دُکھ تو بس اس بات کا ہے

15 اپریل 2013

پچھلے کئی دنوں سے پنجاب کی بیوروکریسی عجیب قسم کے اکھاڑ پچھاڑ سے گزررہی ہے ہر نیک نام اور اچھی شہرت و کارکردگی والا افسر یا تو کھڈے لائن لگا دیا گیا یا صوبہ بدر کر دیا گیااس تبدےلی کا محرک کسی کی گذشتہ حکومت سے وفاداری یا جانبداری نہےں اور نہ ہی مقصد بہتری اور مثبت سوچ ہے بلکہ کئی سزا یافتہ اور نا اہل لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کے علاوہ من مرضی کے لوگوں کو اکاموڈیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اختیارات کا استعمال اس ڈھنگ سے کرنا کہ لوگ اس اُلٹ پُٹلٹ پر حیران رہ جائیں اور اس محاورے کا اُنھیں درست مطلب بھی سمجھ آجائے یعنی جس کے لاٹھی اُس کی بھےنس ۔کیونکہ پچھلے کچھ سالوں سے قانون کی حکمرانی میں لوگ اس محاورے کا استعمال بھول گئے تھے۔پنجاب میں تبدےلی کے نام پر جو تبادلے ہوئے اُنھیں دوسرے لفظوں میں دکھ پیٹنا بھی کہا جا سکتا ہے ۔ سابقہ وزیر اعلیٰ نے اپنے دور میں افسروں کی تعیناتی کا جو فارمولا بنا رکھا تھا وہ اُن کی عقلمندی، معاملہ فہمی ، ایمانداری اور شب و روز کام کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھاس بات کا بھی خیال رکھا جاتا تھا کہ اعلیٰ عہدے پر فائز افسر نظریہ پاکستان کا احترام کرنے والا اور ملک و قوم کے حوالے سے درد محسوس کرنے والا ہو۔ اس لےے قواعدو ضوابط کے پابند افسروں کے ماتحتوں کو کہےں بھی کھل کر کھےلنے کاموقع نہ ملا اور بڑی حد تک معاملات شفاف رہے مگر نگران حکومت نے آتے ہی s.o اور ڈپٹی سیکرٹری لیول کے لوگوں کی بنائی لسٹوں کو منظور کر کے بظاہر ےہ تاثر دیا کہ وہ سابقہ دور کے افسروں کو تبدیل کر کے بہت بڑی خدمت سرانجام دی ہے لیکن دراصل وہ اس سارے معاملے کو سمجھنے سے قاصر رہے ہےں اور یہی ےہ بات کہی جا سکتی ہے جس کا کام اُسی کو ساجے۔علاوہ ازیں ایسے افسران جن کی خدمات مرکز کے حوالے کر دی گئیں کے بارے میں اگر خفیہ اداروں سے رپورٹ طلب کی جائے تو کہےں سے بھی ایسی خبر نہیں ملے گی کہ انھوں نے کسی معاملے میں کوئی ہیراپھیری کی،کسی پروجیکٹ میں اپنا حصہ وصول کیا ،کسی بڑے منصوبے کی ناکامی کا باعث بنے یا ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجےح دی بلکہ ہر خاص و عام اور اُن کا مخالف بھی یہی کہے گا کہ ےہ وہ افسر ہیں جنہوں نے کہ عوامی بہبود کے منصوبوں کو پاےہ تکمیل تک پہنچانے کے لےے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا ،اپنے دن کا چین اور راتوں کی نیند کی قربانی دی، قوم کے بچوں کی فلاح کے لئے اپنے بچوں کا وقت بھی کام صرف کیا ۔کیا وہ ایسے خراجِ تحسین کے مستحق تھے، اگراُنھیں ہٹانا ضروری تھا تو اُنھیں او، ایس، ڈی بنا دیا جاتا لیکن کسی ایک شخص یا جماعت کے کسی رُکن کو خوش کرنے کے لئے پنجاب کو اُن سے محروم کرنا پنجاب کے ساتھ زیادتی ہے ،کونکہ ایسے افسران معاشرے اور ملک و قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔چلو ےہ بھی ہوگیا کم از کم نئی تعیناتیوں سے پہلے کوئی رپورٹ کوئی جائزہ ہی حاصل کرلیتے ۔ ہائی کورٹ نے جن افسران کی پاورز ضبط کر رکھی ہیں اورجن کی فائلوں اور اکاﺅنٹس میں خلافِ ضابطہ کارکردگی کے واضع ثبوت موجود ہیںاور وہ جو سابق دورِحکومت میں بدعنوانیوں کے عوض صوبہ بدر کردئےے گئے تھے کو انتہائی اہم پوسٹوں پر بٹھانا کیا پیغام دیتا ہے ؟یقینا اُن کی پانچ سالوں کی کسرتو شاید ایک مہےنے میں نکل جائے گی مگر نقصان ہمارا ہوگا ۔پنجاب نظم وضبط اور قاعدے کی پابندی کے حوالے سے کئی سال پچھے چلا جائےگا ۔ میںوثوق سے کہتا ہوں کہ اگر چیف سیکرٹری صاحب یا نگران وزیراعلیٰ ان افسران کی رپورٹ منگوا کر دیکھ لیں تو وہ بھی اتنے ہی متفکر اور حیران ہوں جتنا ہر پنجاب باسی ہے ۔اتنی اندھیر نگری اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی کہ اعلیٰ ترین پوسٹوں پر تعیناتی کے لئے سینئر ترین افسران کی لسٹ ایس .او اور ڈپٹی سیکرٹری کے لیول کے لوگ تیار کرےں۔اگر اِس سارے عمل کی نکوائری کی جائے تو قائداعظم کی بہت سی تصویریں برآمد ہوںگی۔ نگران حکومت نے صحافت ، جمہوریت اور بیوروکریسی کو اپنے اصل معنی و مفہوم کی بجائے نئی اصطلات عطاءکی ہےں جن کی وجہ سے انکی ذمہ داریاں اور وفاداریاںبھی تبدیل ہوچکی ہیں ۔ ویسے تو مچھلی اور تالاب والی مثال زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہے ۔ جس طرح چند سیاستدان یا لیڈر اپنے غیر جمہوری عمل اور مفادات کے باعث جمہوریت کے ماتھے پر بدنامی کا داغ بن جاتے ہیں اسی طرح چند بیوروکریٹ اور نااہل افسربھی عام لوگوں کی نظر میں پوری بیوروکریسی کا کردار مشکوک بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیںکیونکہ انسان جس گروپ ، قبےلے اور تنظیم سے تعلق پر اتراتا ہے اسکی اچھائیوں کے ساتھ ساتھ اسکی برائیوں کا بھی حصہ دار بنتا ہے ۔ لگتا ہے گذشتہ دورِحکومت میں تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہونے والی اور لوگوں کو حیران کرنے والی ےہ زرداری صاحب کی آخری چال ہوگی جس پر وہ اور اُن کے مُشیر بے حد خوش ہوں گے ملک و قوم کے نقصان کی کسے پرواہ ہے ۔کیوں کہ اب ان کے نامہ کارکردگی کے پلڑے میں نہ کوئی منصوبہ ہے اور نہ عمل ۔اس پر ستم ےہ کے بھوکے پیاسے اور خوفزدہ لوگ بھی اب کسی اِزم پر ووٹ دیتے نظر نہیں آتے اُنھیںماضی کی کسی شخصیت کی بجائے اپنی اور اپنے وطن کی سلامتی بہت عزیز ہے ۔ شاید اس لئے زرداری صاحب نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں من پسندنگران حکومت کا قیام ،مرکزاور دیگر صوبوں میں صحافیوں کو حصہ دار بنا کر اور بیوروکریسی کے ذریعے ن لیگ کو ٹف ٹائم دینے کا منصوبہ بنایا ہے شاید اسی طرح کچھ بچی کھچی عزت رہ جائے جیسے ملتان میں سابق وزیراعظم کی بھانجی کے میاں کو ڈی سی او لگاکر یوسف رضا گیلانی کا اعتماد بحال کیا گیا اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں ہیں جو رقم کرنے سے میرے قلم کے ساتھ ساتھ میرا دل اور آپ کا احساس مجروح ہونے کا خدشہ ہے نا جانے تحریک انصاف والے کیوں خاموش ہیںاگر ےہ سیٹ اپ اسی طرح رہا تو اُن کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ دُکھ تو بس اس بات کا ہے کے ہر کوئی اپنے اپنے نفع نقصان کے لئے بھاگ رہا ہے ۔