کانٹے دار مقابلے کی توقع

15 اپریل 2013
کانٹے دار مقابلے کی توقع

 پیر امداد حسین ....پاکپتن
حضرت بابا فریدؒ کے حوالے سے پاکپتن دنیابھر میں پہچانا جاتا ہے۔ یہا ں پر بزرگان دین کی عقیدت کا بے تحاشہ ووٹ بینک موجود ہے اس علاقے میں آباد قوموںکی جانب نگاہ دوڑائی جائے تو اس علاقے میں وٹو، چشتی، آرائیں، کھگہ، راجپوت اور جوئیہ برادری کثرت سے آباد ہیں اس کے علاوہ دیگر اقوام میں جن میں کھوکھر، ڈھڈی، گجر، ہانس، سید، عباسی، بھٹی، کھرل اور ڈوگر شامل ہیں یہ یہاں کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں سابقہ ادوار میںضلع پاکپتن سے چشتی برادری کے دیوان غلام قطب الدین چشتی، پیر غلام علی چشتی، پیر علی گوہر چشتی، پیر غلام فر ید چشتی، پیر اللہ یار چشتی، پیر کاشف چشتی اور دیوان عظمت سید محمد چشتی قومی و صوبا ئی اسمبلیوں کے ممبران رہ چکے ہیں۔ مانیکا وتو فیملی سے میاں نور احمد مانیکا، میاں خدایار مانیکا، میاں غلام محمد احمد خاں مانیکا، میاں احمد رضا مانیکا اور میاں عطاءمحمد مانیکا ممبران قومی و صوبائی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ آرائیں برادری کے میاں نوید طارق، ڈاکٹر فرخ جاوید اور چوہدری جاوید احمد، جبکہ راجپوت برادری تعلق رکھنے والے راجہ احمد سعید، رانا وحید احمد خاں، راجہ شاہد سعید خاں، رانا زاہد حسین خان اور رانا غلام قادر خاں ممبران قومی و صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں اسی طرح جوئیہ برادری کی جانب سے میاں فیض احمد جوئیہ، میاں امجد جوئیہ، میاں محمد اشرف جوئیہ اور ڈاکٹر جنید ممتاز جوئیہ جبکہ سید برادری کے سید سلمان محسن گیلانی ممبران اسمبلی کا فریضہ سرانجام دے چکے ہیں اسکے علاوہ حاجی احمد علی بیٹو، میاں نور احمد ہوتیانہ، چوہدری ممتاز حسین، سردار منصب علی ڈوگر، سردار واجد علی ڈوگر، پیر محمد شاہ کھگہ قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران رہ چکے ہیں۔
این اے 165 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار اور سابق ایم این اے سید سلما ن محسن گیلانی کے کاغذات نامزدگی جعلی ڈگری کیس میںمسترد ہونے اور انکے مقدمہ میں اشتہاری ہونے کے بعد صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی ہے این اے 165 کے صوبائی حلقہ پی پی 228 میں بھی امیدوار مسلم لیگ ن چوہدری جاوید احمد سابق ایم پی اے نے بھی ریٹرنگ آفیسر کے پاس کاغذات پر اسناد کی تصدیق کے حوالہ سے اعتراض داخل ہونے کے بعد اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے ہیں جس سے اس حلقہ میںمسلم لیگ ن کے لئے مشکل صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ جبکہ سابق ایم این اے میاں احمد رضا خاں مانیکا اور سابق ایم پی اے دیوان عظمت چشتی جو کل تک ایک دو سرے کے حلیف تھے آج حریف بن چکے ہیں۔ ایک دوسرے کے مدِمقابل آگئے ہیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے سابق ایم این اے میاں احمد رضا خان مانیکا کو امیدوار نامزد کر دیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے میاں منظور احمد مانیکا امیدوار ہیں جبکہ مسلم لیگ ق کا اس حلقہ میں کوئی امیدوار نہیں ہے سابق ایم پی اے دیوان عظمت سید محمد چشتی (آزاد) حثیت سے اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف یہ افواہ بھی سرگرم ہے کہ قیادت نے این اے 165 پر سید سلمان محسن گیلانی کے قریبی عزیز سید اطہر حسین گیلانی کا ٹکٹ فائنل کر دیا جس کے بارے میں پارٹی کی تنظیم کی طرف سے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے، این اے 165 پر تحریک انصاف کے میاں احمد رضا مانیکا، دیوان عظمت چشتی، اور (ن) لیگ کا جو امیدوار نامزد ہو گا ان کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہو گا۔ میاں احمد رضا مانیکا کا اس حلقہ میں ایم این اے بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اس حلقہ میں سوئی گیس کی فراہمی سمیت بے شمار ترقیاتی منصوبے مکمل کروائے ہیں ان کے بزرگ سابق وفاقی وزیر میاں غلام محمد احمد خان مانیکا (مرحوم) کا شمار ملکی لیول کے سیاست دانوں میں ہوتا تھا ان اس حلقہ میں کافی اثر و رسوخ پایا جاتا ہے وہ اس حلقہ میں کافی محنت کر رہے ہیں شہر میں موجود پی ٹی آئی کے کارکنان بھی اُن کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ دیوان عظمت چشتی جو کہ سابق ایم پی اے اور تحصیل ناظم رہ چکے ہیں۔ دیوان عظمت سید محمد چشتی کا تعلق سلسلہ چشتیہ کے عظم بزرگ حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر ؒکے خانوادہ سے ہے پاکستان بھر میں حضرت بابا فریدؒ کے عقیدت مندوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اس حلقہ میں اگر مسلم لیگ ن ان کو ٹکٹ جاری کرتی ہے تو اس کے اثرات پورے پاکستان کی سیاست پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ دیوان عظمت چشتی اپنے سیاسی دھڑے عقیدت مندوںکے ساتھ میدان عمل میں موجود ہیں۔ الیکشن کے دوران دیوان عظمت اور احمد رضا مانیکا میں کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مسلم لیگ ن کی قیادت نے مسلم لیگی حلقوں میں مقبول معروف صنعتکار رانا احمد علی کے فرزند میاں نوید علی کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا ہے وہ ن لیگ کے دیرینہ ساتھی ہونے کی وجہ سے ن لگ کے ووٹ بینک پر کافی اثر رکھتے ہیں جس کی وجہ سے مسلم لیگی کارکنان ان کی ایک نئے جوش اور ولولہ کے ساتھ ان کی الیکشن کمپین جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کو حلقہ میں آرائیں برادی سمیت شہری تنظیموں اور دیگر برادیوں کی حمایت حاصل ہے وہ بڑی محنت سے اپنی الیکشن مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ کو میاں نوید علی کی شکل میں ایک متحرک اور فعال ورکر مل گیا ہے۔ وہ نہ صرف پی پی 228 بلکہNA.165، An164 اور pp229-pp227 میں بھی کافی ووٹ بینک رکھتے ہیں۔ ن لیگ کے میاں نوید علی کو پارٹی ٹکٹ دینے کے فیصلہ کے دیگر حلقوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ پارٹی قیادت کے اس فیصلے سے حلقہ میں سابق ایم پی اے چوہدری جاوید احمد کی طرف سے کاغذات واپس لینے کے بعد پائی جانے والی مایوسی ختم ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف نے pp-22 میں میاں مظہر فرید وٹو کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ پا رٹی قیادت کی طرف سے بھاری ویٹ کی بجائے ایک پارٹی ورکرز کو ٹکٹ دینے سے بھی پاکپتن شہر میںتحریک انصاف کے ووٹ بینک میںاضافہ ہوا ہے۔ الیکشن کے اعلا ن کے بعد اب تحریک انصاف کا ووٹ بھی نظر آنا شروع ہو گیا ہے میاں مظہر فرید وٹو کی کامیابی کے لئے تحریک انصاف یوتھ ونگ کے نوجوان کمپین چلا رہے ہیں میاں مظہر فرید وٹو بھی جیت کے لئے پرامید ہیں اور کافی محنت کر رہے ہیں۔ میاں مظہر فرید وٹو حلقہ میں موجود وٹو برادری کے علاوہ شہر موجود خاموش ووٹ کو کیش کروانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں جس میں کافی حد تک وہ کامیاب بھی دیکھائی دے رہے ہیں۔ پی پی پی نے اس حلقہ سے اپنے دیرینہ کارکن میاں ہمایوں سرور بودلہ کو ٹکٹ دے دیا ہے۔ وہ دو دفعہ یونین کونسل نمبر3 کے ناظم رہ چکے ہیں۔ جبکہ پی پی 228 پر سابق ایم پی اے پیر غلام فرید چشتی کے فرزند پیر مہر معین الدین چشتی، سابق ناظم میاں جلال الدین ہوتیانہ، ساجدہ یوسف بھی میدان میں موجود ہیں ۔