پاکستان کے ذمہ قرضوں کا بوجھ ’’ایمر جنگ مارکیٹ‘‘ کی اوسط سے بڑھ گیا

14 اکتوبر 2016

اسلام آباد (عترت جعفری) پاکستان کے ذمہ پبلک ڈیٹ کا بوجھ ’’ایمرجنگ مارکیٹ‘‘ کے لئے تسلیم شدہ اوسط سے بڑھ گیا۔ پاکستان کے ذمہ عالمی مالیاتی ادارے کے قرضے منظور شدہ کوٹہ سے بہت زیادہ ہے اس لئے قرضہ پروگرام کے بعد بھی آئی ایم ایف کی مانیٹرنگ جاری رہے گی۔ فیسکو شیئرز فروری میں بکیں گے جبکہ پی آئی اے کے محدود شیئرز کی فروخت کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنر شپ کا عمل آئندہ سال اگست تک مکمل کر لیا جائے گا۔ مالی خسارہ کا ہدف 57 بلین روپے کے زائد اخراجات کے باعث حاصل نہیں ہوا۔ پروگرام کے عرصہ میں ٹیکس رعایات جو جی ڈی پی کے 2 فیصد کے مساوی تھی جو اب 1.3 فیصد میں ہو گئی ہیں۔ توانائی کی سبسڈیز جی ڈی پی کے 2 فیصد سے کم کر کے 0.6 فیصد ہو گئیں۔ ڈسکوز کے نقصانات 18.9 فیصد سے کم کر کے 17.9 فیصد ہوئے۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا کہ مالی خسارہ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے حکومتی اخراجات میں جی ڈی پی کے 0.3 فیصد کے مساوی مزید کمی لائے گی۔ ایف بی آر کے ذمہ ری فنڈ کلیمز205 بلین روپے تک ہو گئے۔ جی ایس ٹی کے ری فنڈ 89 بلین سے بڑھ کر 133 بلین روپے ہو گئے۔ پی آئی اے کے محدود شیئرز کی فروخت کے لئے ٹرانزیکشن کے ڈھانچہ کو 2016ء کے اختتام سے قبل حتمی شکل دی جائے گی جبکہ بولی کا عمل اگست 2017ء تک مکمل کیا جائے گا جبکہ سٹیل ملز کے ٹرانزیکشن جون 2017ء سے قبل مکمل کر لی جائے گی۔ کیسپکو کی فروخت مارچ 2017ء تک مکمل کی جائے گی۔ فیسکو کا آئی پی او فروری 2017ء میں ہو گا جبکہ اس کے بعد آئیسکو اور لیسکو کے آئی پی اوز ہوں گے۔ ان آئی پی اوز سے جو رقوم ملیں گی وہ بقایاجات کے حجم میں کمی لانے کے لئے استعمال کی جائے گی۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے یہ وعدہ بھی کیاکہ 2016-17ء کے لئے گیس ٹیرف کا نوٹیفکیشن اکتوبر میں جاری کر دیا جائے گا۔