یوم عاشور عقیدت و احترام سے منایا گیا‘ لاہور سمیت ملک بھر میں جلوس

14 اکتوبر 2016

لاہور/ اسلام آباد/ کراچی (خصوصی رپورٹر+ سپیشل رپورٹر+ نمائندہ خصوصی+ نامہ نگاران) نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی قربانیوں کی یاد تازہ کرنے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا اور اس سلسلے میں نکالے جانے والے جلوس اپنے مقررہ مقام پر پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئے۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شبیہہ علم اور تعزیئے کے جلوس بھی نکالے گئے۔ یوم عاشور کے موقع پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے، سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ سمیت ملک کے 26 شہروں میں موبائل سروس بند رہی اور حفاظتی اقدامات کے پیش نظرکراچی سمیت سندھ بھر میں، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور راولپنڈی میں بھی موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی تھی۔ کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، جلوس کے شرکا نے تبت سینٹر پر نماز ظہرین ادا کی جس کے بعد جلوس روایتی راستے ایم اے جناح روڈ سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر ہوا۔ لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس رات گئے نثار حویلی سے برآمد ہوا جو روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوا۔ شہر بھر میں جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ صوبائی حکومت نے پنجاب کے 24 اضلاع اور 10 شہروں کو حساس قرار دیا جس کے باعث پولیس کی بھاری نفری جلوسوں کی سکیورٹی پر مامور تھی۔ اس کے علاوہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے رینجرز اور پاک فوج کو بھی سٹینڈ بائی رکھا گیا۔ علاوہ ازیں پرامن یوم عاشور پر وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے تمام سکیورٹی ایجنسیز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ گذشتہ روز ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افواج پاکستان، رینجرز، ایف سی اور تمام صوبوں کی پولیس نے محرم الحرام کے تمام دنوں میں انتہائی اعلیٰ معیار کی سکیورٹی فراہم کی۔ فیصل آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق یوم عاشور کے موقع پر ضلع بھر کے جلوسوں میں عزاداری کے دوران زنجیر زنی سے 600 افراد زخمی ہو گئے‘ 50افراد کو الائیڈ و سول ہسپتال داخل کروایا گیا۔ سیالکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق نواحی قصبہ کوٹلی لوہاراں کی امام بارگاہ سے شبیہ ذوالجناح جلوس امام بارگاہ سے باہر نکالنے کے معاملے پر دو گروپوں میں تصادم ہوگیا جس کے نتیجہ میں فائرنگ اور اینٹوں و پتھروں کے تبادلے کی وجہ سے ڈی ایس پی صدر سرکل طارق سکھیرا سمیت 12 افراد زخمی ہو گئے۔ ہنگامہ آرائی کرنے پر 176افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ قصور سے نامہ نگار اور نمائندہ نوائے وقت کے مطابق قصور میں بھی یوم عاشور کے موقع پر نکالے جانے والے تعزیئے، ذوالجناح کے جلوس پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگئے ضلع کی تحصیلوں چونیاں، پتوکی، کوٹ رادھا کشن اور گردو نواح میں تعزیئے اور ذوالجناح جلوس نکالے گئے۔ انتظامیہ کی طرف سے امام بارگاہوں اور جلوس کے روٹ پر پولیس کی نفری سول ڈیفنس، ٹی ایم اے، پولیس قومی رضاکار، ہسپتال کے عملہ،بھی ہمراہ تھا۔ ننکانہ صاحب سے نامہ نگار اور نمائندہ نوائے وقت کے مطابق ضلع بھر میں 24جلوس نکالے گئے جبکہ مرکزی جلوس امام بارگاہ قصر فاطمةالزہرہ ننکانہ صاحب سے برآمد ہواجو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا بعد از نماز مغرب حسینی باغ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ اس موقعہ پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے۔ شیخوپورہ سے نامہ نگارخصوصی کے مطابق یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ گلستان زہرا سے برآمد ہوا جو اپنے روایتی، قدیمی راستوں سے ہوتا ہوا قبرستان کربلا جنڈیالہ روڈ پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر موبائل فون سروس معطل رہی۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق نواحی گاﺅںکرتو میں شبیہہ ذوالجناح کا جلوس دیکھنے کے دوران سکول کی خستہ حال چھت گرنے سے کئی عورتوںکو شدید چوٹیں آئیں۔
یوم عاشور منایا گیا