جمعرات‘27 صفر المظفر 1445ھ ‘ 14 ستمبر 2023ئ

جوبائیڈن کو بھارت میں اقلیتوں کیخلاف اقدامات پر تشویش‘ انسانی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ۔
ایک سپرپاور کا بھارت جیسے دہشت گرد ملک سے انسانی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کرنا عجیب ہی لگ رہا ہے۔ امریکہ تو خود کو سپرپاور کہتا ہے اور بدقسمتی سے اس وقت وہ دنیا کی سپرپاور ہے بھی۔ اسے تو ایسے دہشت گرد ملک سے مطالبہ کرنے کے بجائے اسے حکم دینا چاہیے جس طرح اس نے اپنی دہشت گردی کی جنگ میں ساتھ دینے کیلئے ہمارے کمانڈو صدر کو دھمکی دیکر انکے پیروں تلے زمین نکال دی اور پھر ڈنڈے کے زور پر پاکستان کو اپنا فرنٹ لائن اتحادی بننے پر مجبور کیا تھا۔ امریکہ کا یہی وہ دوہرا میعار ہے جو انصاف کے تقاضوں اور کشمیر کے معاملے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرانے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اگر ایسی ہٹ دھرمی کوئی دوسرا ملک کرے تو پاکستان جیسے ملک کے معاملے میں امریکہ سپرپاور بن جاتا ہے جبکہ اپنے فطری اتحادی بھارت کے آگے اسکی ایک نہیں چل رہی۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت نہتے کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے‘ اس میں امریکہ کی رضا بھی شامل ہے۔اسی لئے وہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ظلم کا ہر ہتھکنڈہ دھڑلے سے استعمال کر رہا ہے۔ اگر ایسی انسانی حقوق کی پامالی کوئی دوسرا ملک کرے تو امریکہ سمیت کئی ممالک انسانی حقوق کے علمبردار بن کر سامنے آجاتے ہیں اور اس پر فوری عالمی پابندیاں عائد کر دیتے ہیں۔ امریکہ کو سوچنا ہوگا کہ اس کا یہ دہرا معیار آخر کب تک چلے گا۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں کفر کا نظام تو چل سکتا ہے‘ مگر ظلم کا نظام ہرگز نہیں چل سکتا۔ رہی بات اقوام متحدہ کی‘ تو یہ عالمی ادارہ بھارتی ہٹ دھرمیوں پر دھتورا پی کر سویا ہوا ہے۔انسانی حقوق کی پامالی تو کجا‘ اسے بھارت کے ہاتھوں اپنے چارٹر کی پامالی کا بھی کوئی افسوس نہیں۔ اگر اس کا یہی چلن رہا تو جلد یا بدیر اس کا حشر لیگ آف دی نیشنز جیسا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ امریکہ کو بھارتی اقلیتوں کے حقوق کے معاملے میں بھارت سے مطالبہ کرنے کے بجائے ڈنڈے کے زور پر اسے رام کرنا چاہیے کیونکہ یہ خطے کے امن و سلامتی کا معاملہ ہے جس سے کئی ممالک جڑے ہوئے ہیں۔ مگر امریکہ ایسا ہرگز نہیں کریگاکیونکہ وہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانا چاہتا ہے تاکہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کر سکے۔ 
٭....٭....٭
صدر نے پرائس کنٹرول ‘ ناجائز منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے ترمیمی بل کی منظوری دیدی۔ 
ارے جناب! ذخیرہ اندوزوں‘ منافع خوروں اور پرائس کنٹرول کے معاملات دیکھنا تو ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے‘ اس کیلئے صدر صاحب سے بل منظور کرانے کی کیا ضرورت تھی۔ ضلعی انتظامیہ ہی ایسے مافیاز کو کنٹرول کرتی ہے مگر اسکی طرف سے تو چین ہی چین نظر آتا ہے۔ اتوار بازار ہوں یا عام بازار‘ مارکیٹوں میں یہ مافیا کھل کھیل رہا ہے مگر اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ اب صدر صاحب نے بل کی منظوری دیدی ہے‘ دیکھتے ہیں ‘ اب اس میں کتنی بہتری آتی ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کیلئے کسی بل یا قرارداد کی پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی‘ انکے خاتمے کی آئین اورقانون بھی اجازت دیتا ہے۔ نجانے پاکستان کس ڈگر پر چل نکلا ہے کہ چوروں، ڈاکووں اور لٹیروں کو پکڑنے کیلئے بھی یہاں بل منظور کرائے جا رہے ہیں یہاں آئین و قانون کی بات تو کی جاتی ہے مگر انکی پاسداری ہوتی کہیں نظر نہیں آتی۔ ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں پر قابو پانے کیلئے صدر مملکت سے بل کی منظوری لینے سے بادی النظر میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جن عناصر یا مافیا کو رعایت دینا مقصود ہو‘ اس کیلئے بل یا قرارداد منظور کی جاتی ہے‘ اس سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ ان مافیاز کی سرپرستی کرنے والی کالی بھیڑیں سرکار کی چھتری تلے ہی پرورش پا رہی ہوتی ہیں۔ظاہر ہے اگر بغیر اجازت کے مافیاز پر ہاتھ ڈالا گیا تو انہیں ناگوار گزر سکتا ہے۔ 
٭....٭....٭
آج صبح واک کے دوران ہمارا گزر ایک چھوٹے سے سکول کے قریب سے ہوا تو اس وقت بچے اسمبلی میں کھڑے علامہ اقبال کی لکھی یہ دعا پڑھ رہے تھے:
لپ پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری 
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری 
یہ سن کر ہمیں اپنے سکول کا زمانہ یاد آگیا‘ ہم بھی اسمبلی میں کھڑے ہو کر یہ دعا پڑھتے اور اسکے بعد قومی ترانہ پڑھ کر لائنوں کی صورت میں اپنی اپنی کلاسوں کی طرف جایا کرتے تھے۔ پھر سارا وقت پڑھائی اور ٹیچر کی نصیحتیں ہمارے کانوں سے ٹکراتی رہتی تھیں۔ ٹیچرز درس دینے کے ساتھ ساتھ نصیحتیں بھی کیا کرتے اور ان پر عملدرآمد کی تائید بھی کرتے۔ پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک پورے دس سال ڈسپلن سکھایا جاتا‘ لائنیں بنا کر کلاسوں میں جانا اور چھٹی کے وقت لائنوں کی صورت میں ہی کلاسوں سے باہر نکلنا سکھایا جاتا ہے۔ دس سال کی مشق کے باوجود کسی میں ڈسپلن نظرنہیں آتا۔ ٹریفک کا حال دیکھ لیں‘ مارکیٹ بازاروں میں دیکھ لیں‘ یہ سب سکول کالجوں سے ہی فارغ التحصیل ہوتے ہیں مگر ہر کوئی بھیڑ بکریوں کی طرح ادھر ادھر گھومتا پھرتا نظر آتا ہے۔ یہی بچے بڑے ہو کر لائنوں میں لگنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو انہی درس گاہوں سے پڑھ کر نکلتے ہیں اور ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں۔ علامہ صاحب کی دعا کے یہ اشعار تو ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں نے بھی اپنے سکول کی اسمبلیوں میں جھوم جھوم کر پڑھے ہونگے۔ خوش قسمتی سے وہ آج بھی اسمبلیوں میں موجود ہیں‘ لیکن سکولوں والی نہیں‘ قومی اسمبلیوں میں جہاں وہ قوم کی قسمت کے فیصلے کرنے میں قدرت رکھتے ہیں۔ ان میں کئی ایسے بھی ہونگے جو ملک و قوم کا نام روشن کرنے کا عزم لے کر اسمبلی میں آئے ہونگے‘ مگر وہ علامہ اقبال کی اس دعا اور اپنے استادوں کی نصیحتوں کو عملی جامہ پہنانے کی طاقت رکھنے کے باوجود اس دعا کے کسی شعر پر پورا اترتے دکھائی نہیں دے رہے۔ 
علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ کہ انکی دعا کے اشعار آگے پیچھے کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ 
ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے”غریبوں“ سے محبت کرنا 
کیا ہمارا کوئی سیاست دان یا حکمران مندرجہ بالا شعر پر پورا اترتا نظر آتا ہے‘ ہرگز نہیں۔ 
مرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس راہ پہ چلانا مجھ کو
اس شعر کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔
پس ثابت ہوا کہ زیور تعلیم کا اصل مقصد کچھ لوگ ہی سمجھ پاتے ہیں جو اس دنیا میں اپنا نام بھی روشن کر جاتے ہیں۔ باقی تو بس ڈگریاں حاصل کرنے کی صرف رسم ہی پوری کرتے ہیں۔