مناسب مقدار میں پولنگ اسٹیشن بوتھ.... اہم ترین ضرورت

15 اپریل 2013

ضلع ڈیرہ غازی خان
 محمد اشرف بزدار سے
نیم قبائلی سماج سے جڑا ضلع ڈیرہ غازی خان کا رقبے اور لمبائی کے لحاظ سے طویل ترین قومی حلقہ این اے 171 جس کا بیشتر حصہ قبائلی ، دیہی اور دریائی مواضعات پر مشتمل ہے مختلف خصوصیات اور روایتی نوعیت کے مسائل کا حل ہے جہاں کسی امیدوار کی فتح یا شکست دارومدار امیدوار کی سیاسی وابستگی اور انتخابی نشان سے قطع نظر بلوچوں کے دو اہم قبائل قیصرانی اور بزدار کی حمایت یا مخالفت کانتیجہ دیا ہے اس قومی حلقہ کی شمالی حدود کا آغاز صوبہ خیبر پختونخواہ کی سرحد جبکہ مغربی حدود صوبہ بلوچستان سے شروع ہوتی ہے تاہم دریائے سندھ کے متوازی مشرقی حد ضلع لیہ کی باﺅنڈری اور جنوبی پٹی قومی حلقہ 173پر جاکر ختم ہوتی ہے قبائلی سرداروں کے حمایت یافتہ روایتی سیاسی خاندان اور شخصیات اس اہم نشست سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے کیوں نہ ہو
اس حلقہ کے دیگر اہم قبائل اور برادریوں میں ملغانی ، نتکانی ، کھتران ، میرانی ، ڈونہ ، کلاچی ، خواجہ ، لاشاری ، مندرانی ، چچہ پٹھان ، سید ، جسکانی ،لعلوانی ، سنجرانی ، چجھڑا ، ملک اور دیگر شامل ہیں۔
    حلقہ کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی کے ذرائع آمد کا انحصار کھیتی باڑی ، لائیو سٹاک ، فارمنگ سے ہے جبکہ میدانی علاقوں میں شرح خواندگی ستر فیصد کے لگ بھگ ہے تاہم قبائلی علاقوں میں یہ شرح کمی کا شکار ہے جہاں بالخصوص دو ر دراز دشوار گذار راستوں ، سفری مشکلات اور تعلیمی اداروں میں سٹاف کی قلت کے سبب خواتین میں خواندگی کی شرح کافی کم ہے قبائلی علاقہ میں اسی فیصد سے زیادہ آبادی بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پال کر زندگی کا سفر جاری و ساری رکھے ہوئے ہے تاہم یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے قبائلی پٹی جو کوہ سلیمان کے طویل سلسلے پر مشتمل ہے سے میدانی علاقوں میں ہجرت کا عمل کافی زور شور سے جاری ہے جس کے مرکزی اسباب میں غربت ، پسماندگی ، تعلیم و صحت پر مشتمل سہولیات کا فقدان ، خشک سالی اور ذرائع آمدورفت کی ناکافی سہولیات شامل ہیں۔
اسی طرح میدانی اور قبائلی علاقہ کے مرد حضرات کی ایک معقول تعداد بسلسلہ روزگار صوبہ بلوچستا ن کے دور دراز علاقوں میں مقیم ہے کیونکہ اس حلقہ میں صنعت ، تجارت اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں عوامی مطالبات میں ٹبی قیصرانی لیہ کے درمیان دریائے سندھ پر پل کی تعمیر ، تونسہ ، موسی خیل( بلوچستان )سڑک کی تکمیل ، ڈھوڈک پلانٹ کی بحالی و توسیع شامل ہیں ضلع ڈیرہ غازی خان کے اس قومی حلقہ میں مجموعی طور پر رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 347789 ہے جس میں مردو ووٹرز کی تعداد 197359اور خواتین ووٹرز کی تعداد 150430ہے
کم اور بکھری ہوئی آبادی کے لیے مناسب مقدار میں پولنگ اسٹیشن اور پولنگ بوتھ کا قیام اس حلقہ میں ہمیشہ سے ایک اہم ترین ایشو رہا ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان دور دراز علاقہ میں پھیلی ہوئی کم آبادی کو پولنگ اسٹیشن نزدیک ترین علاقوں میں قائم کرنے کی سہولت فراہم کرنے سے قطع نظر ایک ہی اوسط فارمولے کے تحت پولنگ اسٹیشن قائم کرنے کی اسکیم پر عمل کرتا چلا آرہا ہے جس سے ووٹرز کو ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے طویل ترین سفر اور سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے کم کاسٹنگ کی شرح مشاہد ے میں آئی ہے ۔
اس حلقہ کی انتخابی تاریخ مخصوص اور منتخب خاندانوں ، شخصیات کے گرد گھومتی ہے جن میں بالخصوص خواجگان ، بزدار ، قیصرانی ، کھتران ، کھوسہ شامل ہیں ، اس قومی نشست میں تحصیل تونسہ شریف کی تمام یونین کونسلوں کے ساتھ ساتھ تحصیل ٹرائیبل ایریا کی چار یونین کونسلیں تمن قیصرانی ، بارتھی ( تمن بزدار ) ، فاضلہ کچھ ( تمن بزدار ) اور مبارکی کے علاوہ تحصیل ڈیرہ غازی خان کا جزوی حصہ بھی شامل ہے 2001میں ہونے والی حلقہ بندی کے اعتبار سے اس حلقہ میں ایسے دیہات اور قصبات بھی شامل کیے گئے تھے جن کا دیگر آبادی اور علاقوں سے فطری تعلق نہیں تھا اور تحصیل تونسہ شریف سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے اس پر متعدد اعتراضات بھی اٹھائے تھے ۔
 2013 کے انتخابات میںمسلم لیگ ن کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے دو مضبوط امیدوار جن میں سردار میر بادشاہ خان قیصرانی اور سردار محمد امجد فاروق خان کھوسہ شامل ہیں ،تھے تاہم سردار میر بادشاہ خان قیصرانی انتخابات کے شیڈول کے اعلان سے قبل اچانک پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے غالباًا نہیں اس امر کا اندازاہ ہو گیا ہو گا کہ ن لیگ انہیں امیدوار نامزد کرنے میں سنجیدہ نہیں اس لئے انہوں نے اپناناتا پیپلزپارٹی سے جوڑ لیالیکن ان کے کاغذات این اے 171 اور پی پی 240 سے مسترد ہو چکے ہیںاور ان کے خلاف جعلی ڈگری کیس کی سماعت سیشن عدالت میں جاری ہے جبکہ انہوں نے دونوں حلقوں سے اپنی اہلیہ کو نامزد کر دیا ہے تاہم یہ کہنا ابھی قبل ازوقت ہے کہ این اے 171 میں پیپلز پارٹی کا امیدوار کون ہوگا اور ایک امیدوار کو ٹکٹ جاری ہونے کے بعد دوسرے امیدوار کار د عمل کیا ہوگا ۔
2008کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ق کے امیدوار خواجہ شیراز محمود ایک انتہائی اعصاب شکن اور کانٹے دار مقابلے کے بعد اپنے روایتی طاقتور حریفوں کے مقابلے میں کامیاب ہوئے تھے جن میں مسلم لیگ ن کے سردار میر بادشاہ خان قیصرانی ، پاکستان پیپلز پارٹی کے خواجہ مدثر المحمود ، متحدہ مجلس عمل کے خواجہ غلام نظام الدین اور آزاد امیدواران سردار محمد امجد فاروق خان کھوسہ ، خواجہ حافظ محمد داﺅد سلیمانی شامل تھے
انتخابی نتائج کے مطابق کامیاب امیدوار خواجہ شیراز محمود نے 39628ووٹ جبکہ ان کے قریب ترین آزاد امیدوار سردار محمد امجد فاروق خان کھوسہ نے 36400ووٹ اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سردار میر بادشاہ قیصرانی نے 35142ووٹ حاصل کئے تھے تاہم سردار میر بادشاہ خان قیصرانی صوبائی نشست پی پی 240پر خواجہ شیراز محمود کو شکست دیکر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے واضح رہے کہ خواجہ شیراز محمود نے قومی نشست پر مسلم لیگ ق کے فورم سے جبکہ صوبائی نشست پر آزاد حیثیت میں حصہ لیا تھا گزشتہ عام انتخابا ت کے موقع پر سردار امجد فاروق خان کھوسہ کو اپنے کزن سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ سے سیاسی اختلافات کے باعث مسلم لیگ ن کا ٹکٹ جاری نہیں ہوسکا تھا اور وہ این اے 171سے آزاد حیثیت میں انتخاب ہارنے کے باوجود پی پی 242سے آزاد حیثیت میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے جبکہ ساڑھے چار سال کی طویل سوچ بچار کے بعد سردار امجدفاروق خان کھوسہ نے اس وقت مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی تھی جب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور ان کے صاحبزادے سردار دوست محمد خان کھوسہ کے بوجوہ وزیر اعلیٰ پناب میاں شہبا ز شریف سے فاصلے پیدا ہوگئے تھے قابل اعتماد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شمولیت کے وقت سردار امجد کھوسہ کو اس بات کی یقین دہانی کرادی گئی تھی کہ نہ صرف این اے 171کاٹکٹ انہیں جاری کیا جائے گا بلکہ اس میں شامل دو صوبائی حلقوں پی پی 240، پی 241کے علاقہ پی پی 242میں بھی امیدواروں کی نامزدگی ان کی صوابدید پر ہی کی جائے گی اگرچہ مسلم لیگ ن نے ضلع ڈیرہ غازی خان میںکسی ایک بھی حلقہ میں اپنے امیدوار کا سرکاری طور پر علان نہیں کیا تاہم ذرائع کے مطابق سردار امجد فاروق کھوسہ کو این اے 171 اور دیگر صوبائی حلقوں میںان کے تجویز کردہ امیدواروں کو جاری کرنے کا حتمی فیصلہ کر کے انہیں اپنی انتخابی مہم شروع کر نے ہدایت کی گی ہے لیکن امیدواروں کے نام ڈس کلوز نہیں کیے جا رہے کیونکہ پی پی 240 پر ٹکٹ کے خواہشمند دو امیدوار خواجہ محمد داﺅد سلیمانی اور بیرسٹر کنفیوشس امام بخش قیصرانی ہیں ۔ بیرسٹر کنفیوشس امام بخش قیصرانی 2002 نیشنل الانئس اور 2008 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھاجبکہ خواجہ محمد داﺅد سلیمانی کے کا غذات ریٹرنگ آفیسر نے مسترد کر دئے تھے تاہم انہوں نے ٹربیونل اپیل دائر کر دی ہے اور انہیں اپیل منظور ہو نے کا پورا یقین ہے جبکہ وہ 88 میں آزاد حیثیت میں اور 93میں پیپلز پارٹی کے تکٹ پر رکن پنجاب ا سمبلی منتخب ہو چکے ہیں ، 2002 اور 2008 میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے خوا جہ شیراز محمود 2013میں ق لیگ کا ٹکٹ لینے میں ہچکچا رہے ہیں اطلا عات کے مطابق ن لیگ کا ٹکٹ لینے کے لئے خواجہ شیراز محمود خواہش مند تھے تاہم انکے راستے میں ایک سے زائدروکاوٹیں حائل ہو گیئں لیکن پیپلز پارٹی کے متعدد اکابرین سے ان کے ذاتی مراسم ہیں اس لئے انہیں ٹکٹ کے حصول میں کسی قسم کی دشواری کا سانا نہیں کرنا پڑے گا جبکہ مسلم لیگ ق اور پیپلز پارٹی کے درمیانی طے پانے والے فارمولے کا انہیں مفاد حاصل ہوگا جس کے تحت پیپلز پارٹی اس نشست سے اپنا امیدوار نامزد نہیں کر ے گی سردار میر بادشاہ خان قیصرانی کے کاغذات اس حلقہ سے مسترد ہو چکے ہیں اس لئے وہ اپنی اہلیہ کے لئے پیپلز پارٹی سے قومی اسمبلی کی بجائے صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ لینا نہ صرف پسند بلکہ قومی اسمبلی کی نسشت پر خواجہ شیراز محمود کی حمایت کر سکتے ہیں جبکہ 2002 کے انتخابات میں انہوں نے خواجہ شیراز محمود کی حمایت اور خود صوبائی الیکشن میں کامیا بی حاصل کی تھی ا س نتخابی حلقہ میں جمعیت علماءاسلام کے امیدوارقاری جمال عبدالناصر ہیں جو ایک ممتاز عالم دین ،اتحاد بین المسلمین کے داعی اور انتہائی متحرک سیاسی و مذہبی راہنما ہیں جبکہ مولانا مفتی محمود نے 1977ا میںپی این اے کے امیدوار کے طور کامیابی حاصل کی تھی اس حلقہ سے جماعت اسلامی کا بھی مناسب ووٹ بنک موجود ہے اور جماعت نے پرفیسر عطا محمد جعفری کو اس حلقہ سے امیدوار نامزدکیا ہے جو ماہر تعلیم ہونے کے حوالے سے تعلیمی خدمات کا طویل پس منظر رکھتے ہیں جبکہ پورے ملک کی طرح جماعت اسلامی کا مضبوط تنظیمی سٹرکچر اس حلقہ انہیں سپورٹ کرے گا ،شہری آبادی کا نوجوان طبقہ تحریک انصاف کا دلدادہ نظر آتا ہے لیکن اس حلقہ میں شہری آباد ی کی شرح پندرہ فیصد سے بھی کم ہے جبکہ پچاس فیصد سے زیادہ ووٹرز کا تعلق میدانی قبائلی اور دریائی مواضعات سے ہے پی ٹی آئی نے خواجہ مدثر المحمود کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے جو پیپلز پارٹی کو خیر باد کہکر اسمیں شامل ہو گئے تھے جبکہ وہ 2008 کے انتخابات میں وہ اس حلقہ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے اور19221ووٹ لے سکے تھے دیگر امیدواروں میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے غلام حیدر،ایم کیو ایم کے محمد شعیب کھتران،عبدالسلام بزدار، سردار شیر زمان خان قیصرانی،رفیق الرحمن سنجرانی،عبدالغفور محمد طاہر مخدوم ، خواجہ شہزاد محمود ،محمد اقبال ،رحمت اللہ اور خاتون امیدوار محترمہ راشدہ نسیم شامل ہیں
 سردار فتح محمد خان بزدار کی مسلم لیگ ن میں شمولیت اور انکے بیٹے سردار عثمان خان بزدر کے پی پی 241سے انتخابات میں حصہ لینے سے سردار امجد فاروق کھوسہ کو براہ راست ہوگا
2001میں ہوانے والی حلقہ بندیوں سے قبل بھی خواجگان اور کھوسہ قومی نشست پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوتے رہے جن میں موجودہ رکن قومی اسمبلی خواجہ شیراز محمود کے والد خواجہ کمال الدین انور مرحوم 1988میں آئی جے آئی اور 1993میں پاکستان پیپلز پارٹی کے فورم سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اس طرح سردار محمد امجد فاروق کھوسہ بھی گزشتہ 27سال سے رکن اسمبلی منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں جن میں 1985میں پہلی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی 1988میں دوبارہ رکن صوبائی اسمبلی جبکہ 1990اور 1997میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اب آئندہ عام انتخابات میں سردار امجد فاروق کھوسہ کا مقابلہ اپنے روایتی حریف خواجہ کمال الدین انور مرحوم کے صاحبزادے خواجہ شیراز محمود سے تیسری بار ہوگا منتخب ایوان میں بزدار قبائل کی نمائندگی پہلی مرتبہ 1977میں سردار دوست محمد خان بزدار کے رکن صوبائی اسمبلی بننے پر ہوئی جبکہ ان کی وفات کے بعد مرحوم کے بیٹے سردار فتح محمد خان بزدار 1982میں مجلس شوریٰ کے رکن ، 1985، 2002اور 2008میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اگرچہ 2002اور 2008میں وہ مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تاہم اس مربتہ ان کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کے بعد انتخابات میں انکے بڑے صاحبزادے سابق تحصیل ناظم سردار محمود عثمان خان بزدار حصہ لے رہے ہیں
اس طرح قیصرانی قبیلہ کی باقاعدہ نمائندگی کا آغاز 1960میں سردا ر منظور احمد خان قیصرانی کے رکن منتخب ہونے سے ہوا جبکہ 1990اور 1997میں مر حوم کے بیٹے سردار ظہور احمد خان قیصرانی رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے او رسردار ظہور احمد خان کی وفات کے بعد 2002،2008میں انکے بیٹے سردار میر بادشاہ خان قیصرانی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے
اس حلقہ میں غیر سیاسی عناصر جن میں بالخصوص بلوچوں کے مختلف قبیلے شامل ہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ امیدواروں کی سیاسی وابستگی ووٹرز کے لیے اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہے اسلے دیگر حلقوں کی نسبت ووٹرز کی ترجیحات ، رویہ اور رحجان قطعی مختلف حیثیت کے حامل ہیں یہی وجہ ہے کہ بیشتر امیدوار مختلف ادوار میں اپنی سیاسی وفاداریاں اور وابستگیاں تبدیل کرنے کے عمل میں مہارت کے قائل ہیں البتہ مذہبی ووٹ کی مخصوص پاکٹس موجود ہیں
قبائلی علاقے میں بارڈر ملٹری پولیس فیکٹر اہم کردار ادا کرتا ہے جہاں تمن قیصرانی میں قیصرانی قبیلے کے افراد اور تمن بزدار میں بزدار قبائل کے افراد ملازمت کر رہے ہیں موجودہ دور میں اس حلقہ میں قابل ذکر ترقیاتی منصوبے شروع نہیں ہوسکے اور پسماندگی اس حلقے کا خاصا چلی آرہی ہے بلکہ ڈھوڈک پلانٹ کی سندھ میں منتقلی نے مقامی قبائلی کی معیثت اور روزگار پر منفی اثرات مرتب کیئے
یہ بات بھی انتہائی قابل ذکر ہے کہ انتخابی مزاج مخصوص قبیلوں اور خاندانوں کے گرد گھومنے کے باعث یہاں کا امیدوار کسی سیاسی منشور کا محتاج نہیں تاہم امیدوار کے سیاسی قد ، کاٹھ میں روایتی تھانہ اور پٹواری کلچر کو خاصی اہمیت حاصل ہے جس کے لیے اپنی پسند کے افسران کی تعیناتی دیگر کاموں کی نسبت زیادہ توجہ طلب اور ترجیحی ایشو رہی ہے اور اجتماعی ترقیاتی کاموں کی قیمتی پر منتخب امیدوار اور ووٹر ز کی انفرادی ذاتی کاموں پر توجہ ایک المیے کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ترقیاتی منصوبے خواب کا روپ اختیار کر چکے ہیں۔
        محمد اشرف بزدار بےورو چےف
       ڈیرہ غازی خان Mob.03336497215