ادب کا نوبل انعام امریکی نغمہ نگار باب ڈیلن نے جیت لیا

14 اکتوبر 2016

نیویارک (بی بی سی+ اے ایف پی) مشہور امریکی گلوکار اور نغمہ نگار نے اس برس ادب کا نوبل انعام جیت لیا۔ سویڈش اکیڈمی جانب سے اِس اعلان نے دنیا بھر میں ادبی حلقوں کو حیران کر دیا ہے لیکن اکیڈمی کا کہنا ہے باب ڈیلن نے اپنے نغموں کے ذریعے شاعری کو اظہار کی جہتوں سے روشناس کرایا ہے۔ پچھتر برس کے بوب ڈیلن کے بعض گانے جنگ مخالف اور شہری حقوق کی تحریکوں کے ترانے بن گئے تھے۔ ڈیلن کو 80 لاکھ سویڈش کرونزانعام ملے گا۔ وہ 1941ء میں ریاست منی سوٹا میں پیدا ہوئے۔ وہ 11 جرمن ایوارڈز، گولڈن گلوب ایوارڈ اور 2011ء میں آسکر ایوارڈ بھی جیت چکے ہیں۔ 1960ء کی دہائی سے ہی ان کے کام کو سراہا جاتا رہا ہے جب انکے گانے 'بلوئنگ اِن دی وِنڈ' اور 'دی ٹائمز دے ار اے چینجِنگ' جنگ کے خلاف اور شہری حقوق کی تحریک کے ترانے بن گئے تھے۔ روائتی انداز کے نغموں سے ہٹ کر جدید نغموں کو اپنانے کا انکا فیصلہ حالانکہ متنازع لیکن کامیاب رہا۔ ڈیلن کی کئی البمز میں1965 میں 'ہائی وے 61' 1977 میں 'بلونڈ او بلونڈ' اور 1975 میں 'بلڈ آن دی ٹریک' شامل ہیں۔ 1980 کی دہائی سے ڈیلن نے بے شمار ٹور کیے۔کافی عرصے سے انہیں نوبل انعام کے حقداروں میں سے ایک کہا جا رہا تھا لیکن کچھ ماہرین کا خیال تھا کہ یہ اعزاز فوک راک میوزک کے لیے دیا جانا چاہئے۔ نوبل فاؤنڈیشن کی سیکرٹری سارہ ڈینیس کا کہنا ہے یہ اعزاز 10 نومبر کو دیگر پانچ اعزازات کے ساتھ دیا جائے گا۔ ڈیلن رواںبرس نوبل انعام پانے والے اور امریکہ میں پیدا ہونے والے شخص ہیں۔ باقی 5 کیٹیگریز میںکامیاب شخصیات کی جائے پیدائش دیگر ممالک تھے۔ ونسٹس میں معاشیاتکے پروفیسر پاکستانی نژاد عاطف میاں نے کہا اس صورت حال سے بیرون ملک سے امریکہ آ کر بسنے والوں کی اہمیت کاپتہ چلتا ہے جب کہ امریکہ اور برطانیہ کے کئی ووٹرز بیرون ملک سے آنے والوں کے خلاف سخت قوانین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف اٹلی کے 1997ء کے نوبل انعام یافتہ ڈرامہ نگار اور اداکار ڈاریوفو 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وزیراعظم مائیو رینزی نے انکے انتقال کا اعلان کرتے ہوئے کہا اٹلی اپنے تھیٹر، ثقافت اور شہری زندگی کے کئی کرداروں میں سے ایک سے محروم ہو گیا ہے۔ فوٹ معروف ڈراموں میں ’’ایکسیڈینٹل ڈیتھ آف این انارکسٹ‘‘ اور ’’کانٹ پے، وانٹ پے‘‘ شامل ہے۔