کیا عمران خان کا خواب پورا ہو گا؟

15 اپریل 2013

”تحریک انصاف“ نے بھی اپنے منشور کا اعلان کر دیا۔ منشور کی نمایاں خوبی، منشور کے ساتھ ”پالیسی پیپرز“ بھی ہیں۔ ”پی ٹی آئی “ کے منشور کو اس لحاظ سے منفرد، بامقصد اور خاص حد تک حقیقت سے آہنگ قرار دیا جا سکتا ہے کہ جذباتی پن کی بجائے لوڈ شیڈنگ 3 سال میں ختم کرنے کے وعدہ کے علاوہ ”90 روز“ میں کرپشن بھی ختم کرنے کا عزم دہرایا گیا ہے۔ تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی فراہمی کے ساتھ شہریوں کے درمیان برداشت اور تحمل کے جذبات پیدا کئے جائیں گے جو کہ موجودہ وقت کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ سے پاکستان کو باہر نکالنے کے عزم کو بھی ظاہر کیا ہے۔ پاکستان کو قائداعظم اور علامہ اقبال کے ویژن کے مطابق چلانے کا اعلان سرکاری پلاٹ بند، وزارتوں کی تعداد قابل تعریف حد تک کم کرنے کاا علان وغیرہ وغیرہ
الفاظ کی حد تک تمام وعدے عزم قابل تحسین ہیں۔ خوشحال ملک ہر پاکستانی کی خواہش تھی تو موجودہ حالات میں منزل بن چکی ہے۔ انتہا پسندی، دہشت گردی تب تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک نوجوان نسل کو متوازن، بامقصد اور معیاری تعلیم سے روشناس نہیں کروایا جاتا۔ جہاں تک تعلق ہے لوڈ شیڈنگ کا تو اس کا خاتمہ صرف نئے آبی ذخائر کی تعمیر سے ہی ممکن ہے۔ کالا باغ ڈیم تو اب الفاظ میں بھی بیان کرنے سے محروم ہو چکا ہے اور کوئی بھی جماعت بھولے سے بھی ذکر نہیں کر رہی کیونکہ ”ڈیم“ اب ریڈ الرٹ زون“ میں داخل ہو چکا ہے۔ آجکل قوم جس عذاب سے گزر رہی ہے۔ یہ تکلیف دکھ کچھ زیادہ دن نہیں کہ ایک بڑے عذاب میں منتقل ہونے والا ہے جو انقلاب.... انقلاب کا راگ الاپتے لوگوں کا ”پتہ پانی“ کر دیگا۔ اب یہ عوام ہی فیصلہ کریگی کہ محض ”الفاظ کی جادونگری“ کے تحت بقیہ زندگی گزارنی ہے یا پھر خود کو حالات بدلنے کے حقیقی دعویداروں کا ساتھ دینا ہے کچھ لوگوں کے نزدیک ”پی ٹی آئی “ کا منشور قابل یقین لائحہ عمل ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ نظر انداز طبقات اور نظر انداز علاقے کیا سوچ رہے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت ”متوقع چناﺅ“ کو زندگی موت کے برابر سمجھ رہی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ امر بھی پریشان کن ہے کہ اب تک ”نگرانی نظام“ کی خامیاں کمزوریاں ہی نظر آ رہی ہیں ۔ اصل کام پر توجہ فوکس نہیں کی جا رہی۔ دانستہ یا نادانستہ گریز پائی کی پالیسی انتہائی حد تک مایوس کن ہے۔ ہمارے خیال میں سیاسی سرگرمی کی تمام سطحوں کو متوازن رکھنا ہو گا۔ جب تک انتخابی اصلاحات کو درست عمل اور مروجہ آئینی طریقہ کار کے مطابق نافذ نہیں کریں گے تب تک مثبت نتائج کا حصول ممکن نہیں“
عوام بری طرح مایوس ہیں۔ ایک رائے ہے کہ عوامی مایوسی ہی سونامی کا روپ دھارے گی یہی مایوسی کی لہر ”خان“ کا خواب پورا کر سکتی ہے۔ آخیر کے سب حالات و واقعات، تجزیات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اب کی مرتبہ ”شہری سطح“ پر صورتحال مکمل طور پر ”خان صاحب“ کے حق میں ہے کچھ حلقوں کی صائب رائے ہے۔ کہ ”تحریک انصاف“ ایسے ”وووٹرز“ کو متوجہ کرے جو بوجوہ ووٹ ڈالنے نہیں جاتے ”پی ٹی آئی “ ووٹرز کی ٹریننگ کے مراکز قائم کرے ”خاموش ووٹرز“ کو قائل کرنے کےلئے تمام ذرائع استعمال کرے۔ ایسے نکتہ نظر رکھنے والوں کا موقف ہے کہ خاموش ووٹر“ گھر سے نکل پڑا تو پھر وہی ہو گا جو لوگ چاہتے ہیں کچھ لوگوں کی رائے یہ بھی ہے اور کافی جاندار وزن کی حامل ہے کہ ”عمران خان “ صرف بڑے شہروں پر فوکس کریں۔ دیہاتی علاقوں میں ابھی تک عام ووٹر جاگیردار اور روایتی پیری فقیری کے چنگل میں گرفتار ہے اسلئے چونکہ وقت کم ہے اسلئے لاہور، فیصل آباد، پنڈی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ وغیرہ ”خان“ کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرینگے۔ کوئی انتخاب جیت سکتا ہے یا نہیں اس بات سے قطع نظر عوام اب مکمل طور پر ملکی امور میں بدمعاملگی، بددیانتی کرپشن، غداری اور جھوٹ کو برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں اور پچھلوں کو بھی ”نشانہ عبرت“ دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ جو قیادت دنیا کی چند کلیوں پر ہی قناعت کرکے بیٹھ گئی۔ عارضی مسافرت پر ہی راضی ہو گئی۔ اس کو اب مزید گلے کا ہار نہیں بنانا چاہتی کیونکہ قیادت کے پاس عام آدمی کی زندگی سہل تر بنانے کا کوئی پروگرام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام اب لفاظی سے ”نکونک“ بھر چکی ہے۔ خالی خولی وعدوں کا دور بھی اب لد چکا ہے اب عوام عمل اور صرف عمل مانگتے ہے۔ موجودہ حالات ہی مستقبل کی قیادت کا تعین کریں گے۔ چہار جانب چھائے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ”سپریم کورٹ آف پاکستان “ عوام کی امیدوں توقعات پر پوا اتر رہی ہے بلکہ ”الیکشن کمشن“ کی پرعزم پشت پناہی بھی کر رہی ہے لیکن ہمیں یہ فکر دامن گیر ہے کہ چناﺅ پر مامور اہم ادارہ اور نگرانی کےلئے تفویض کردہ اشخاص صحیح قوت فیصلہ سے کام نہیں لے رہے۔ ضروری ہے کہ تقاضائے آئین اقدامات اٹھائے جائیں۔ جمہوریت اور جمہوری عمل کی حمایت پر کمربستہ معزز، اعلیٰ عدلیہ کو سلام کہ لاہور ہائی کورٹ نے بروقت چناﺅ کی حمایت کر دی۔
حرف آخر میں پھر اس بات کو دہراﺅنگی کہ ”عمران خان “ ”نواز لیگ“ سے اتحاد کر لیں کیونکہ غیر فیصلہ کن، منقسم نتائج عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ایسا مینڈیٹ ملک کی ترقی، بہتری، سیاسی استحکام کےلئے درکار ضروری فیصلے کرنے کے قابل نہیں ہو گا۔ ”سپریم کورٹ“ سے اپیل“
معزز، اعلیٰ عدلیہ سے ہم التماس کرتے ہیں کہ پنجاب میں جاری ہولناک عذاب کن20-20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا فوری نوٹس لیکر اس کے مداوا کا حکم جاری فرمائیں۔ اس عذاب نے عوام کے اعصاب تک چٹخا دیئے ہیں۔