کیا اعلیٰ سول اور فوجی حکام خفیہ اجلاسوں میں بات کرنا بند کر دیں؟ تفصیلات لیک ہونے سے بداعتمادی پیدا ہو گی: جہانگیر ترین

14 اکتوبر 2016

لندن (بی بی سی) تحریک انصاف کے سرکردہ رہنما جہانگیر خان ترین نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی تفصیلات لیک ہونے کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فوج اور سول حکومت کے درمیان بداعتمادی کی گہری خلیج پیدا ہو گئی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جہانگیر خان ترین نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ان سوالات نے جنم لینا شروع کر دیا کہ کیا بند کمرے کے خفیہ اجلاسوں میں اعلیٰ سول اور فوجی حکم کھل کر بات کرنا بند کر دیں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ بند کمرے میں ہونے والے ایک اجلاس کی تفصیلات کے سامنے آنے کی ذمہ داری کسی صحافی پر ڈالنا انصاف نہیں ہو گا۔ معاملے کی تحقیقات ہونا ضروری ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے حال ہی میں کشمیر جیسے حساس اور سنجیدہ معاملے پر حکومت کی طرف سے بلائے گئے آل پارٹیز اجلاس کی طرف بھی اشارہ کیا جس میں تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کی تقریر کے ’ٹکر‘ مبینہ طور پر حکومتی میڈیا سیل نے الیکٹرانک میڈیا کو جاری کر دیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے بند کمرے کے اجلاسوں میں شرکا اس اعتماد پر کھل کر بات کرتے ہیں کہ ان کی بات بند کمرے سے باہر نہیں نکلے گی۔ لیکن اگر یہ اعتماد ختم ہو جائے تو نہ صرف کوئی بات نہیں کرے گا بلکہ اس طرح کے اجلاس بے معنی ہو کر رہ جائیں گے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی تحریکِ انصاف کا احتجاج پرامن ہو گا۔