرمندگی کے سوا کچھ نہیں اور عوام کو چاہیے کہ آئندہ عام انتخابات کے دوران گیارہ مئی کو انہی سیاسی جماعتوں کو اپنے ووٹ کی طاقت سے نوازیں جو کم از کم امریکہ کے ساتھ ڈرون حملوں کے حوالے سے کئے گئے تمام معاہدوں کو معطل کریں اور پھر اگر امریکہ ایسی جرات کرے تو نہ صرف پاک فضائیہ کے سابق چیف ایڈمرل اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بیانات کے مطابق امریکی ڈرون طیارے مارگرائے جائیں بلکہ اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف میں امریکہ کے خلاف آواز بلندکی جائے۔ امریکہ مردہ باد ہے تو کیا پرویزمشرف اور پیپلزپارٹی کے سابقہ پانچ سالہ اقتدار کے مزے لوٹنے والے حکمران کون ہیں؟