’’سٹیٹس کو‘‘کی قوتوں نے عوام کو سیاست سے بیزار کر دیا: سراج الحق

14 اکتوبر 2016

لاہور (سپیشل رپورٹر) جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمران اپنے ساتھ ان لوگوں کو بھی احتساب سے بچانا چاہتے ہیں جنہوں نے ان کی چھتری کے نیچے پناہ لے رکھی ہے۔ ملک میں آئین و دستور کی بالادستی کی راہ میں حکمران طبقہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ خیر اور شر کے معرکے میں غیر جانبداری اور ظلم و جبرکے خلاف نہ اٹھنا ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ امام حسینؓ نے ظالمانہ نظام کا مقابلہ کرکے امت کو پیغام دیا کہ ظلم کو کسی شکل و صورت میں بھی برداشت نہ کیا جائے۔ ’سٹیٹس کو‘ کی قوتوں نے عوام کو سیاست سے بیزار کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے ضلع وسطی میں ارکان و کارکنوں کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان میں پارٹیوں کا نہیں ظالم اور مظلوم کا مقابلہ ہے، ظالم ٹولے نے تمام بڑی پارٹیوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ ظالم متحد اور مظلوم منتشر ہیں اور ظالم جاگیر داروں اور سرمایہ داروںنے تمام ملکی وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے، سرکاری و غیر سرکاری ادارے اس ٹولے کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ آج ہمیں بھی حضرت امام حسینؓ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک سے خاندانی بادشاہتوں کا خاتمہ کرکے شریعت کے تابع جمہوریت کا نظام قائم کرنا ہو گا تاکہ عوام کو زندگی کی بنیادی ضروریات مہیا کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام غربت اور مہنگائی میں پس رہے ہیں، عام آدمی کیلئے اپنے بچوں کو تعلیم دلانا اور بیمار کا علاج کرانا ممکن نہیں رہا۔ حکومتی پالیسیوں سے لگتا ہے کہ تعلیم اور صحت ان کی کسی ترجیح میں شامل نہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ جب تک ان کرپٹ اور لٹیرے حکمرانوں سے نجات نہیں ملتی ملک و قوم مسائل کی دلدل میں دھنستے رہیں گے۔ ملک میں خاندانی بادشاہتوں کی بجائے آئین کی حکمرانی قائم کرنے کیلئے عوام کو ایک نئے عزم سے اٹھنا ہو گا اور تحریک پاکستان کی طرز پر پاکستان کو بچانے کیلئے نئے سرے سے جدوجہد کرنا ہو گی۔ حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ اور غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے آ ج ملک کا بچہ بچہ مقروض ہے، قوم کوآئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی میں جکڑنے کے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں، حکمرانوں نے محض اپنے کمشن کیلئے قوم کے ہاتھوں میں آئی ایم ایف کی ہتھکڑیاں اور پائوں میں بیڑیاں پہنا دی ہیں۔ اسلام آباد سے صباح نیوز کے مطابق سراج الحق نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر قائداعظم کو علم ہوتا کہ میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو کرپشن کے رسیا ہوں گے اور پاکستان کا تحفظ کرنے کی بجائے اس کے دو ٹکڑے کر دے گے تو شاید وہ اتنی محنت نہ کرتے، نواز شریف وعدے پورے نہ کر کے لوگوں کو خود ہی سڑکوں پر آنے کی دعوت دے رہے ہیں، دوسروں سے سنجیدہ رہنے کی توقع کرنے سے پہلے خود حکومت سنجیدہ ہو اور کرپشن کے خاتمہ کے لیے احتساب کا بلاامتیاز عمل شروع کرے۔ وزیراعظم نے تین بار تقاریر کر کے قوم کے ساتھ احتساب کا وعدہ کیا لیکن اب تک اپنے آپ اور حکومت کو احتساب کے لیے پیش نہیں کیا جس سے ظاہر ہے کہ حکومت خود لوگوں کو ایوانوں کی بجائے چوکوں چوراہوں پر آنے کا راستہ دکھا رہی ہے۔ ہم کسی غیرآئینی کام کا حصہ نہیں بنیں گے۔صباح نیوز کے مطابق سراج الحق نے اینٹونیو گوٹریز کو اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اینٹونیو گوٹریز اقوام متحدہ کے چارٹر پر دو پرانے سنگین مسائل مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کریں گے۔