قائمہ کمیٹی میں پانامہ بل مؤخر، وزیر قانون، ارکان کے دوروں پر اجلاس اگلے ماہ ہو گا

14 اکتوبر 2016

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے حوالے سے اپوزیشن کا بل قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن کی درخواست پر مؤخر کردیا گیا، وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد اور ارکان کمیٹی کے بیرونی دورں کی وجہ سے بل پر آئندہ ماہ غور کر نے کا فیصلہ کیا گیا۔کمیٹی نے وفاقی ادارہ شماریات سے ادارے کو خود مختار بنانے، گورننگ کونسل میں صوبوں کی نمائندگی اور ادارے کے سروسز رولز بنانے کے حوالے سے سفارشات مانگ لیں۔ سینٹ میں وفاقی ادارہ شماریات کے حوالے سے خزانہ کمیٹی کی رپورٹ پر حکومت کی جانب سے عدم اعتماد کا اظہار کر دیا گیا، کمیٹی نے وفاقی ادارہ شماریات کے حوالے سے خزانہ کمیٹی کے اجلاسوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا، جس میں کمیٹی ارکان سلیم ضیائ، عائشہ رضا فاروق اور نہال ہاشمی کے علاوہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد، وفاقی ادارہ شماریات اور وزارت قانون کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا اپوزیشن کی جانب سے بل ایک دن کیلئے موخر کرنے کی درخواست کی گئی ہے، مگر جمعہ کے روز ممبران نے اپنے علاقوں کو واپس جانا ہوتا ہے اسلئے اس روز اجلاس نہیں بلا سکتے، جس پر وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا 16 سے 23 اکتوبر کو ملک میں نہیں ہوں گا اس لئے اس دوران کمیٹی کا اجلاس نہ بلایا جائے۔ سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا میں اور دیگر سینیٹرز بھی 23 اکتوبر سے 5 نومبر تک ملک سے باہر جا رہے ہیں اس لئے کمیٹی کا اجلاس نہ بلایا جائے۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے ادارہ شماریات کے حوالے سے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات پر کہا خزانہ کمیٹی نے جو سفارشات پیش کیں ان پر کمیٹی میں بحث ہی نہیں کی گئی تو کمیٹی نے کیسے وہ اپنی سفارشات ایوان میں پیش کیں۔ اس موقع پر ادارہ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ نے کہا کہ سینٹ خزانہ کمیٹی میں ہم نے ایسی کوئی سفارش یا اس حوالے سے کوئی بریفنگ نہیں دی، آج کمیٹی اجلاس میں جو ایجنڈا رکھا گیا ہے اس بارے میں بھی ہمیں بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔ جس پر کمیٹی چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے کہا یہ انتہائی تشویشناک بات ہے خزانہ کمیٹی میں جس بات پر غور ہی نہیں کیا گیا اس بارے میں کمیٹی نے کیسے ازخود سفارشات دے دیں، خزانہ کمیٹی اس سے قبل بھی ایسا کر چکی ہے یہ تشویشناک بات ہے۔ کمیٹی اجلاس کے بعد پانامہ پیپرز کی تحقیقات، اپوزیشن کے بل کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا اپوزیشن کا پانامہ انکوائری بل امتیازی اور جانبدارانہ ہے، بل میں اکثر شقیں وزیراعظم اور انکے خاندان کو ٹارگٹ کرنے کیلئے ڈالی گئی ہیں، اپوزیشن کسی طرح وزیراعظم کو پانامہ معاملہ میں ملوث کرانا چاہتی ہے، پانامہ پیپرز میں جن کے نام ہیں ان کی انکوائری پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں، پانامہ انکشافات میں وزیراعظم کا نام نہیں، انہوں نے کہا اپوزیشن کے نہ آنے سے آج کی میٹنگ بے نتیجہ رہی، ہم اپوزیشن کے بل کا جواب دینے کیلئے تیار ہوکر آئے تھے، اپوزیشن کے بل کے مقابلے میں ہمارا انکوائری کمیشن بل زیادہ واضح اور جامع ہے، حکومتی بل میں پانامہ کے علاوہ تمام آف شور کمپنیوں، قرضہ معاف کرانے اور غیر قانونی فنڈز دینے کی تحقیقات بھی شامل ہیں، ہم چاہتے ہیں جہانگیر ترین، علیم خان، عمران خان اور جن کی آف شور کمپنیاں ہیں انکی تحقیقات ہوں۔