انسانی حقوق کے اداروں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی دی جائے:آل پارٹیز کانفرنس

14 اکتوبر 2016

اسلام آباد (آئی این پی+این این آئی) کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل کے زیر اہتمام آل پارٹیزکانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں مقبوضہ جموںوکشمیر کے عوام کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا حوصلہ اور استقامت سے مقابلہ کرنے پر سلام پیش کر تے ہوئے کہاگیاکہ اجلاس ریاست جموںوکشمیر میں جاری تحریک کو کشمیری عوام کی اپنی تحریک اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور چارٹرکے مطابق تسلیم شدہ حق خودارادیت کی تحریک قرار دیتا ہے، بھارت کی طرف سے اقوام متحدہ میں کشمیر کو اپنا حصہ قرار دینے کے خلاف حقائق و قانون دعوے کی مذمت کر تے ہیں۔ اعلامئے میں کہاگیاکہ اقوام متحدہ کی (سلامتی کونسل کی قرار داد وں جو ہندوستان و پاکستان نے مشترکہ طور پر رضامندی سے منظور کروائیں، تمام بین الااقوامی قوانین اورمعاہدوں کے مطابق کشمیر کسی طور بھی ہندوستان کا حصہ نہیں بلکہ ایک متنازعہ خطہ ہے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں کو مقبوضہ جموںوکشمیر تک رسائی دلائی جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں پرامن احتجاج کرنے والے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو مارنے، اندھا کرنے اور معذور کرنے کیلئے پیلٹ گن اور دیگر ہتھیاروں کے استعمال کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ بھارت کی طرف سے حالیہ سیز فائر لائن کی خلاف ورزیوں اور جارحیت کو علاقائی امن اور سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے دہشت گردی ، اوڑی حملہ اور سرجیکل سٹرائیک کے ڈرامہ رچا رہا ہے جس کی پرزور مذمت کی جاتی ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںخطاب کشمیریوں کی بھرپور ترجمانی اور پاکستان کے بنیادی موقف کے مطابق تھا جس میں انہوں نے کشمیریوں کے حق خودارادیت ، ان کی موجودہ جدوجہد اور کشمیر میں موجودہ صورتحال پر عالمی توجہ مبذول کروائی۔وزیراعظم کی طرف سے دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں وفود بھیجنے اور متعلقہ اداروں کو کشمیر کی صورتحال پر خطوط تحریر کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔ بھارتی حکومت پردباؤبڑھایا جائے کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیںفوجی قبضہ ختم کرتے ہوئے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور تمام عالمی قوانین کی پابندی کرے۔ خطہ میں امن اور استحکام کیلئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اے پی سی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہاہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے لیے آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہیں۔کشمیر کے معاملے پر کوئی سیاست نہیں ۔6 جولائی سے مقبوضہ وادی میں شروع ہونے والی انتفادہ میں دن بدن شدت آرہی ہے ۔حالات کا تقاضہ ہے متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔پاکستان کی بہادرمسلح افواج ملک کے ایک ایک انچ کا دفاع کر رہی ہیں۔ وہ گزشتہ روز کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل کی جانب سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر سابق وزرائے اعظم چودھری عبدالمجید، سردار عتیق خان، قائد حزب اختلاف چودھری یاسین، خواجہ فاروق، عبدالمجید ملک، غلام محمد صفی، میر طاہر مسعود سمیت سابق وزرائ، ارکان اسمبلی، دانشور حضرات کے علاوہ سول سوسائٹی اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خوراک، ادویات کی قلت ہے لیکن جذبہ آزادی ہر آنے والے دن تیز ہو رہا ہے۔بھارتی قابض افواج پیلٹ گن کا استعمال کر رہی ہے جس سے سینکڑوں کشمیری بچے اور نوجوان قوت بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ بھارت نے سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے رچایا۔ میں نے سیز فائر لائن کے تمام علاقوں کا دورہ کیا لیکن کہیں سے بھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کا حقیقی بیس کیمپ بنایا جائے گا۔آل پارٹیز حریت کانفرنس سے بھی مشاورت کی ہے۔ تحریک آزادی کے معاملہ میں کوئی سیاست نہیں تمام جماعتیں کی طرف سے قابل عمل تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ راجہ فاروق حیدر نے سردارعتیق کی سیز فائر لائن توڑنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی باتیں کرنے سے قبل بیس کیمپ کے کردار کا تعین ہونا چاہئے ایسے اقدامات کرکے آپ پاکستان بھارت جنگ کرانا چاہتے ہیں۔