محفوظ پاکستان کی تلاش

15 اپریل 2013

الیکشن جوں جوں قریب آ رہے ہیں انتخابی دنگل میں اترنے والے سیاسی پہلوانوں کے ”داﺅ“ میں بھی نمایاں تبدیلیاں رونما ہونے لگی ہیں۔ عالمی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ہماری سیاست کا اپنا ہی ایک منفرد رنگ ہے۔ ہمارے ہاں آزادی وطن کے بعد سے آ ج تک ”ووٹر“ کی اہمیت اور ”امیدوار“ کی بنیادی ذمہ داری کا کوئی ایسا فارمولہ ہی تیار نہیں ہو سکا جس سے عوام اور جمہوریت کے رشتہ کو استحکام حاصل ہو سکے۔ اسلئے انتخابی سرگرمیوں کو ہم صرف اور صرف اپنی ذات کی پرموشن تک موقوف رکھتے ہیں۔ برطانوی جمہوریت کو دنیا کی ”مدر آف جمہوریت“ کہا جاتا ہے۔ ہمارے درجنوں سیاستدان اور انتخابی امیدوار ٹی وی ٹاک شوز اور اخبارات میں دیئے گئے انٹرویوز میں ”جمہوریت کی ماں“ برطانیہ کی محض اسلئے مثالیں دیتے ہیں تاکہ پاکستانی عوام کو ان کے سیاسی مطالعہ اور خارجی امور پر دسترس رکھنے کی قابلیت کا اندازہ ہو سکے حالانکہ ٹی وی ٹاک شو میں ”برطانوی جمہوریت“ پر تبادلہ خیال کرنے والے بیشتر سیاستدان برطانوی نظام سیاست سے مکمل ناآشنا ہوتے ہیں؟ الیکشن میں اب تین ہفتے باقی رہ چکے ہیں۔ الیکشن کمشن سپریم کورٹ اور نگران حکومتوں کے ”سیٹ اپ“ بھی مکمل ہو چکے ہیں مگر نہ جانے انتخابات کی بروقت انعقاد پر تاہنوز ”خدشات“ کا ا ظہار کیوں کیا جا رہا ہے۔ مسائل میں گھری قوم کو اب جو ایک نئی امید نظر آنے لگی ہے تو بعض قومتیں انتخابی عمل کو پھر سے مشکوک بنانے کےلئے سرگرم ہونا چاہتی ہیں۔ جو حقیقی جمہوریت کےلئے زہر قاتل ہو گا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اب تک 54 ایسے جعلی ڈگری سابق ارکان کو بے نقاب کیا جا چکا ہے جن کے دوبارہ منتخب ہونے سے جمہوریت پر دوبارہ سیاہ دھبہ لگ سکتا تھا یہ تو اللہ تعالیٰ عمر خضر عطا فرمائے چیف جسٹس افتخار چودھری کو جنہوں نے اخبار میں شائع ہونے والی اس خبر پر از خود نوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمشن کو فوری نوٹس جاری کر دیا ورنہ .... مائع لگی شلوار قمیض اور واسکٹیں پہن کر عوام کے ”خدام“ کہلوانے والے یہ بددیانت لوگ عوامی ووٹ کا سودا کرنے میں ایک بار پھر کامیاب ہو جاتے“ الیکشن کمشن مبارک باد کا مستحق ہے جو جعلی امیدواروں سمیت آئین کے آرٹیکل 63-62 پر عمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔الیکشن کمشن شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنانے کیلئے مزید اقدامات بھی کر رہا ہے مگر ایک اور اہم معاملہ جو بدستور شفاف انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے وہ ہے”بند لفافے“ کی طاقت بند لفافہ اتنا مشکل لفظ نہیں جس کا مفہوم قوم نہ سمجھ سکے!!! اس لئے الیکشن کمشن سے میری یہ ذاتی درخواست ہو گی کہ ”بند لفافے“ میں بند جمہوریت کے وہ رموز ضرور آشکار کریں جس سے قوموں کی غیرت داغدار ہو جاتی ہے؟؟
سکروٹنی کا عمل بلاشبہ زور دار ہے تاہم ہر امیدوار کو ”کھڑکا وجا“ کر دیکھنا الیکشن کمشن کی اہم ذمہ داری ہو گی۔ اس لئے انتخابات میں حصہ لینے والے 6ہزار امیدواروں میں سے اگر ایک بھی امیدوار شفاف عمل سے بچ نکلا تو آئندہ 5 سالہ جمہوریت کےلئے بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ ”امین اور صادق“ امیدواروں کی تلاش بھی چونکہ ایک مشکل ترین معاملہ ہو گا اس لئے ہر سیاسی پارٹی کی بھی یہ ذمہ داری ہونی چاہئے کہ پارٹی ٹکٹ دیتے وقت وہ درخواست گزار کی خدمات، کردار، فکر و نظر اور حلقے میں اس کی کارکردگی کی بھرپور چھان بین کرے ماضی کے حوالے سے پوری پوری جانچ پڑتال ہو اور ہر پاٹی اپنے امیدواروں کے سیاہ و سفید کی ذمہ دار ہو....! اب آخر میں حال ہی میں کھوئے ہوئے ” محفوظ پاکستان“ کی تلاش میں پاکستان پہنچنے والے سابق صدر پرویز مشرف کو اگلے روز جس شخص نے بھی ”جوتا مارنے“ کی نازیبا حرکت کی ہے وہ اس کا فطری ردعمل تو ہو سکتا ہے مگر اس عمل پر اسے جو 2 لاکھ روپے کی رقم بطور انعام دی گئی ہے اس سے اس کی ”خوشحالی“ میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ وہ شخص سوچتا ہو گا کہ پرویز مشرف کے آنے پر اس حرکت سے اگر 2 لاکھ مفت میں حاصل کئے جا سکتے تھے تو یہ کام اس نے بہت ”پہلے“ کیوں نہ کیا.... حالانکہ وہ شخص غالباً یہ نہیں جان پایا کہ ہماری سوسائٹی میں جوتا مارنا.... جوتا پھینکنا.... اور جوتا کھانا.... کوئی زیادہ نازیبا حرکت تصور نہیں ہوتی۔ ایسا واقعہ کچھ عرصہ قبل سندھ کے سابق وزیراعلیٰ کے ساتھ بھی پیش آیا۔ جوتا تو پھر بھی ”جوتا“ ہے یہاں تھانوں میں جوتے کی غیر مہذب تعریف”چھتر“ سے جو تواضع پولیس ملزموں سے کرتی ہے۔ وہ منظر اگر شریف شہری دیکھ لیں تو ”پاﺅں میں جوتا پہننا بھول جائیں“ ہاں یہ الگ بات کہ ”پلس“ کی ”چھترول“ سے 2 لاکھ روپے ملتے نہیں بلکہ 2 لاکھ ادا کرنے پڑتے ہیں۔ عمران خان اگر الیکشن جیت گئے تو پھر یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ تھانوں میں ” جوتے اور چھتر“ کے آزادانہ استعمال کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو جائے۔