فوجی عدالت کا فیصلہ معطل‘پشاور ہائی کورٹ نے مجرم کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا

14 اکتوبر 2016

پشاور (بیورو رپورٹ)پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت پانے والے کی سزاپر عملدرآمد روک دیا اوراپیل کو اسی نوعیت کی دیگردرخواستوں کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے مقدمے کاریکارڈ جبکہ وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔ دو رکنی بنچ نے یہ احکامات جمعرات کو سزائے یافتہ معتبر خان کی بیوی مسماۃ رقیدہ بی بی کی دائر اپیل پر جاری کئے جس میں موقف اختیار کیاگیا کہ معتبرخان کو 2009ء میں کبل سوات میں جرگہ مشران نے سکیورٹی فورسز کے حوالے کیاجس میں 29پنجاب بریگیڈکے سلمان اکبراورکرنل کاشف شامل تھے جس کے بعد مبینہ دہشت گرد معتبرخان کو درگئی ملاکنڈانٹرنمنٹ سنٹر میں رکھاگیا تاہم کچھ عرصہ قبل اس کی اپنے شوہر سے آخری ملاقات پیتھام انٹرنمنٹ سنٹر میں ہوئی تاہم 22ستمبر2016 ء کواسے میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کی شوہر کو فوجی عدالت سے سزائے موت ہوئی ہے جس کی چیف آف آرمی سٹاف نے توثیق بھی کردی ہے، رٹ میں موقف اختیارکیاگیا کہ کہ نہ تو اس کے خاندان کو ان سے ملاقات کاموقع دیاگیاہے اورنہ ہی ریکارڈ پر ایسی کوئی بات موجود ہے جس سے ثابت ہوکہ معتبرخان کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ آئین کے آرٹیکل10اے کے تحت ملزموں کو شفاف ٹرائل کاحق بھی نہیں دیا گیا ہے۔