ٹرمپ جیسے بیانات دینے والے کو دکان پر بھی کام نہ ملے، ریپبلکن قیادت حمایت بند کرے: اوباما

14 اکتوبر 2016

واشنگٹن (آئی این پی+ این این آئی) امریکی صدر بارک اوباما نے ریپبلکن امیدوار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، بارک اوباما کا کہنا تھا کہ جو باتیں ٹرمپ نے کی ہیں وہ کوئی اور کرے تو اسے کسی دکان پر بھی کام نہ ملے۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے سوال کیا کہ کیا آپ ایسی بیہودہ باتیں کرنے والے کو اپنے ادارے میں ملازم رکھیں گے؟ بارک اوباما نے ان امریکیوں پر بھی حیرت کا اظہار کیا جو ٹرمپ کی خواتین کے بارے میں گفتگو سن کر بھی انہیں ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ اوباما نے ریپبلکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے کہا ہے کہ وہ باضابطہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابی مہم کی حمایت سے پیچھے ہٹ جائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلیری کلنٹن کی حمایت کے لیے ایک ریلی میں شرکت کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اس بات کا کوئی منطق نہیں کہ آپ ٹرمپ کے (خواتین کے معاملہ میں) نازیبہ بیان کی مخالفت کریں لیکن پھر بھی ان کی صدارت کی حمایت کریں۔ یاد رہے حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی خواتین کے بارے میں نازیبا گفتگو کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے وہ شدید مشکلات میں ہیں اور رپبلکن پارٹی کے 30 کے قریب سینیئر رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین نے خبردار کیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہوئے تو ’’خطرناک شخصیت‘‘ کے طور پر ابھریں گے۔ ٹرمپ کے چند بیانات انتہائی چونکا دینے والے اور پریشان کن ہیں۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق ہائی کمشنر زید رعد الحسین نے کہا کہ ٹرمپ جیسے عوامی سیاست دان اور ڈنمارک کے قوم پرست گیرٹ وائلڈرز ڈر اور خوف کا ہتھکنڈا استعمال کر رہے ہیں اور دنیا کا ایسا نقشہ کھینچ رہے ہیں جس کا کوئی وجود نہیں ہے، ان کا مقصد اپنی جانب دھیان مبذول کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی انتخابات میں مداخلت کرنے میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں تاہم امریکی صدر کے عہدے کے امیدوار کے ’’پریشان‘‘ اور ’’فکرمند‘‘ کرنے والے تبصروں کے بعد انتباہ دینا مناسب ہی ہے۔