وسطی سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں این پی پی اورپی پی پی پھرمدمقابل

15 اپریل 2013
وسطی سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں این پی پی اورپی پی پی پھرمدمقابل

منور شہزاد
ضلع نوشہروفیروز
ضلع نوشہروفیروز میں الیکشن 2013ءکا بگل بجتے ہی پرانے اورنئے کھلاڑی سیاسی اکھاڑ ے میں پنجہ آزمائی کیلئے اترچکے ہیں۔ نوشہروفیروز وسطی سندھ میں واقع ہونے کی وجہ سے سندھ کا”دل“تصور کیاجاتا ہے۔ یہ ضلع پیپلز پارٹی اورنیشنل پیپلز پارٹی کے درمیان منقسم ہے۔
ضلع نوشہروفیروز کی آبادی 17لاکھ پچاس ہزار نفوس پرمشتمل ہے ضلع میں کل ووٹرز کی تعداد 5لاکھ 85ہزار 801 ہے۔ جن میں مرد ووٹرز3لاکھ 21 ہزار 193 جبکہ خواتین ووٹرز2لاکھ 64 ہزار 806 ہے۔
ضلع میں قومی اسمبلی کی 2اور صوبائی اسمبلی کی 5نشستیں ہیں۔ پانچ تحصیلوں پرمشتمل نوشہروفیروز کو1989ءمیں ضلع کادرجہ دیا گیاتھا۔ ضلع میں 51یونین کونسلیں ہیں‘ضلع نوشہرو فیروز میں اصل سیاسی جوڑ توڑ کا مرکز تحصیل کنڈیارو کا حلقہ این اے 212 ہے۔ یہ علاقہ ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کا گڑھ رہا ہے۔2002ءکے انتخابات میں پی پی پی کے سید ظفر علی شاہ نے این پی پی کے خالداکبر جتوئی کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ اسی طرح 2008ءکے الیکشن میں بھی پی پی پی کے ظفرعلی شاہ نے 98ہزار999ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ ان کے مدمقابل امیدوار مراد علی شاہ نے 47 ہزار 286ووٹ حاصل کئے تھے اوروہ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ اس حلقہ سے9 امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیاتھا ۔ نوشہروز فیروز سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 19نوشہروفیروز مٹھیانی اوردیگر قصبوں پرمشتمل ہے اس نشست سے نیشنل پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔2002 ءکے عام انتخابات میں این پی پی کے عارف مصطفی جتوئی نے پی پی پی کے قربان علی بیہن کو شکست دی تھی جبکہ2008ءکے عام انتخابات میں این پی پی کے عارف مصطفی جتوئی 53ہزار302 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اورپی پی پی کے امیدوار حاجی خان بھٹی کو 19ہزار560ووٹ ملے تھے اس حلقہ سے 5امیدوار میدان میں تھے۔ پی ایس 20بھریاسٹی گھارو شاہ سمیت گردونواح کے شہروں‘قصبوں گوٹھوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقہ میں دلچسپ مقابلے ہوتے رہے ہیں۔2002ءکے عام انتخابات میں پی پی پی کے عبدالحق بھرٹ کو کامیاب قرار دیا گیا۔ تقریباً2سال بعد عدالتی فیصلہ کے تحت دوبارہ گنتی میں مسلم لیگ (ق) کے سید مراد علی شاہ کو کامیاب قرار دیا گیا۔ اسی طرح 2008ءکے الیکشن میں اسی حلقہ سے پی پی پی کے عبدالحق بھرٹ نے 37ہزار79ووٹ لے کرکامیابی حاصل کی تھی۔
پی ایس 21کنڈیارو‘محراب پور‘ خانواہن‘ کوٹری کبیر‘ہالائی اور آفس پاکس کے قصبوں پرمشتمل ہے۔ اس حلقہ سے بھی پی پی پی کے امیدوار کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ 2002ءکے عام انتخابات میں پی پی پی کے منظورحسین شاہ نے این پی پی کے سرفراز شاہ کو شکست دی جبکہ 2008ءکے انتخابات میں پی پی پی کے ڈاکٹر احمد علی شاہ 34ہزار872ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور منظورحسین شاہ نے 22ہزار463ووٹ حاصل کئے۔ اس حلقہ سے کامیاب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی سید احمد علی شاہ کو دوہری شہریت کی بناءپر نااہل قرار دے دیا گیا تو2012ءکے آخری دنوں میں ضمنی الیکشن میں پی پی پی کے سرفراز شاہ یہاں سے منتخب ہوگئے۔ اس حلقہ سے 23 امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیاتھا۔
پی ایس 22محراب پور ‘بھریاسٹی اور نوشہرو فیروز تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ اس میں پڈعیدن ‘بھل‘ کلپوڑا‘ پیرصادق‘ ابراہیم شاہ‘ چیہو‘ میرال پور‘ واسوانو سمیت دیگر علاقے بھی شامل ہیں۔ اس حلقہ سے 2002ءمیں مسلم لیگ(ق) کے امیدوار نور محمد شاہ جوکہ مراد علی شاہ کے صاحبزادے ہیں۔ انہیں این پی پی کے جتوئی برادران کی بھی حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے پی پی کے عبدالستارراجپر کو شکست سے دوچار کردیا جبکہ 2008ءکے الیکشن میں دوبارہ اسی حلقہ سے پی پی پی کے ڈاکٹر عبدالستار راجپر نے 34ہزار 793 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ان کے مدمقابل امیدوار این پی پی کے عبدالستار عباسی کو 30ہزار 585 ووٹ ملے۔ اس حلقہ سے 17امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ پی ایس 23مورو شہر ا ورگردونواح کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہاں ماضی میں نیشنل پیپلز پارٹی کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے رہے ہیں۔
2002ءکے الیکشن میں این پی پی پی کے فرہاد زمان جتوئی پی پی پی کے ریاض جمالی کو شکست دے کر کامیاب ہوئے تھے۔ جبکہ 2008ءکے الیکشن میں این پی پی کے مسرور احمد جتوئی نے 38ہزار263ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ ان کے مدمقابل امیدوار پی پی پی کے قربان علیبیہن20ہزار38ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ اس حلقہ سے کل 13امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔
2013ءکے عام انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ضلع بھر میں پیپلز پارٹی ‘نیشنل پیپلز پارٹی ‘ 22 جماعتی اپوزیشن اتحاد سمیت ایم کیو ایم نے ضلع بھر سے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 211سے پی پی کے ذوالفقار علی بیہن اور 212 سے پی پی پی کے اصغر علی شاہ امیدوار ہیں۔ 10جماعتی اپوزیشن اتحاد نے جس میں مسلم لیگ (ن) فنکشنل مسلم لیگ ودیگر جماعتیں اور سندھی قوم پرست شامل ہیںابھی امیدواروں کا اعلان ن ہیں کیا ہے تاہم NA-211 سے این پی پی کے سربراہ غلام مرتضی جتوئی اور NA-212سے مسلم لیگ(ن) کے ظفرعلی شاہ ‘ نیشنل پیپلز پارٹی کے غلام رسول عاقب جتوئی ممکنہ امیدوار ہوسکتے ہیں۔
پی ایس 19پرNPP کے عاقب خان جتوئی‘عارف مصطفی جتوئی‘ پی پی پی کے پیرقربان اورممتاز چانڈیو‘پی ایس 20پر پی پی پی کے عبدالحق بھرٹ‘سید اصغرعلی شاہ‘سید حسن علی شاہ‘ سردار عثمان عالمانی‘ پی ایس 21کنڈیارو پر پی پی پی کے سرفراز شاہ این پی پی پی کے ابرار شاہ ‘مسلم لیگ(ن) کے زہیب شاہ‘ پی ایس 22 پر پی پی پی کے عبدالستار عباسی‘این پی پی کے عارف مصطفی جتوئی عاقب خان جتوئی‘ مولا بخش ‘منیر احمد مسلم لیگ(ن) کے انور علی شاہ جبکہ پی ایس 23پراین پی پی کے مسرور جتوئی‘ پی پی پی کے ذوالفقار بیہن‘فیروز جمالی اوردیگر میدان میں ہیں۔
انتخابات کے اعلان سے قبل ضلع نوشہرو فیروز کی ووٹر لسٹوں سے تقریباً 40ہزار سے زائد جعلی ووٹ خارج کئے گئے تھے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ ووٹ کس نے درج کرائے تھے اور اس کافائدہ یا نقصان کسی نہ کسی پارٹی کو ہوگا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 40ہزار سے زائد جعلی ووٹوں کے اخراج سے انتخابی نتائج پر اثرات مرتب ہوں گے۔