متحدہ کے 3 رہنمائوں کی پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت، ساری ایم کیو ایم آ جائے: مصطفی کمال

14 اکتوبر 2016

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم کی ایک ساتھ تین پتنگیں کاٹ دیں، سابق رکن قومی اسمبلی شاکر علی سمیت تین اہم رہنما پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہو گئے۔ مصطفیٰ کمال کہتے ہیں ہر روز آگے بڑھ رہے ہیں، ایم کیو ایم کو بھی پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہونا پڑے گا۔ سلیم تاجی اور نیک محمد پاک سرزمین پارٹی کا حصہ بن گئے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال ایم کیو ایم پر خوب برسے، نپے تلے انداز میں وزیراعظم سے شکوہ بھی کر گئے، انہوں نے کراچی کے امن کے حوالے سے بھی بڑا دعویٰ کر دیا، وزیراعلیٰ سندھ پر الزام بھی لگا گئے، پی ایس پی رہنما نے فاروق ستار کے باؤنسرز کا ذکر کیا اور ایم کیو ایم کو بڑا مشورہ بھی دے دیا۔ انہوں نے کہا ان کی جماعت ہر روز آگے بڑھ رہی ہے، چاروں صوبوں کے بعد بیرونی ممالک میں بھی دفاتر قائم کر دیئے گئے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے وزیراعلیٰ سندھ پر متحدہ کا مقدمہ لڑنے کا الزام بھی لگا دیا۔ مصطفیٰ کمال نے شکوہ کیا ان کی جماعت میں آنے والے ہر شخص کو فاروق ستار کریمنل قرار دے دیتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے وہ اسی شخص کو نیک قرار دے رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا فاروق ستار انہیں ایک ہی بار تمام برے لوگوں کی فہرست دے دیں تاکہ میری جماعت میں آنے کے بعد وہ کسی پر الزام نہ لگا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا متحدہ بانی ’را‘ کے ایجنٹ ہیں اور 22 سال سے بھارت سے پیسے لے رہے ہیں۔ ان کیخلاف میں نے جو کچھ کہا تھا اب تو وہ سچ ثابت ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف جرائم پیشہ افراد کو پکڑ رہے ہیں لیکن لوگوں کو برائی ترک کرکے اچھائی کی طرف راغب کرنے کا کام صرف ہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا حقیقی امن صرف سیاسی جماعتیں لا سکتی ہیں۔ ڈی جی رینجرز کے پاس ہارڈویئر ہے لیکن ہمارے سافٹ ویئر کے بغیر امن نہیں آ سکتا۔ انہوں نے کہا ایم کیو ایم کو پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کی پیشکش بھی کر دی۔ انہوں نے کہا سینکڑوں لوگ برطانیہ میں ہیں جو مظاہرے کرتے ہیں اور تنظیمی سیٹ اپ فعال کر رہے ہیں۔ گلگت، بلتستان اور چترال میں بھی ہمارا آفس ہے۔ یہ واحد جماعت ہے جو 6 ماہ میں کروڑوں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ میں ایم کیو ایم کی مذمت نہیں کر رہا صرف سچ بول رہا ہوں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو ایک میٹنگ میں ایم کیو ایم کا مقدمہ لڑتے دیکھا۔ مجھے لگا سورج مغرب سے نکلنا شروع ہو گیا ہے ہم نے سب کے سامنے کہا کراچی میں اسلحہ کی بھرمار ہے۔